حیدرآباد: انسان کی زندگی اللہ کا عطاکردہ قیمتی انعام ہے، ایک گراںقدر نعمت ہے، اس کی حفاظت ہرایک پر لازم ہے، اگر وہ اس کی ناقدری کرتے ہوئے غیرضروری اُمور میں الجھ کر یا نقصان رساں کاموں میں ضائع کرے گا تو یہ اپنی ذات کے ساتھ ظلم کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس میں اللہ کی نافرمانی بھی شامل ہوجاتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے زندگی عطاکی اور اس کو سنبھال کر گزارنے‘ اس کی حفاظت کرنے اور اس کو اچھے کام میں لگانے کا حکم دیا‘۔
حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن بندے کے پیر اُس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے یہ نہ پوچھا جائے کہ جو زندگی دی گئی تھی اس کو کیسے گزارا‘ اور جو جوانی دی گئی تھی اس کو کن کاموں میں صرف کیا، قرآن میں زندگی کی قدر کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے سختی کے ساتھ روکا گیا، وعیدآئی ہے کہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے کو آگ میں ڈالا جائے گا۔
مولانا خلیل احمد ندوی نظامی‘ سابق ماہرِکتبات عربی وفارسی‘ محکمۂآثارِقدیمہ‘ چیئرمین صمدانی گروپ آف ایجوکیشنل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹس‘ کمپیوٹر ٹریننگ اینڈ لینگویجس سنٹر NCPUL وفانوسِ آگہی (تاریخِ اسلام وثقافتِ اسلامیہ سے نئی نسل کو واقف کرانے کیلئے کل ہند سطح پر انٹر اسکولس؍ کالجس مقابلۂ جات) حیدرآباد نے حج ہاؤز‘ احمدآباد‘ گجرات میں فانوس آگہی کے تحت جلسہ اصلاح معاشرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: آج کے معاشرے میں نت نئے مسائل ومشکلات پیدا ہورہے ہیں۔ آج ہرشخص موبائل فون ساتھ لیا ہوا نظر آتا ہے، چاہے وہ برسرروزگارہویا بے روزگارہو، عملی زندگی میں اس کو فون کی بالکل ضرورت نہ ہو، دوست واحباب اور رشتہ داروں کا اتنا وسیع حلقہ بھی نہ ہوکہ فون کا سہارا لیا جائے، پھربھی وہ اپنے ساتھ موبائل فون رکھا ہوا ہے، ہرلمحہ کال کی تعداد اور فون پر بات چیت کی طوالت بڑھتے جارہی ہے، ساتھ ہی سیل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھتے جارہی ہے، موبائل ہرایک کی ضرورت بنتے جارہا ہے، اس میں شک نہیں کہ متعدد فوائد کا یہ ذریعہ ہے‘ تعلیمی مواد کی فراہمی اس کے ذریعہ آسان ہوتی ہے‘ آن لائین کورسز کی تکمیل کی جاسکتی ہے‘ اپلیکیشن کی مدد سے ہرطرح کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں، کاروباری لین سے مفید ثابت ہورہا ہے، پیشہ ور افراد انٹرنیٹ کے ذریعہ اپنے ہنروپیشہ کا اندراج کرواکر گھربیٹھے کال کے ذریعہ روزی کا بندوبست کردیتے ہیں۔
آن لائن ہوکر ضرورت مند کی ضرورت پوری ہورہی ہے، ضرورت کے وقت متعلقہ شخص سے آسانی سے رابطہ ہوجاتا ہے، حالات وخیریت معلوم ہوتی ہے۔ اس سے بہت سے سماجی فوائد حاصل ہوتے ہیں، زندگی کی بہت سی مشکلات کو آسان کرنے میں موبائل فون کا اہم کردار ہے، اگر کم وقت کیلئے استعمال کیا جائے تو اس کے نقصانات وایذاء رساں اثرات سے ممکنہ حدتک بچاجاسکتا ہے، لیکن آج موبائل کا غیرضروری استعمال بہت زیادہ حدتک بڑھ چکا ہے، خاص طورپر نوجوان نسل سوشیل میڈیا کی وجہ سے بہت سارا وقت موبائیل فون پر گزارتے ہیں۔ اس کے نقصانات میں نفسیاتی وذہنی دباؤ‘ اعصابی کمزوری‘ جسمانی اعضاء میں درد‘ قوت سماعت پر اثر‘ مسلسل اسکرین پر نظر رہنے سے آنکھوں پر اثر‘ اس کی بینائی متاثر ہوسکتی ہے‘ جس کی بنا ڈیجیٹل آئی سٹرین‘ بھینگے پن کے خطرات‘ بے چینی‘ موٹاپا‘ معمول کی نیند متاثر ہوتی ہے‘ نیند کا دورانیہ کم ہوتا ہے‘ جس سے جسم کا مدافعتی نظام کمزور پڑتا ہے جو بہت سی بیماریوں کے خطرات کو بڑھاسکتا ہے، یادداشت میں کمزوری وکمرکے عام حرکات وسکنات بھی متاثر ہوتے ہیں، ٹیسٹنگ نیک جیسے عوارض کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے جو ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچاتا ہے، نہایت تیزچلنے والے دماغ کی رفتار سست پڑجاتی ہے۔ سورج کی شعاعوں کی طرح موبائیل فون کی شعاعیں جلد میں خشکی پیدا کرتے ہیں، اس سے جلدمیں پیدا ہونے والی کولاجن اور ایلاسٹن کا پروڈکشن رُک جاتا ہے اور پگمنٹیشن کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ صوتی لہروں اور تابکاری لہروں کے درمیان فون استعمال کرنے والے کا کیا حال ہوتا ہے‘ اس حقیقت سے بہت کم لوگ واقف ہیں‘ فون کے انٹینا کے قریب جسم کا جوحصہ ہوتا ہے اس کی توانائی فون کتنا جذب کررہا ہے اس کا کسی کو اندازہ نہیں‘ لمبے عرصہ تک موبائیل فون کے استعمال سے جو صحت کے ساتھ مسائل جنم لے رہے ہیں اور صحت پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں‘ اس طرف کوئی توجہ دینے تیار نہیں، موبائل فون سے ذرا کام کرتے ہی تھکان بڑھ جاتی ہے، پھرتیلاپن رُخصت ہوتا دکھائی دیتا ہے، آدمی اپنی ضروری ذمہ داریاں بھول جاتا ہے۔ خاندان کے افراد اور دوست واحباب کے ساتھ گزارا جانے والا وقت فون کے نذر ہوجاتا ہے۔ صحت کیلئے ضروری اُمورسے روگردانی ہوتی ہے۔ ڈپریشن کے خطرات سرپر منڈلاتے ہیں۔ زندگی کی دوڑمیں آدمی پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایک طرح کے جنون کا غلبہ ہوجاتا ہے، منفی ردعمل بڑھ جاتا ہے۔ سماجی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ صحت کے حوالے سے سیل فون کے جو نقصانات ہیں اور انسانی صحت پر اس کے جو منفی اثرات ہیں‘ اس کا تقاضہ ہے کہ ممکنہ حدتک موبائل فون سے بچاجائے، کیونکہ صحت کی حفاظت کے بارے میں اسلام نے بہت تاکید کی ہے، صحت وفراغت کا اللہ کی نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے۔
