تازہ ترین
جامعہ رحمانی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ کا روشن مرکز، مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی جامعہ رحمانی مونگیر آمد، طلبہ و اساتذہ سے خطاب،فکر و نظر ٹی وی اسٹوڈیو کا کیامعائنہسیمانچل کے تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کیلئے ہمیں متحدہ طور پرکرنی ہوگی کوشش : منوج وشواشآفات سے ہونے والی اموات پرملے گادوگنا معاوضہ، ایسے معاملات میںاب 8لاکھ روپے دے گی ریاستی حکومت ،وزیراعلیٰ نے فصلوں اور مویشیوں کے نقصان پر امدادی رقم میں بھی کیا اضافہجعلی نوٹ چھاپنے کی فیکٹری کا پردہ فاش، چاول مل میں چھاپے جارہے تھے جعلی نوٹ، چھاپہ ماری میں 100، 200 اور 500 روپے کے نوٹ بڑی مقدار میں برآمداذان اور بھجن کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی اجازت کا مطالبہ، مرزاپور سمیت متعدد دیہی علاقوں کے وفد نے ڈی ایم سے کی ملاقاتایک ادیب، ناقد، افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان ہم سےہوگیا جدا :پروفیسر ارتضیٰ کریم، شعبہ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میرٹھ میں ”صبا اکرام: تعزیتی جلسہ“ پر آن لائن پرو گرام کا انعقادمانو ایوننگ کالج میںنئے یو جی کورسز کے ساتھ پی جی کورس بھی ہوں گےشروع : پروفیسر سید عین الحسنانجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول نے 130ویں ہیرس شیلڈ مسلسل تیسری مرتبہ درج کی جیت
دیش

وکیل تبسم ظفر بنیں گی جموں وکشمیر کی پہلی خاتون جج، کولیجیئم نے کی سفارش

(پی این این )
سری نگر:جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے کولیجیئم نے عدالتِ عالیہ میں ججوں کی تقرری کے لیے 11 ناموں کی سفارش کی ہے، جن میں پہلی بار ایک کشمیری خاتون وکیل کا نام بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق تجویز کردہ افراد میں 10 وکلاء اور ایک عدالتی افسر شامل ہیں۔ ان ناموں میں اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل، ڈپٹی سالیسٹر جنرل اور سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جیسے سینئر قانونی ماہرین بھی شامل ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ فہرست میں شامل خاتون وکیل تبسم ظفر ہیں، جن کی تقرری کی منظوری کی صورت میں وہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی پہلی کشمیری خاتون جج بن جائیں گی۔ دیگر سفارش کردہ وکلاء میں وشال شرما، نامگیال وانگچک، جہانگیر اقبال گنائی، پون کمار کنڈل، طاہر مجید شمسی، انوپم رائنا، وکرم کمار شرما، امیت گپتا اور پرونَو کوہلی شامل ہیں، جبکہ یش پال بورنی واحد عدالتی افسر ہیں جنہیں اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس انتخابی عمل میں میرٹ، دیانتداری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور بار میں مقام کو بنیادی معیار بنایا گیا، جبکہ علاقائی اور سماجی نمائندگی کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ہائی کورٹ اپنی منظور شدہ تعداد کے مقابلے میں ججوں کی کمی کا سامنا کر رہا ہے، اور ان تقرریوں سے خالی آسامیوں کو پُر کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔