تازہ ترین
ریکھا گپتا نے اسپتال کے سَکھی ون اسٹاپ سینٹر کا کیا معائنہجامعہ سینئر سیکنڈری اسکول نےکی آئی آئی ٹی مدراس کے ساتھ تعلیمی شراکتاین ایس یو آئی کے کارکنوں نے کفن پہن کر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا کیامطالبہپولیس والے چھاتی پکڑتے ہیں،مظاہرین کا الزمچھوٹی صنعتوںکو فروغ دینے کیلئے حکومت کی نئی پالیسی،بہار کے اگلے بجٹ میں سرمایہ کاری پر ہوگی دولت کی بارش، نتیش کمار کی تشکیل کردہ کمیٹی نے سمراٹ حکومت کوسونپی رپورٹمدارس کی تعلیمی صورتحال اور ملحقہ کنونشن کیلئے میٹنگ منعقد، مدرسہ ایجوکیشن بورڈکا قیام اور ملحقہ مدارس، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی مرہون منتافسران سے ملی بھگت کے ذریعہ فرضی رجسٹری کراکر زمین پر قبضہ کر رہے ہیں ’زمین مافیا‘چھپرا : 6 ماہ پرانے تنازع پر ہوا خونی تصادم، چاقو زنی سے 3 افراد ہلاک
دلی این سی آر

ریکھا گپتا نے اسپتال کے سَکھی ون اسٹاپ سینٹر کا کیا معائنہ

نئی دہلی: دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے پیر کو لوک نایک اسپتال میں واقع سکھی ون اسٹاپ سینٹر کا معائنہ کر کے وہاں تشدد سے متاثرہ خواتین اور بچیوں کو فراہم کی جانے والی خدمات نیز شکایتوں کے ازالے کے نظام کا جائزہ لیا۔
گپتا نے ہدایت دی کہ دہلی کے تمام سکھی ون اسٹاپ سینٹرز کی تفصیلی ماہانہ فالو اپ رپورٹ اب وزیراعلیٰ دفتر کو بھیجی جائے۔ رپورٹ میں صرف معاملوں کی تعداد نہیں، بلکہ پولیس کو دی گئی اطلاع، ایف آئی آر کی صورتحال، ملزمان کے خلاف کارروائی اور متاثرہ خاتون کو ملنے والی حقیقی امداد کی تفصیلات بھی شامل کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس سے معلومات ملنے میں کسی بھی قسم کی تاخیر ہونے پر اسے بھی رپورٹ میں درج کیا جائے، تاکہ ایسے معاملوں کو سینئر پولیس حکام کے سامنے اٹھا کر وقت پر حل کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے پوکسو معاملوں میں خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بچیوں سے جڑے معاملوں کی معلومات مکمل راز داری کے ساتھ رکھی جائیں اور ایف آئی آر، پولیس کارروائی، ملزم کی گرفتاری نیز آگے کے قانونی عمل کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے۔ انہوں نے کونسلنگ کے نظام کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ہر معاملے کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے متاثرہ کی ضرورت کے مطابق مدد فراہم کی جانی چاہیے۔ جہاں فوری پولیس یا قانونی کارروائی ضروری ہو، وہاں بغیر کسی تاخیر کے متعلقہ ایجنسیوں کو متحرک کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سکھی ون اسٹاپ سینٹر کا مقصد متاثرہ خواتین کو ایک ہی چھت کے نیچے تحفظ، طبی، نفسیاتی و سماجی کونسلنگ، قانونی امداد اور پولیس تعاون فراہم کرنا ہے۔
ضرورت مند خواتین کو عارضی پناہ، کھانا، کپڑے اور دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی خاتون کا سینٹر تک مدد کے لیے پہنچنا اپنے آپ میں ایک اہم قدم ہے، اس لیے اسے یہاں محفوظ اور پروقار ماحول ملنا چاہیے۔ متاثرہ خاتون کو صرف امداد ہی نہیں، بلکہ احترام، تحفظ اور موثر عدالتی تعاون ملنا چاہیے۔” وزیراعلیٰ نے حکام کو یہ بھی یقینی بنانے کی ہدایت دی کہ جن خواتین کو طویل عرصے تک پناہ کی ضرورت ہے، ان کے لیے متعلقہ شیلٹر ہومز سے رابطہ قائم کر کے آگے کا انتظام کیا جائے۔

متعلقہ خبریں