تازہ ترین
بہار کےبرطرف امینوں نے حکومت کیخلاف کھولا مورچہ، ملازمت سے ہٹائے جانے پر امین مشتعل، احتجاج میں شدت لانے کی دھمکی، ہڑتالی امینوں کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کرنے اور ای-ماپی پورٹل پر ان کی شناختی آئی ڈی غیر فعال کرنے کے آمرانہ حکم پر نہیں رہیں گے خاموش: یونینانسانیت اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آج سے شروع ہوگا3 روزہ تبلیغی اجتماع، ملک بھر کے نامور علمائے دین کریں گے شرکت،ڈی ایم اور ایس ایس پی نے تیاریوں کا لیا جائزہپولیس پر لگے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری، مدھوبنی گولی باری معاملے پر جن سوراج کا شدید ردعمل،ریاستی سطح کی ٹیم نے گاؤں پہنچ کر متاثرہ خاندانوں سے کی ملاقات، یتیم بچوں کے مستقبل اور خاندان کی کفالت کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری ملازمت کا مطالبہ11 نومبر کو منعقد ہونے والے ’’مدارس اسلامیہ کنونشن‘‘ کی تیاریوں کے جائزہ کے بعد اطمینان کا اظہاراتر پردیش انتخابات کے پیش نظر پرینکا گاندھی سرگرم، سیٹوں کی تقسیم کے معاملے میں کانگریس کی قیادت بھی انہی کے حوالےدیوبند: مولانا اعجاز اور کارڈرائیور کی سڑک حادثہ میں دردناک موتجامعہ عائشہ للبنات چھٹمل پور میں’’ایک شام اولیاء اللہ کے ساتھ‘کے عنوان سے پروقار اور روحانی مجلس کا انعقاد’نفرت کے بڑے سے بڑے اندھیروں کو مٹا سکتا ہےمحبت کا ایک چھوٹا سا چراغ ‘، میرٹھ میںچودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں جشن دیوالی اور رنگو لی کا شاندار انعقاد
Bihar

ریاستی محکمۂ تعلیم میں بڑی بدعنوانی، کلرک نے ڈیجیٹل ریکارڈ میں جعل سازی کے ذریعہ کیا 76 لاکھ کا غبن،انتظامیہ نے کیا معطل

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے محکمۂ تعلیم میں ایک بڑے گھپلے کا انکشاف ہوا ہے۔ معاملہ پٹنہ کے ضلع تعلیمی افسر کے دفتر سے متعلق ہے، جہاں سرکاری رقم میں بڑے پیمانے پر غبن کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دفتر کی میکر لاگ اِن آئی ڈی (داخلے کے نظام) کا غلط استعمال کرتے ہوئے 76 لاکھ 71 ہزار 983 روپے غیر قانونی طور پر نکال لیے گئے۔ اس الزام میں ایک کلرک کو معطل کر دیا گیا ہے۔ معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد محکمۂ تعلیم میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
پٹنہ کے ضلع تعلیمی افسر یوگیش کمار کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے سے معلوم ہوا ہے کہ ایف این ایس ہائی اسکول، گلزار باغ میں تعینات کلرک وجے کرشن ودیارتھی نے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دفتر کے داخلی نظام کا بلا اجازت استعمال کیا۔
الزام ہے کہ اس نے محکمہ جاتی اور سرکاری خزانے سے 76 لاکھ 71 ہزار 983 روپے کی زائد اور غیر قانونی ادائیگی حاصل کی اور کرائی۔ اتنی بڑی رقم کے غبن میں مزید کن لوگوں کا ہاتھ ہے، اس کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ اس مالی بے ضابطگی کے معاملے میں ملزم کلرک کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔محکمہ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل سرکاری رقم کے عارضی غبن، دھوکہ دہی پر مبنی اور بلا اجازت ڈیجیٹل ریکارڈ میں ردوبدل، جعل سازی، ملی بھگت اور مجرمانہ خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی بنیاد پر ملزم کلرک کو فوری اثر سے معطل کرتے ہوئے اس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں ملزم کلرک کو اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
حکم نامے کے مطابق معطلی کی مدت کے دوران مذکورہ کلرک کا صدر دفتر بلاک تعلیمی افسر کے دفتر، گھوسوری میں مقرر کیا گیا ہے۔ معطلی کے دوران مقررہ صدر دفتر سے جاری کردہ حاضری کی تفصیلات کی بنیاد پر اسے گزارہ بھتہ دیا جائے گا۔ اس کے خلاف الزامات کی فرد الگ سے جاری کی جا رہی ہے۔
محکمۂ تعلیم میں پورے بہار میں اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی میں بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ کئی اساتذہ کو محکمہ کی جانب سے بعض مہینوں کی تنخواہ دو مرتبہ ادا کر دی گئی۔ کچھ اساتذہ نے اضافی رقم واپس کر دی، جب کہ بڑی تعداد میں ایسے اساتذہ بھی ہیں جنہوں نے یہ رقم واپس نہیں کی۔ اس معاملے میں کارروائی جاری ہے۔ کارروائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی اگلے ماہ کی تنخواہ جاری کی جائے گی۔

 

متعلقہ خبریں