تازہ ترین
سی پی میں کاکروچ جنتا پارٹی کا ترنگا مارچاتر پردیش میں لاؤڈ اسپیکر سے اذان دینے پر موذن کو گرفتار کرنے کی شدید مذمتریاستی محکمۂ تعلیم میں بڑی بدعنوانی، کلرک نے ڈیجیٹل ریکارڈ میں جعل سازی کے ذریعہ کیا 76 لاکھ کا غبن،انتظامیہ نے کیا معطلامارت شرعیہ میں مولانا ابو نصر فاروق و شہاب الدین سمیت دیگر کئی شخصیات کے لئے تعزیتی نشست کا انعقادڈاکٹر شعیب راہی کی ادبی خدمات پر کامیاب سیمینارمنعقد،پروفیسر احمد بدر سند اعزاز سے سرفرازسیوان:جیویکا گتھنی نے کامیابی سے’یوتھ موبلائزیشن مہم‘ کاکیا انعقاد،روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے تحت 10 نوجوانوں کو سیکیورٹی گارڈ کے عہدوں کے لیے کیاگیا منتخبسر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کے موقع پر سینٹ جانس کالج میں مضمون نویسی کا مقابلہ’تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی ضروری‘،شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں جشن سر سید تقریبات کا آغاز
دلی این سی آر

اتر پردیش میں لاؤڈ اسپیکر سے اذان دینے پر موذن کو گرفتار کرنے کی شدید مذمت

 

 

 

 

 

 

نئی دہلی : شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں کسی کی حق تلفی کی جائے گی تو آخرت میں شدید مواخذہ ہوگا ۔
مفتی مکرم احمد نے اتر پردیش کے ضلع بجنور کے تاریخی قصبہ نجیب آباد میں مقبرہ نواب نجیب الدولہ کی مسجد میں ظہر کی اذان لاؤڈ اسپیکر پر دینے کی پاداش میں موذن کی گرفتاری پر شدید غم و افسوس کا اظہار کیا ،اذان کے وقت ضلع کے ایس پی وہاں سے گذر رہے تھے انہیں اذان کی آواز آئی تو انہوں نے سخت ایکشن لیتے ہوئے مقامی پولیس کو ہدایت کی اور ایف آئی آر درج کی گئی اور موذن کو گرفتار کر کے لاؤڈ اسپیکر سسٹم کو ضبط کر لیا گیا ۔ مفتی مکرم نے کہا کہ الہ اباد ہائی کورٹ نے مقررہ ضابطہ کی پابندی کے ساتھ لاؤڈ اسپیکر کی اجازت دی ہے تو پھر یہ ایکشن کیوں؟ اگر ضابطہ کی خلاف ورزی تھی تو اس پر تنبیہ کی جا سکتی تھی دوسرے مذہب کے لوگ روڈ پر ڈی جے بجاتے ہیں ان پر ایکشن کیوں نہیں؟ ہمارا مطالبہ ہے کہ موذن پر مقدمہ واپس لیا جائے اور اقلیتی فرقہ کو ہراساں نہ کیا جائے ۔ مفتی مکرم نے کلکتہ کے کوسی پور علاقہ کے جیوتی نگر کالونی کے باشندوں پر پانی کی سپلائی بند کیے جانے کی شدید مذمت کی اور اسے غیر قانونی اور غیر انسانی فعل قرار دیا، بتایا جا رہا ہے کہ مغربی بنگال میں اسمبلی الیکشن کے بعد سے اس کالونی کے تقریبا پانچ ہزار افراد پانی کی سپلائی سے محروم ہیں اور اس آبادی میں آلودہ پانی سے صحت کے لیے خطرات پیدا ہو گئے ہیں چار ماہ سے یہ ظلم جاری ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ مغر بی بنگال حکومت پانی کی سپلائی بحال کرے اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اس پر کارروائی کر کے اس مسئلے کو حل کرائے۔

متعلقہ خبریں