تازہ ترین
ووٹ چوری کے خلاف کانگریس کاانوکھا احتجاج، بھجن گا کر جمہوری انداز میں کیامظاہرہ، مودی اور گیانیش کمار سے استعفیٰ کا مطالبہجینیس اکیڈمی فار بس گنج میں ندا فاضلی کی ادبی خدمات کا اعتراف ،پرنسپل نوشاد عالم کوملی ان کی شاعری کی شاندار سوغاتمحمد متفق احمد کواپنی شاندار خدمات کا ملا انعام,تفتیش، آپریشن اور سکیورٹی کے میدان میں نمایاں کارکردگی کے عوض آئی پی ایس میں دی گئی ترقیجامعہ ملیہ اسلامیہ میں یو پی ایس سی میلہ کے دوسرے ایڈیشن کا انعقاداولیوودیا گرلز اکیڈمی نیوز لیٹر کا رسم اجرا ء اور پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ کا شاندار انعقاداے ایم یو کی جانب سے کل ہند مضمون نویسی مقابلہ 2026 کے نتائج کا اعلاناے ایم یو کے مختلف شعبوں کےتحت دماغی صحت سے متعلق بیداری پروگرامآیوروید اور ہربل طب کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پرنس محبوب رحمانی کوڈاکٹریٹ کی ڈگری سےکیا گیا سرافراز
Bihar

بی جے پیکی بدعنوانی کی گنگوتری میں ڈبکی لگاتے ہی گناہ گاروں کےدھل جاتے ہیں سارے پاپ :تیجسوی

(پی این این)
پٹنہ:’’بولو جے سیارام، 5500 کروڑ کی لوٹ، سِرجن کے دُرجن کر رہے ہیں آرام…‘‘ کچھ اسی انداز میں بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے ریاست کے معروف سِرجن گھوٹالے میں کارروائی نہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر طنز کیا ہے۔ کل جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں نے تمام شواہد پر مٹی ڈال دی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آج سے ٹھیک نو برس قبل بہار میں 5500 کروڑ روپے کے سِرجن گھوٹالے کا پردہ فاش ہوا تھا۔
سرکاری خزانے کے 5500 کروڑ روپے لیڈروں، وزیروں اور افسران نے اپنے قریبی لوگوں کے کھاتوں میں منتقل کیے تھے۔ کئی سینئر بی جے پی لیڈروں اور مرکزی وزرا کے گھوٹالہ بازوں کے ساتھ لین دین اور قریبی تعلقات کے شواہد بھی ملے تھے، لیکن تحقیقاتی ایجنسیوں نے سب پر مٹی ڈال دی۔نو برس گزر جانے کے باوجود لوٹے گئے 5500 کروڑ روپے کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔ بی جے پی کی بدعنوانی کی گنگوتری میں ڈبکی لگاتے ہی گناہ گاروں کے سارے پاپ دھل جاتے ہیں۔’’آج سے ٹھیک 9 برس قبل بہار میں 5500 کروڑ روپے کے سِرجن گھوٹالے کا پردہ فاش ہوا تھا۔ سرکاری خزانے کے 5500 کروڑ روپے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار جی کے چہیتے لیڈروں، وزیروں اور افسران نے اپنے قریبی لوگوں کے نجی کھاتوں میں منتقل کیے تھے۔ کئی سینئر بی جے پی لیڈروں اور مرکزی وزرا کے گھوٹالہ بازوں کے ساتھ لین دین اور قریبی تعلقات کے واضح شواہد ملے تھے، لیکن تحقیقاتی ایجنسیوں نے سب پر مٹی ڈال دی۔9 برس گزر جانے کے باوجود لوٹے گئے 5500 کروڑ روپے کا نہ کوئی حساب ہے، نہ ہی کوئی ریکارڈ۔ بی جے پی کی بدعنوانی کی گنگوتری میں ڈبکی لگاتے ہی گناہ گاروں کے سارے پاپ دھل جاتے ہیں۔بولو جے سیارام، 5500 کروڑ کی لوٹ، سِرجن کے دُرجن کر رہے ہیں آرام!‘‘
واضح ہوکہ سال 2017 میں بانکا اور بھاگلپور کے سرکاری خزانے سے 12 کروڑ روپے کی رقم سِرجن مہیلا وکاس سمیتی لمیٹڈ کے کھاتے میں غیر قانونی طور پر منتقل کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ یہ رقم 2003-04 سے 2017 کے درمیان این جی او کے کھاتے میں منتقل کی گئی تھی۔ ابتدا میں اس معاملے کی جانچ پولیس نے کی تھی، بعد ازاں یہ کیس سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔