(پی این این)
پٹنہ: بہار میں ان دنوں جرائم پیشہ عناصر کی مسلسل بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور مجرمانہ وارداتوں کے پیش نظر اس حقیقت سے شاید ہی کسی کو انکار ہو کہ مجرموں کے دلوں سے اقتدار کا خوف اور حکومت کا رعب و دبدبہ بالکل ہی ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حکومتی سطح پر یہ دعویٰ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ منظم جرائم پر مؤثر انداز میں شکنجہ کسا گیا ہے، لیکن ذاتی رنجش، اراضی تنازعات، عشق و محبت کے معاملات اور غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات پر قابو پانے میں کوئی خاص کامیابی نظر نہیں آرہی ہے۔ آخر ایسا کیوں کہا جارہا ہے، اسے حالیہ واقعات کی روشنی میں بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔
حالیہ واقعات سے اس صورت حال کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 15 اکتوبر 2026 کی صبح بھوجپور ضلع کے آرہ شہر میں نوادہ تھانہ علاقے کے کنک پوری محلے میں موٹر سائیکل سوار نقاب پوش بدمعاشوں نے 72 سالہ سابق کسٹم سپرنٹنڈنٹ اور کشتریہ مہاسبھا کے بہار صدر رام کمار سنگھ کو گولی مار کر قتل کردیا۔ وہ صبح کی سیر کے لیے گھر سے باہر نکلے تھے۔ اسی طرح 16 اکتوبر 2026 کو سمستی پور ضلع کے دادپور گاؤں میں جرائم پیشہ عناصر نے مرچ لے کر جارہے پک اَپ ڈرائیور سورج کمار کو گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔
بہار کے گوپال گنج ضلع کے تھاوے تھانہ علاقے کے خان پور عظمت گاؤں میں ساتویں جماعت کی 12 سالہ طالبہ سنجنا کماری کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ 12 اکتوبر 2026 کو دوپہر تقریباً 3 بجے وہ اپنے گھر کے قریب مویشیوں کے باڑے میں چارہ ڈالنے گئی تھی، جس کے بعد سے لاپتہ ہوگئی۔ دو روز بعد، 14 اکتوبر 2026 کی صبح اس کی لاش پڑوسی اور پٹی دار کے پرانے مکان کے پیچھے سے برآمد ہوئی۔جب بھی جرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری پولیس انتظامیہ پر ڈال دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے، کیونکہ جرائم کی روک تھام پولیس کی ذمہ داری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر مجرموں کے حوصلے کیسے پست کیے جائیں؟ آئیے، اس معاملے کا تجزیہ کرتے ہیں۔
کسی بھی ریاست میں جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس کا غیر جانب دارانہ کردار انتہائی ضروری ہے۔ کئی بار پولیس کے طرزِ عمل پر سیاسی بنیادوں پر کارروائی کرنے کے الزامات بھی لگتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے توآرجے ڈی لیڈراوربہار اپوزیشن کے لیڈر تیجسوی یادو نے پولیس انکاؤنٹر کے معاملے میں الزام لگایا کہ ایک مخصوص ذات کے لوگوں کو نشانہ بناکر ہلاک کیا جارہا ہے۔ اگر پولیس کا رویہ ایسا ہوگا تو اس کے ردعمل میں جرائم میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
جرائم پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر مجرمانہ معاملے کی تفتیش نہ صرف درست ہو بلکہ اسے جلد از جلد مکمل بھی کیا جائے۔ تفتیش میں تاخیر یا غلط سمت میں تحقیقات بھی مجرموں کے حوصلے بڑھاتی ہیں۔ چند روز قبل تفتیش میں خامیوں اور مقررہ وقت پر درست شواہد پیش نہ کیے جانے کے باعث قتلِ عام کے قصورواروں کو راحت مل گئی۔ کرپی گاؤں میں ہوئے جس قتلِ عام کے معاملے میں نچلی عدالت نے ملزمین کو سزا سنائی تھی، اسی مقدمے میں ہائی کورٹ نے شواہد کی کمی کے باعث انہیں راحت دے دی۔ ایسے واقعات سے مجرموں کے اندر جرائم کرنے کا حوصلہ بڑھ سکتا ہے۔ نیٹ طالبہ معاملے میں بھی تفتیش درست طریقے سے نہ کیے جانے کے الزامات لگے۔ اس معاملے میں پیش کیے گئے شواہد بھی مبینہ طور پر واقعے کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔
وہیںفوری انصاف نہ ملنا بھی مجرموں کے حوصلے بڑھاتا ہے۔ بہار کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد نتیش کمار نے تیز رفتار مقدمات کی سماعت کے ذریعے مجرموں کو جیل بھیجنے کا کام کیاتھا۔ جلد انصاف کی فراہمی کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کا نظام قائم کیا گیا۔ اس سے مجرموں میں حکومت کا خوف پیدا ہوا اور جرائم میں کمی آئی۔ منظم جرائم پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ذاتی رنجش، باہمی جھگڑوں اور اراضی تنازعات جیسے جرائم میں بھی کمی دیکھنے کو ملی، لیک اب ایک بار پھر بہار میں جرائم پیشہ افرادوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور آئے دن مجرمانہ واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
