ارریہ:(پی این این)سابق صدرِ جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا یومِ پیدائش ہر سال 15 اکتوبر کو منایا جاتا ہے، جسے بھارت اور مختلف تعلیمی اداروں میں عالمی یومِ طلبہ (World Students’ Day) کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے اسکولوں، کالجوں اور تعلیمی اداروں میں طلبہ اور طالبات کے لئے جنرل نالج (GK) جنرل سائنس ( GS) پر مشتمل کوئز مقابلے منعقد کئے جاتے ہیں، جن میں ان کی زندگی، سائنسی کارناموں، میزائل پروجیکٹس اور کتابوں سے متعلق سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ارریہ شہر کا واحد اقلیتی تعلیمی ادارہ” آزاد اکیڈمی ارریہ نے ہندوستان کے سابق صدر جمہوریہ و میزائل مین اے پی جے عبدالکلام کی یوم پیدائش کے موقع پر طلبہ اور طالبات کے درمیان سائنس( GS ) متبادل جوابات پر مبنی تحریری مقابلہ کا انعقاد ہوا، جس میں آزاد اکیڈمی کے تقریباً 200/ طلبہ اور طالبات شریک مقابلہ ہوئے۔ ان دوسو بچے اوربچیوں میں سے دسویں پوزیشن تک کے کامیاب 10/ اسٹوڈنٹس کو اے پی جے عبدالکلام ایوارڈ و سرٹیفکیٹ یہاں کے معزز پرنسپل جناب عبید الرحمٰن، مختلف اساتذہ کرام سمیت پٹنہ کوچنگ سینٹر کے ڈائریکٹر اور انعامات کے اسپونسر جناب مظفر حسین کے مبارک ہاتھوں سے دیئے گئے۔ اس سائنس کوئز مقابلہ میں صدف آرزو سلمہا نے پہلی پوزیش، فرحان احمد نے دوسری پوزیشن، عافیہ شمیم تیسری پوزیشن، آر این کمار پاسوان نے چوتھی پوزیشن اور عفت پروین نے پانچویں پوزیشن حاصل کر سائنس میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کوئز مقابلہ کے اختتام پر ایک پر وقار”تقسیم انعامات تقریب” آزاد اکیڈمی کے پرنسپل جناب عبید الرحمن کی صدارت اور اسی اکیڈمی کے سائنس ٹیچر الحاج ماسٹر ارشد انور الیف کی حسن نظامت میں منعقد ہوئی۔ جس میں افتتاحی کلمات کے تحت یہاں کے سائنس ٹیچر الحاج ماسٹر ارشد انور الیف نے بچوں سے سائنس کوئز کی افادیت پر بولتے ہوئے کہا کہ کوئز کے ذریعے سائنس کے مختلف شعبوں (حیاتیات، فزکس، کیمسٹری اور فلکیات) کے بارے میں نئی اور دلچسپ معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ نصابی اور کورس کی کتابوں میں پڑھے گئے مشکل سائنسی قوانین اور نظریات کوئز کے سوالات کی شکل میں زیادہ آسانی سے سمجھ میں آ جاتے ہیں۔ امتحانات سے پہلے کوئز میں حصہ لینے سے پورے نصاب کی اہم باتیں جلدی اور مؤثر طریقے سے ذہن نشین ہو جاتی ہیں۔ کوئز کے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کے لئے دماغ کو سوچنا پڑتا ہے، جس سے طلبہ اور طالبات میں منطقی اور تنقیدی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ بار بار سائنسی حقائق کو یاد کرنے اور کوئز میں دہرانے سے انسان کی یادداشت (Memory) تیز ہوتی ہے اور سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ وقت کی پابندی کے ساتھ جواب دینے سے سیکنڈوں میں صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور صدارتی خطاب میں پرنسپل جناب عبید الرحمٰن صاحب نے کہا کہ روایتی پڑھائی کے مقابلے میں کوئز ایک کھیل کی طرح ہوتا ہے، جس سے سائنس جیسے خشک مضمون میں بھی بچوں کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔ کوئز میں حصہ لینے سے بچوں میں صحت مند مقابلے (Healthy Competition) کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کی تحریک دیتا ہے۔ صحیح جواب دینے پر ملنے والی داد یا انعام سے بچوں کے خود اعتمادی کا گراف اوپر جاتا ہے۔آخر میں انعامات کے اسپانسر مظفر حسین نے تمام شرکاء مقابلہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پوزیشن ہولڈرز کو مبارک باد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر آزاد اکیڈمی کے طلبہ اور طالبات سمیت یہاں کے تمام اساتذہ موجود تھے، جن میں غلام سرور، ارشد بھایی پورنداہا، محمد مظہر عرف پپو بھائی، محمد خورشید، فہیم احمد، ماسپر مظہر الحق، مفتی تنزیل الرحمن اور اسعد عالم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
