(پی این این)
میرٹھ:ایک ادیب، ناقد، افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان ہم سے جدا ہوگیا۔صبا اکرام کے ساتھ پورا ایک گروپ تھا جو ایک مخلصین ادب کا گروپ تھا۔دونوں ملکوں کے ادیبوں کے لیے بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم آسانی سے مل نہیں سکتے۔ ہم لوگ پڑوسی ملک کے ادبا و شعرا کی کتابیں پڑھتے رہتے ہیں۔
صبااکرام جیسے لوگ جو مستقل ادب کی خد مت کرتے رہے، ان کے جانے سے افسوس تو ہوتا ہی ہے،گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی اور قمر رئیس وغیرہ سے ان کے اچھے تعلقات تھے۔ آرٹ کونسل کے پروگرام میں انہوں نے ہماری بہت خد مت کی تھی۔یہ الفاظ تھے معروف محقق و ناقد پروفیسرارتضیٰ کریم کے جو آیو سا اور شعبہئ اردو کے زیر اہتمام منعقد ”صبا اکرام: تعزیتی جلسہ“ میں اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی اور ایوسا کی طرف سے اور آپ سب کی طرف سے ان کی مغفرت کی دعا کرتا ہو۔ اللہ ہمارے صبا اکرام کو جنت الفردوس عطا فرمائے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔مہمانان کے بطور پروفیسر ارتضی کریم] سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹس وصدر شعبہئ اردو، دہلی یو نیورسٹی[، پروفیسر زین رامش]ڈین فیکلٹی آف آرٹس و صدر شعبہئ اردو، ونو وا بھاوے یونیورسٹی، ہزاری باغ، بہار[،پروفیسر نسیم انجم] معروف فکشن نگار و کالم نگار، کراچی[، فہیم الاسلام انصاری]نائب صدر، ادارہ یاد گارِ غالبؔ، کراچی[، زیب اذکار حسن]معروف صحافی، فکشن نگار، شاعر، کراچی[،پروفیسر ریشما پروین]صدر ایوسا، لکھنؤ[ نے آن لائن شر کت، تعارفی کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی، نظامت کے فرائض عرفان عارف]ریسرچ اسکالر، شعبہئ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ[ اور شکریے کی رسم شعبہئ اردو کی طالبہ نایاب نے ادا کی۔
صبا اکرام کا تعارف پیش کرتے ہوئے ڈا کٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ صبا اکرام شاعر بھی تھے اور ناقد بھی، افسا نہ نگار بھی تھے، ناول نگار بھی۔ آپ نے کالم نگاری کے حوالے سے بھی مقبولیت پائی۔ آپ ہزاری باغ میں 1945ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کی تخلیقات میں، آپ کی جدو جہد اور تجربات کا رنگ شامل ہے۔ سورج کی صلیب، آئینہ کا آدمی، جدید افسا نہ: چند صورتیں، اعتراف و انحراف، شہزاد منظر: فن اور شخصیت وغیرہ آپ کی اہم کتب ہیں۔ میں ان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔
پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ جدید تنقید میں صبا اکرام کی کتاب ہما ری اور آپ کی کافی مدد کرتی ہے۔ انہوں نے بہت سے رسائل بھی ہمیں بھیجے۔ ان کی شاعری اور تخلیقی کتب میں ہندوستانیت کا رنگ نظر آ تا ہے۔ وہ سب کا خیال تو رکھتے ہی تھے مگر چھوٹے لوگوں کا بھی وہ بہت خیال کرتے تھے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ایسی معتبر شخصیت ہم سے جدا ہوگئی ہے۔فہیم الاسلام انصاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صبا اکرام”شب خون“ سے جڑے رہے۔ شمس الرحمن فاروقی آپ کو بڑا شاعر قرار دیتے تھے۔ ادب سے ان کا لگاؤ بہت گہرا تھا۔ میں نے ان کی ایک نظم بھی رسالے میں شائع کرائی تھی۔ صبااکرام ادب نواز لوگوں میں تھے اور بے باک شاعر تھے۔
زیب اذکار حسن نے کہا میرا تعلق صبا اکرام سے اپنے عزیزوں کی طرح تھا۔ ادبی محفلوں میں،میں اکثر ان کے ساتھ رہتا تھا”جدید افسانہ: چند صورتیں“ ایسی کتاب تھی جس میں افسا نہ نگاروں پر مدلل گفتگو ملتی ہے۔ اسی زمانے میں مظہر جمیل کی بھی کتاب آئی۔صبا اکرام کے یہاں جو فکشن، غزلیں، نظمیں وغیرہ ہیں ان میں نفسیات، سچائی، اصلیت اور منتشر معاشرہ کی تصاویر ملتی ہیں۔ ان کی نظم”مشورہ“ میں معاشرہ کی چلتی پھرتی تصاویر نظر آ تی ہیں۔پروفیسر نسیم انجم نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صبا اکرام با اخلاق اور محترم انسان تھے۔ ان کے علم و شائستگی کا احوال بہت سے لوگوں نے پیش کیا۔ صبا اکرام بنیادی طور پرشاعر تھے۔
پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ کرا چی کے بزرگوں میں صبا اکرام کی بڑی عزت تھی۔ انتظام کے حوالے سے بھی آپ بہت اہم کردار ادا کرتے تھے۔ آرٹ کونسل کراچی کے ادبی پروگراموں میں آپ آگے آگے رہتے تھے۔ آپ کبھی کسی کی برائی نہیں کرتے تھے۔ صبا اکرام کوادب میں بھی انفرادی حیثیت حاصل تھی۔ہم ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ وہ بڑے ادیب تھے۔ اسی لیے ہم سب ان کا نام احترام کے ساتھ لے رہے ہیں۔ صبا اکرام جیسا انسان آج ہم نے کھو دیا ہے۔ پروگرام سے ڈاکٹر آصف علی،ڈاکٹر شاداب علیم،ڈاکٹر الکا وششٹھ،سیدہ مریم الٰہی،محمد شمشاد،فرحت اختر، محمد عیسیٰ رانا،مہوش اور دیگر طلبہ و طالبات آن لائن و آف لائن جڑے رہے۔
ایک ادیب، ناقد، افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان ہم سےہوگیا جدا :پروفیسر ارتضیٰ کریم، شعبہ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میرٹھ میں ”صبا اکرام: تعزیتی جلسہ“ پر آن لائن پرو گرام کا انعقاد
