(پی این این)
دیوبند:تھانہ مرزا پور علاقے کی مختلف دیہی آبادیوں اور مرزا پور پول کے لوگوں نے مساجد میں مائیک کے ذریعے اذان دینے پر پابندی عائد کیے جانے کے معاملے میںآج چودھری ذاکر علی ایڈوکیٹ کی قیادت میں ضلع مجسٹریٹ سہارنپور سے ملاقات کی۔ وفد نے ڈی ایم کو پورے معاملے سے واقف کراتے ہوئے مساجد میں اذان اور مندروں میں بھجن کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت دیے جانے کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں وفد نے تحریری درخواست بھی پیش کی۔
ڈی ایم نے وفد کو ایس ایس پی سہارنپور سے ملاقات کے لیے بھیجا، جہاں ایس پی دیہات نے وفد کے ارکان کی بات سنی اور یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے میں اعلیٰ افسران سے گفتگو کے بعد جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ ایس پی دیہات نے کہا کہ مساجد اور اپنے احاطے کے اندر مائیک کے ذریعے اذان دی جا سکتی ہے۔ اس پر وفد کے ارکان نے بتایا کہ وہ پہلے سے ہی مسجد کے احاطے کے اندر اذان دے رہے ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی رہنما ہدایات کے مطابق دیگر مذہبی عبادات کی طرح اذان کے لیے بھی مقررہ ضابطوں کے تحت اجازت دی جائے۔
وفد کی جانب سے ڈی ایم کو دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ تھانہ مرزا پور پولیس نے علاقے کی مساجد اور مندروں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان اور بھجن پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو مذہبی امور کی انجام دہی میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اذان کے لیے مقررہ اوقات کے مطابق صرف تین منٹ اور ہندو مذہبی روایات کے مطابق مناسب وقت پر بھجن کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں آئندہ ۰۱ نومبر کو دوبارہ ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کریں گے۔ وفد میں مرزا پور پول کے علاوہ محمود پور جاٹو والا، پاڑلی، گاڈا اور قاسم پورہ سمیت مختلف دیہی آبادیوں کی مساجد کے متولی اور ذمہ داران شامل تھے۔ ان کے ساتھ مقامی وکلا بھی موجود رہے۔ ملاقات کرنے والوں میں فضل الرحمٰن، ماسٹر امیر احمد، ہارون، راقب علی، کاشف، الیاس، سلطان، مفید، حسین اور نثار سمیت دیگر لوگ شامل تھے۔
