اتر پردیش
آنگن باڑی بچے کی بنیادی نشوونما کا پہلا زینہ: مونیکا تنیجا
دکشو تسو کے موقع پر گود لیے گئے گاؤں کے آنگن باڑی مراکز کا کیاگیامعائنہ
(پی این این)
لکھنؤ:آج خواجہ معین الدین لینگویج یونیورسٹی کے ذریعے گود لئے گاؤں میں آنگن باڑی مراکز کااترپردیش کی گورنر اور یونیورسٹی کی چانسلر کے ہدایات کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی رہنمائی میں معائنہ کیا گیا اس معائنہ ٹیم کی قیادٹ این ایس ایس کوارڈینیٹر اور کلچرل کمیٹی کی چیرپرسن ڈاکٹر نلنی مشرا نے کی ۔اس ٹیم میں مونیکا تنیجااور ڈاکٹر راج کمار شامل تھے۔ اس جائزے کا بنیادی مقصد بچوں کی نگہداشت، تعلیم اور آنگن باڑی کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کا اندازہ لگانا تھاتاکہ جائزے کے بعد کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر گود لئے گئے گاؤں کے آنگن باڑی مراکز کی بہتری کے لئے ایک لائحۂ عمل تیار کیا جاسکے۔آنگن باڑی مراکز کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے جن معیارات کو بنیاد بنایا گیا ان میں بالخصوص مراکز کی صفائی ستھرائی، بچوں کی باقاعدہ حاضری، صحت اور تغذیہ کی صورتحال، ذاتی و اجتماعی صفائی کے انتظامات اور بچوں کے لیے ماحول کی دوستانہ فضا کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا۔اس موقع پر کمیٹی کے اراکین نے مراکز میں موجود بچوں سے گفتگو بھی کی اور ان کی تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا۔
اس موقع پرمونیکا تنیجا نے کہا کہ آنگن باڑی بچے کی بنیادی نشوونما کا پہلا زینہ ہےاس لیے ان اداروں کی مضبوطی دراصل سماج کے مستقبل کی مضبوطی ہے۔ اگر یہ مراکز بہتر ہوں تو بچوں کی تعلیمی، ذہنی اور جسمانی ترقی بھی یقینی ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ آنگن باڑی کارکنان کو جدید تربیت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ نئے تدریسی طریقوں اور صحت سے متعلق آگاہی کے پروگراموں کو بہتر طور پر نافذ کر سکیں۔ ساتھ ہی، والدین کو بھی وقتاً فوقتاً آگاہی ورکشاپس میں شامل کیا جائے تاکہ وہ بچوں کی صحت اور تعلیم میں فعال کردار ادا کریں۔اس موقع پر ڈاکٹر راج کمار سنگھ نے آنگن باڑی مراکز کو مقامی تاریخ اور ثقافت سے جوڑنے کی تجویز پیش کی۔آخر میںڈاکٹر نلنی مشرا نے صفائی اور صحت کے حوالے سے بیداری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صفائی اور صحت کے معیار پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر آنگن باڑی مراکز میں متوازن غذا اور صحت کی جانچ باقاعدگی سے ہو تو یہ بچے مستقبل میں بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ آنگن باڑی میں روزانہ ہاتھ دھونے، صاف پانی پینے اور صفائی کے بنیادی اصولوں کو عملی طور پر سکھایا جانا چاہیے تاکہ بچے کم عمری ہی سے صحت مند عادات اپنا سکیں۔”انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر آنگن باڑی مرکز میں ایک صحت ریکارڈ رجسٹر ہونا چاہیے جس میں ہر بچے کی نشوونما، وزن اور قد کا باقاعدہ اندراج کیا جائے۔ اس سے نہ صرف بچوں کی جسمانی حالت پر نظر رکھی جا سکے گی بلکہ غذائی قلت جیسے مسائل کی بروقت نشاندہی بھی ہو سکے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہیونیورسٹی اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ آنگن باڑی مراکز میں تعلیم، صحت اور صفائی کے شعبوں میں نئی پہل کی جائے۔ اس کے تحت اساتذہ، طلبہ اور مقامی کمیونٹی کو ساتھ لے کر ایک مربوط ماڈل تیار کیا جائے گا تاکہ یہ مراکز مستقبل میں رول ماڈل کے طور پر سامنے آئیں۔
uttar pradesh
جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کوہی دی جائے گی ترجیح ،بی جے پی صدر نتن نبین کی سابق ریاستی صدور اور این ڈی اے کے اتحادی رہنماؤں سے ملاقات، اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا لیا جائزہ
(پی این این)
لکھنؤ: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نبین نے اتوار کے روز اپنے دورہِ اتر پردیش کے دوران پارٹی کے سابق صوبائی صدور اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حلیف جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ میٹنگیں کیں اور آنے والے اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔
آج صبح منعقدہ میٹنگ میں مسٹر نوین نے بی جے پی کے سابق صوبائی صدور سے ملاقات کی اور تنظیمی تجربات، تنظیمی مضبوطی اور سال 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ میٹنگ میں سینئر لیڈروں نے اپنے تجربات شیئر کیے، جن پر قومی صدر نے سنجیدگی سے گفتگو کی۔
اس کے بعد مسٹر نتن نبین نے این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس اہم میٹنگ میں راشٹریہ لوک دل سے ترلوک تیاگی، نشان پارٹی سے سنجے نشان، سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) سے اوم پرکاش راج بھر اور اپنا دل (ایس) سے آشیش پٹیل شامل ہوئے۔
میٹنگ کے دوران اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں، جنہیں قومی صدر نے غور سے سنا۔ ذرائع کے مطابق، مسٹر نتن نبین نے واضح کیا کہ سال 2027 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی اور اتحاد کی جانب سے صرف جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو ہی ترجیح دی جائے گی۔
بی جے پی قیادت کا ماننا ہے کہ 2027 کے انتخابات کے پیش نظر تنظیم کو بوتھ کی سطح تک مزید مضبوط کیا جائے گا اور این ڈی اے کی تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ بہتر تال میل قائم کر کے انتخابی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ قومی صدر کا یہ دورہ اسی وسیع انتخابی تیاری کا ایک اہم حصہ مانا جا رہا ہے۔
uttar pradesh
تعلیمی بیداری کے لئے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت،جامعہ دعوۃ الحق معینیہ چررھو میں جمعیۃ علماء کی میٹنگ میںعلما کا خطاب
(پی این این)
دیوبند:جامعہ دعوۃ الحق معینیہ چررھو رامپور منیہاران میں جمعیۃ علماء کی میٹنگ بعنوان اصلاح معاشرہ تعلیمی بیداری منظم مکاتب کے قیام پر غور و خوض کو خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے نائب صدر مولانا شمشیر قاسمی نے کہا ہے کہ قرآن و حدیث کی رو سے معاشرہ کی اصلاح کا اولین درس اپنی ذات اور اپنے اہل خانہ سے شروع ہوتا ہے کل روز قیامت ہر شخص سے اس کے ما تحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت ہے اس بات کی کہ اپنی اولاد کے ایمان اور عقائد کی حفاظت کے لیے ہر شخص کو فکر مند رہنا چاہئے۔مولانا شمشیر قاسمی نے کہا کہ نوجوان نسل میں ارتداد کے بڑھتے واقعات بتانے کے لیے کافی ہیں کہ اس وقت محنت کی کتنی ضرورت ہے منظم مکاتب ارتداد کے بڑھتے واقعات کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ مولانا شمشیر قاسمی نے کہا ہے کہ معاشرہ کو سودی لعنت نشہ، جوا سٹہ ظلم وزیادتی وہ دیگر جرائم سے پاک کرانے میں ہر مسلمان کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرد و خواتین میں درس قران درس حدیث کے حلقہ ہر گھر میں تعلیم و تربیت کا عمومی مزاج بنانے کی ضرورت ہے ۔قاری شوقین الحسنی و مفتی عمیر نے کہا ہے کہ معاشرہ میں تعلیم کی کمی کے سبب بے شمار خرافات نے جنم لیا ہوا ہے۔ تعلیمی بیداری کے لئے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر مولانا ثوبان، قاری مکرم حسین ،ماسٹر ارشد ماجری ،مولانا عبد القادر، مولانا قمر ڈاکٹر ثمریاب وغیرہ موجود رہے۔
uttar pradesh
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کی سماجی اور قومی ذمہ داریاں,مسلمانوں کو ایک فعال، مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے اسلام : فیض الرحمن
(پی این این)
دیوبند:اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف فرد کے ذاتی کردار کی تعمیر کرتا ہے بلکہ اجتماعی زندگی کے اصول بھی طے کرتا ہے۔ انہی بنیادی اصولوں میں ایک انتہائی اہم تصور الولاء والبراء ہے۔ یہ دراصل ایمان کی روح اور اسلامی شناخت کی بنیاد ہے، جو ایک مسلمان کو صحیح اور غلط، حق اور باطل، اور خیر و شر کے درمیان واضح فرق کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار مسلم راشٹریہ منچ میرٹھ کے کنوینرفیض الرحمن نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ ”الولاء” کے معنی ہیں محبت، وفاداری، تعلق اور حمایت، جبکہ ”البراء” کے معنی ہیں بیزاری، دوری، عدم اتفاق اور دستبرداری۔
اسلامی اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کو اللہ اس کے رسولؐ اور ایمان والوں سے محبت اور وفاداری رکھنی چاہیے، اور ظلم، فتنے اور برائی سے نفرت اور دوری اختیار کرنی چاہیے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں اس اصول کا بار بار ذکر کیا گیا ہے تاکہ مسلمان اپنی فکری اور عملی زندگی میں اعتدال اور راست بازی کو برقرار رکھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگ اس تصور کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں اور اسے انتہا پسندی، نفرت یا سماجی دوری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، حالانکہ اسلام کا اصل پیغام اعتدال، انصاف اور انسانی فلاح و بہبود ہے۔ الولاء والبراء کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے ایمان کی بنیاد پر حق کا ساتھ دے اور باطل سے دور رہے، لیکن ساتھ ہی انسانی ہمدردی، انصاف اور سماجی بھلائی کے اصولوں کو بھی ملحوظِ خاطر رکھے۔
فیض الرحمن نے کہا کہ اسلام مسلمانوں کو ایک فعال، مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک سچا مسلمان صرف اپنی ذات کی اصلاح تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اپنے معاشرے اور ملک کی ترقی میں بھی اہم (تعاون) دیتا ہے۔ قرآن میں بار بار زمین پر فساد نہ پھیلانے اور اصلاح کی کوششیں کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح، نبی کریم ﷺ نے سب سے بہتر انسان اسے قرار دیا ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔اس تناظر میں اگر الولاء والبراء کو سمجھا جائے تو یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی وفاداری کو حق، انصاف، ایمانداری اور انسانیت کے ساتھ جوڑیں۔ ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں امن، رواداری، بھائی چارے اور انصاف کو فروغ دے۔ وہ تعلیم، صحت، معیشت اور اخلاقیات کے شعبوں میں مثبت کردار ادا کرے اور ہر اس عمل سے بچے جو معاشرے میں انتشار اور بگاڑ پیدا کرے۔انہوںنے کہا کہ اسلام نے شہری حقوق اور فرائض پر بھی خصوصی زور دیا ہے۔ ایک مسلمان جس ملک میں رہتا ہے، وہاں کے قوانین کا احترام کرنا، اس کی سالمیت کی حفاظت کرنا اور اس کی ترقی میں حصہ لینا اس کا مذہبی فریضہ ہے، بشرطیکہ یہ سب شریعت کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک مثالی ریاست کی بنیاد رکھی، جہاں مختلف مذاہب اور قبائل کے لوگ امن اور انصاف کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام دوسروں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی (Peaceful Co-existence) کی تعلیم دیتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنے کردار اور رویے سے دوسروں کے لیے ایک مثال بنے، نہ کہ سختی یا نفرت کے ذریعے انہیں دور کرے۔آج کے دور میں، جب دنیا متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، مسلمانوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے دین کی صحیح تصویر پیش کریں۔ انہیں تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، سماجی خدمت اور قومی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ دراصل یہی ”الولاء” کا عملی تقاضا ہے کہ ہم اپنے دین اور اقدار کے وفادار رہیں اور انہیں دنیا کے سامنے مثبت شکل میں پیش کریں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
