Connect with us

uttar pradesh

ملا رونق لکھنوی کے شاگرد تھےجسٹس آنند نرائن : رضوان احمد فاروقی

Published

on

لکھنؤ:رنج وغم کی کیفیت ایک فطری اور شدید انسانی ردعمل ہے۔ جو کسی بڑے نقصان، صدمے یا عزیزواقارب کی جدائی پر ہر کسی ہوتاہے۔ اس کیفیت حساس دل انسان شدید اداسی، ذہنی کش مکش، تناؤ اور دلی تکلیف محسوس کرتا ہے۔ لکھنؤ کے حساس دل شعراء نے ” رنج وغم” کو بطور ردیف برتا، تو رنج وغم کی تاریخی حقیقت بشکل اشعار سامنے آئی ۔ خوب خوب اشعار سننے میں آئے۔
موقع تھا ” مسرور ایجوکیشنل سوسائٹی کے ماہانہ مشاعرے کا، جو ہمیشہ کی طرح سینٹ روز پبلک اسکول گڑھی پیر خاں، میں ہوا۔ نظامت رضوان احمد فاروقی نے کی بحثیت صدر ممتاز صحافی وافسانہ نگار احمد ابراہیم علوی نے شرکت فرمائی اور اپنے پرجوش خطاب میں کہا۔ نوجوان شاعری کے ذریعے اردو میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔ اچھے اشعار کہہ رہے ہیں ۔ انھیں دوسری زبانوں کے مطالعے کے ساتھ دنیا کے حالات کا بعینہ مشاہدہ کرنا چاہئے۔ بطور سرپرست محمد فاروق جاذب لکھنوی شریک مشاعرہ رہے۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے مرزا شارق لاہر پوری اور محسن قدوائی نے شرکت کی اور مہمان اعزازی کے طور پر نجمی لکھنوی مشاعرے کا حصہ رہے ۔ جسٹس آنند نرائن کے استاد لکشمی نرائن رونق لکھنوی کے شعری مجموعے کا رسم اجراء بدست احمد ابراہیم علوی ہوا۔
واضح رہے کتاب کے مرتب بزرگ شاعر نجمی لکھنوی ہیں، جنھیں سبھی نے مبارک باد پیش کی۔ ڈاکٹر منصور حسن خاں نے ان کے جذبے کو سراہا۔ رضوان احمد فاروقی نے کہا۔ 99 برس عمر پانے والے تعلیم یافتہ شاعر کا شعری اثاثہ شائع کرنے والا شخص بجا طور پر لائق تحسین و ستائش ہے۔
انھوں نے مزید کہا۔ لکشمی نرائن رونق لکھنوی جیسے بے لوث خادمین ادب پر تحقیقی مقالات لکھے جانے چاہئے۔
مشاعرے میں پڑھا گیا منتخب کلام درج ذیل ہے :
پیار جب اس کا اس سے سنبھلتا نہیں
کیسے دیکھے گی بیٹے کی ماں رنج وغم
جاذب لکھنوی
دوستوں کی محفل میں جب بھی مسکراتا ہوں
مجھ پہ ٹوٹ پڑتا ہے آسمان رنج وغم
مرزا شارق لاہر پوری
ہر حقیقت کے ہیں ترجماں رنج وغم
یوں ہی جاتے نہیں رائیگاں رنج وغم
نجمی لکھنوی
تونے چاہا بہت زیر کرلے ہمیں
سر نہ ہونے دیا ہم نے خم رنج وغم
محسن قدوائی
اٹھ گیا ہے زمانے سے میرا بھرم
رنج وغم رنج وغم رنج وغم رنج وغم
شیدا صدیقی
مسرور اس خیال سے مغموم ہے بہت
لائے کہاں سے ڈھونڈکے اشعار رنج وغم
مسرور شاہ جہاں پوری
جب سے ہوا ہے باعث عرفان رنج وغم
میرے لئے ہے عیش کا سامان رنج وغم
اشعر علیگ
ایک دل سیکڑوں ہیں الم، رنج وغم
تیری زلفوں کے ہیں پیچ سخن، رنج وغم
حیدر علوی
روپڑیں جو بیاں کردیں ہم
رنج وغم، رنج وغم، رنج وغم
رضوان احمد فاروقی
ہمارے حوصلوں کو یہ نئی پرواز دیتے ہیں
سبق دیتے ہیں ہم کو اک نیا ہربار رنج وغم
ناظم بریلوی
مولا کبھی تو بھیج مسرت کی بارشیں
بڑھتے ہی جارہے ہیں غریبوں کے رنج وغم
ڈاکٹر اقبال حسین
لے جاتے ہیں یہ اوج ثریا سے بھی پرے
فکر بشر کو دیتے ہیں رفتار رنج وغم
کاوش شوکتی
دشمنوں نے سازشیں ایسی بنی ہیں ہر طرف
زندگانی ہوگئی ہے کربلائے رنج وغم
ڈاکٹر منصور حسن خاں
سرخی چشم فلک یہ کہہ رہی ہے بار بار
سن رہے ہیں عرش والے بھی صدائے رنج وغم
ضیا تقوی
حساب رکھیں گے کب تک فضول باتوں کا
یہ زندگی ہے ملیں گے تمام رنج وغم
سریواستوا باہم
مذکورہ شعراء کے علاوہ ڈاکٹر عتیق فاروقی، نیلو فر، اعظم قریشی، ڈاکٹر عرش لکھنوی، فیضان خان وغیرہ مشاعرے کا کردار رہے۔ نجمی لکھنوی نے ڈاکٹر منصور حسن خاں کاشکریہ ادا کیا اور منصور خاں نے جملہ شعراء کا۔ نیز آئندہ ردیف ” مسرت” کا اعلان کیا ۔ یہ مشاعرہ اگست کے تیسرے ہفتے ہوگا۔ ان شااللہ

uttar pradesh

پریشانی کاسبب بنی بارش ،ٹیچرز کالونی کے گھروں میں بھرا کئی فٹ پانی

Published

on

دیوبند:آج صبح ہونے والی زبردست موسلادھار بارش دیوبند اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے لئے بے انتہاء پریشانیوں کا سبب ثابت ہوئی ہے ۔دیوبند میں چاروں طرف پانی بھراہوا ہے اور فلائی اوور سے گندا پانی ٹپک رہا ہے جبکہ شہر کی ٹیچرز کالونی کے گھروں میں کئی کئی فٹ پانی بھرگیا ۔
تفصیل کے مطابق پیر کے روز صبح سویرا سے ہونے والی موسلادھار بارش نے دیوبند اور آس پاس کے دیہی علاقوں میں پانی نکاسی کے نظام کی پول کھول دی ہے ۔کئی گھنٹوں تک مسلسل ہونے والی بارش کی وجہ سے دیوبند کے متعدد علاقوں میں خاص کر نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے وہیں ہائی وے پر واقع ٹیچرز کالونی کے گھروں میں دو سے تین فٹ تک پانی بھر گیا ہے ۔
گھر وں میں بارش کا گنداپانی بھرجانے کی وجہ سے گھر کے قیمتی سامان بھی خراب ہوگئے ہیں ۔محکمہ موسمیات نے آئندہ 24گھنٹوں میں بہت زیادہ بارش ہونی کی پیشین گوئی کی ہے اگر بارش کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پانی بھرجانے کی صورت حال مزید ابتر ہوجائے گی خاص طور پر نشیبی علاقوں کے رہائش پذیر افراد کو اپنے گھروں کے سامان کو محفوظ رکھنے کا مسئلہ پیدا ہوجائے گا ۔
دیوبند ہائی وے پر واقع فلائی اوور کے نیچے بھی بارش کا پانی پریشانی کاسبب بنا ہوا ہے ۔فلائی اوور سے ٹپکنے والے گندے پانی کی وجہ سے سڑک سے گزرنے والے لوگوں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔کانوڑیاترا کے دوران بڑی تعداد میں ادھر سے گزرنے والے لوگوں کو گندے پانی کے فلائی اوور سے ٹپکنے اور سڑکوں پر پانی کے جمع ہوجانے سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔بارش نے ایک مرتبہ پھر دیوبند میں پانی نکاسی کے نظام پر سوال کھڑے کردیئے ہیں ۔عوام نے میونسپل بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کے جن علاقوں میں بارش کا پانی بھر گیا ہے اس کے نکاسی کے لئے فوری انتظامات کئے جائیں گے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

سبکدوش ہیڈ کلرک محمد اکبر نظر فاؤنڈیشن کے ذریعہ اعزاز سے سرفراز

Published

on

دیوبند:نگر پالیکا پریشد دیوبند کے ہیڈ کلرک کے عہدے سے سبکدوش ہونے والے محمد اکبر کو ان کی تقریباً 37 سالہ مخلصانہ خدمات کے اعتراف میں نظر فاؤنڈیشن کی جانب سے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر فاؤنڈیشن کے صدر نجم عثمانی نے انہیں شال اوڑھاکر اور سپاس نامہ پیش کرکے عزت افزائی کی۔
تقریب میں سب سے پہلے نجم عثمانی نے محمد اکبر کے اعزاز میں جاری کیا گیا سپاس نامہ پڑھ کر سنایا۔ سپاس نامہ میں ان کی ایمانداری، فرض شناسی، محنت، سادگی، خوش اخلاقی اور عوامی خدمت کے جذبے کو سراہا گیا اور بتایا گیا کہ محمد اکبر نے 17 نومبر 1988 سے 31 جولائی 2026 تک نگر پالکا پریشد دیوبند میں مختلف اہم شعبوں میں پوری دیانت داری، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیں۔اس موقع پر نجم عثمانی نے کہاکہ ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ گزارا گیا خدمت کا دور انسان کی سب سے بڑی پہچان بن جاتا ہے۔ محمد اکبر نے 37 سالہ اپنی ملازمت کے دوران نہ صرف محکمہ کا وقار بڑھایا بلکہ اپنے حسنِ سلوک اور بہترین طرزِ عمل سے ساتھی ملازمین اور شہریوں کے دلوں میں بھی ایک خاص مقام بنایا ہے۔
ضرار بیگ نے کہا کہ سرکاری ملازمت سے سبکدوشی صرف عہدے سے رخصتی کا نام ہے، جبکہ انسان کی اچھی خدمات اور اس کا نیک برتاؤ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ محمد اکبر کی خدمات کا دور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال اور مشعلِ راہ رہے۔سرکاری ملازمت سے سبکدوشی صرف عہدے سے رخصتی کا نام ہے، جبکہ انسان کی اچھی خدمات اور اس کا نیک برتاؤ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔
محمد اکبر کی خدمات کا دور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال اور مشعلِ راہ رہے گا۔تقریب میں شاہنواز عثمانی، ضرار بیگ، سمیر چودھری، مرتضیٰ قریشی، محمد کوکب، محمد عیسیٰ، ریحان قریشی، شاکر سلمانی، عبداللہ شہزاد، نبیل نوشاد سمیت دیگر معززین موجود رہے۔آخر میں محمد اکبر نے نظر فاؤنڈیشن کی جانب سے کی گئی عزت افزائی پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز ان کے لیے انتہائی جذباتی اور یادگار لمحہ ہے اور دورانِ ملازمت ملنے والے تعاون اور عزت کو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

Continue Reading

uttar pradesh

ایم ایل اے اومکار، ڈی ایم و ایس پی اور ضلع صدر بھوپیندر نے کانوڑیوں پر کی پھولوں کی بارش

Published

on

بجنور:ماہِ شراون کی کانوڑ یاترا کے پیش نظر پیر کے دن بجنور میں عقیدت و بھکتی کا نظارہ دیکھنے کو ملا۔ ایم ایل اے نہٹور اوم کمار، ضلع مجسٹریٹ جسجیت کور، پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھیشیک جھا، بی جے پی ضلع صدر بھوپیندر سنگھ اور لینا سنگل نے مل کر کانوڑ یاتریوں کا شاندار استقبال کیا۔تھانہ منڈاولی علاقہ کے چڑیا پور بارڈر پر بی جے پی ایم ایل اے اوم کمار، ڈی ایم بجنور جسجیت کور اور ایس پی بجنور ابھیشیک جھا پہنچے اور کانوڑیوں پر پھولوں کی بارش کی اور پھل تقسیم کیے۔
اس کے بعد تمام افسران موٹا مہادیو مندر پہنچے۔ وہاں یاتریوں کو پرساد تقسیم کیا اور ان کی یاترا اور سہولیات کے متعلق معلومات لیں۔ ساتھ ہی سیکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
افسران نے تمام یاتریوں کو بخیریت اور مبارک یاترا کی نیک خواہشات پیش کیں۔ اس موقع پر انتظامیہ اور دیگر افسران بھی موجود رہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network