uttar pradesh
دہلی کی سڑکوں پر طلبہ کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جا رہا ہے
دیوبند:آل انڈیا متحدہ محاذ مظفر نگرکے ذمہداران نے ملک کی صدر کے نام ایک میمورنڈم ڈی ایم کو پیش کیا جس میںکہا گیا ہیکہ ہمارا قدیم ہندوستان شروع سے ہی تعلیم کا مرکز رہا ہے اور بیرون ملک سے لوگ یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے تھے، لیکن بدقسمتی سے آج تعلیم کا معیار بہت گر چکا ہے اور دارالحکومت دہلی کی سڑکوں پر طلبہ کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رام پور میں واقع جوہر یونیورسٹی ہے جس میں 3000 طلباء ہر مضمون پڑھ رہے ہیں اور 90 اساتذہ اس عظیم الشان یونیورسٹی میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔ لیکن حال ہی میں رام پور کے ضلع مجسٹریٹ نے 15 دنوں کے بعد اس جوہر یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 عمارتوں کو نقشے کی منظوری نہ ہونے کی بنیاد پر بلڈوز کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے طلباء کا مستقبل تاریک ہو جائے گا، جو ہمارے ملک کا مستقبل ہے۔تحریر میں کہا گیا ہیکہ لہٰذا آل انڈیا متحدہ محاذ آپ سے اپیل کرتی ہے کہ اس عظیم الشان علمی مندر جوہر یونیورسٹی کو محفوظ رکھیں اور کسی بھی طرح کے انہدام سے گریز کریں۔ یہ ایک بہت بڑا احسان ہوگا۔ میمورنڈم دینے والوں میں شاہنواز آفتاب (صدر)، محبوب عالم ایڈووکیٹ، مزمل حیدر ایڈووکیٹ، فیضیاب خان ایڈووکیٹ، حاجی منور حسین ایڈووکیٹ، ندیم اختر، سمیر ایڈووکیٹ، ندیم ایڈووکیٹ، قاضی سعود ایڈووکیٹ، اسرار علوی ایڈووکیٹ، سید جاوید ایڈووکیٹ، شاہ ویز ایڈووکیٹ، جاوید ایڈووکیٹ وغیر ہ موجود تھے ۔
uttar pradesh
کانوڑ یاترا میں ڈی جے چلانے والوں کیلئے انتظامیہ کی سخت وارننگ
دیوبند:کانوڑ یاتر ا 2026کو محفوظ ،پرامن اور منظم طریقہ سے منعقد کرانے کے مقصد سے ریزرو پولیس لائن میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کی مشترکہ صدارت میں ڈی جے چلانے والوں کے ساتھ ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ۔اس میٹنگ میں سہارنپور کے علاوہ یمنانگر ،کرنال اور آس پاس کے علاقوں اور صوبوں سے آنے والے ڈی جے چلانے والوں اور تیارکرنے والوں نے شرکت کی ۔میٹنگ کے دوران انتظامیہ اور افسران نے واضح کیا کہ کانوڑ یاتر ا کے دوران ڈی جے ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کی اونچائی نیز ان کی صوتی سطح انتظامیہ کی جانب سے طے شدہ ضابطوں کے مطابق ہی رکھی جائے ۔افسران نے کہا کہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ضلع انتظامیہ نے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جے کے ذریعہ بجائے جانے والے گیتوں اور بھجنوں کی پین ڈرائیوتیار کرکے پہلے متعلقہ تھانہ انچارج کے پاس جمع کرانی ہوگی اور پولیس کی جانب سے گانوں اور بھجنوں کو صحیح قرار دینے اور اجازت دینے کے بعد ہی ڈی جے کے ذریعہ بجایا جاسکے گا ۔افسران کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایسے گیتوں پر پابندی عائد کرنا ہے جن گائوں اور بھجنوں سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہوں یا کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں ۔اس کے علاوہ ڈی جے والی گاڑیوں کو پولیس وانتظامیہ کی جانب سے طے شدہ راستوں پر چلائے جانے کی اجازت ہوگی ۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کچے یا غیر منظور شدہ راستوں سے آمد ورفت مکمل طور پر بند رہے گی ۔میٹنگ کے دوران افسران نے بتایا کہ کانوڑی جانے کے راستوں پر وسیع پیمانہ پر حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ان راستوں کی سیکٹر مجسٹریٹ پولیس افسران اور پیٹرولنگ کرنے والی ٹیمیں مسلسل نگرانی کررہی ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ضابطوں پر عمل کرنے والے ڈی جے چلانے والوں اور کانوڑ میں جانے والے عقیدت مندوں کو پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے آمد ورفت کے انتظامات کے علاوہ حفاظت اور دیگر ضروری سہولیات مہیا کرائی جائے گی ۔
uttar pradesh
ملا رونق لکھنوی کے شاگرد تھےجسٹس آنند نرائن : رضوان احمد فاروقی
لکھنؤ:رنج وغم کی کیفیت ایک فطری اور شدید انسانی ردعمل ہے۔ جو کسی بڑے نقصان، صدمے یا عزیزواقارب کی جدائی پر ہر کسی ہوتاہے۔ اس کیفیت حساس دل انسان شدید اداسی، ذہنی کش مکش، تناؤ اور دلی تکلیف محسوس کرتا ہے۔ لکھنؤ کے حساس دل شعراء نے ” رنج وغم” کو بطور ردیف برتا، تو رنج وغم کی تاریخی حقیقت بشکل اشعار سامنے آئی ۔ خوب خوب اشعار سننے میں آئے۔
موقع تھا ” مسرور ایجوکیشنل سوسائٹی کے ماہانہ مشاعرے کا، جو ہمیشہ کی طرح سینٹ روز پبلک اسکول گڑھی پیر خاں، میں ہوا۔ نظامت رضوان احمد فاروقی نے کی بحثیت صدر ممتاز صحافی وافسانہ نگار احمد ابراہیم علوی نے شرکت فرمائی اور اپنے پرجوش خطاب میں کہا۔ نوجوان شاعری کے ذریعے اردو میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔ اچھے اشعار کہہ رہے ہیں ۔ انھیں دوسری زبانوں کے مطالعے کے ساتھ دنیا کے حالات کا بعینہ مشاہدہ کرنا چاہئے۔ بطور سرپرست محمد فاروق جاذب لکھنوی شریک مشاعرہ رہے۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے مرزا شارق لاہر پوری اور محسن قدوائی نے شرکت کی اور مہمان اعزازی کے طور پر نجمی لکھنوی مشاعرے کا حصہ رہے ۔ جسٹس آنند نرائن کے استاد لکشمی نرائن رونق لکھنوی کے شعری مجموعے کا رسم اجراء بدست احمد ابراہیم علوی ہوا۔
واضح رہے کتاب کے مرتب بزرگ شاعر نجمی لکھنوی ہیں، جنھیں سبھی نے مبارک باد پیش کی۔ ڈاکٹر منصور حسن خاں نے ان کے جذبے کو سراہا۔ رضوان احمد فاروقی نے کہا۔ 99 برس عمر پانے والے تعلیم یافتہ شاعر کا شعری اثاثہ شائع کرنے والا شخص بجا طور پر لائق تحسین و ستائش ہے۔
انھوں نے مزید کہا۔ لکشمی نرائن رونق لکھنوی جیسے بے لوث خادمین ادب پر تحقیقی مقالات لکھے جانے چاہئے۔
مشاعرے میں پڑھا گیا منتخب کلام درج ذیل ہے :
پیار جب اس کا اس سے سنبھلتا نہیں
کیسے دیکھے گی بیٹے کی ماں رنج وغم
جاذب لکھنوی
دوستوں کی محفل میں جب بھی مسکراتا ہوں
مجھ پہ ٹوٹ پڑتا ہے آسمان رنج وغم
مرزا شارق لاہر پوری
ہر حقیقت کے ہیں ترجماں رنج وغم
یوں ہی جاتے نہیں رائیگاں رنج وغم
نجمی لکھنوی
تونے چاہا بہت زیر کرلے ہمیں
سر نہ ہونے دیا ہم نے خم رنج وغم
محسن قدوائی
اٹھ گیا ہے زمانے سے میرا بھرم
رنج وغم رنج وغم رنج وغم رنج وغم
شیدا صدیقی
مسرور اس خیال سے مغموم ہے بہت
لائے کہاں سے ڈھونڈکے اشعار رنج وغم
مسرور شاہ جہاں پوری
جب سے ہوا ہے باعث عرفان رنج وغم
میرے لئے ہے عیش کا سامان رنج وغم
اشعر علیگ
ایک دل سیکڑوں ہیں الم، رنج وغم
تیری زلفوں کے ہیں پیچ سخن، رنج وغم
حیدر علوی
روپڑیں جو بیاں کردیں ہم
رنج وغم، رنج وغم، رنج وغم
رضوان احمد فاروقی
ہمارے حوصلوں کو یہ نئی پرواز دیتے ہیں
سبق دیتے ہیں ہم کو اک نیا ہربار رنج وغم
ناظم بریلوی
مولا کبھی تو بھیج مسرت کی بارشیں
بڑھتے ہی جارہے ہیں غریبوں کے رنج وغم
ڈاکٹر اقبال حسین
لے جاتے ہیں یہ اوج ثریا سے بھی پرے
فکر بشر کو دیتے ہیں رفتار رنج وغم
کاوش شوکتی
دشمنوں نے سازشیں ایسی بنی ہیں ہر طرف
زندگانی ہوگئی ہے کربلائے رنج وغم
ڈاکٹر منصور حسن خاں
سرخی چشم فلک یہ کہہ رہی ہے بار بار
سن رہے ہیں عرش والے بھی صدائے رنج وغم
ضیا تقوی
حساب رکھیں گے کب تک فضول باتوں کا
یہ زندگی ہے ملیں گے تمام رنج وغم
سریواستوا باہم
مذکورہ شعراء کے علاوہ ڈاکٹر عتیق فاروقی، نیلو فر، اعظم قریشی، ڈاکٹر عرش لکھنوی، فیضان خان وغیرہ مشاعرے کا کردار رہے۔ نجمی لکھنوی نے ڈاکٹر منصور حسن خاں کاشکریہ ادا کیا اور منصور خاں نے جملہ شعراء کا۔ نیز آئندہ ردیف ” مسرت” کا اعلان کیا ۔ یہ مشاعرہ اگست کے تیسرے ہفتے ہوگا۔ ان شااللہ
uttar pradesh
بڈھانہ علاقہ میں مکان منہدم ہونے سے چار بچوں سمیت 5کی موت
دیوبند:مظفرنگر ضلع کے بڈھانہ علاقے کے گاؤں حبیب پور سیکری میں مسلسل بارش کے باعث ایک مکان منہدم ہونے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق ہونے کے المناک واقعہ پر جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ کے ذمہ داران نے سینئر ضلع نائب صدر محمد آصف قریشی بڑھانوی کے ہمراہ گاؤں حبیب پور سیکری پہنچ کر جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور مرحومین کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ نہایت دردناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ مکان کے مالک اسلام الدین اور ان کے چار معصوم بچوں کی المناک وفات سے پورا علاقہ سوگوار ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران نے مرحومین کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ نے حادثے میں زخمی بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ، پولیس اور محکمہ صحت کی جانب سے فوری راحت و بچاؤ کے کام شروع کرنے اور زخمیوں کو بروقت اسپتال منتقل کرکے علاج فراہم کرنے کے اقدامات کو سراہا۔ ساتھ ہی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔وفد نے حکومت اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو حکومت کی جانب سے مقررہ مالی امداد، رہائشی سہولت اور دیگر تمام ضروری امدادی وسائل بلا تاخیر فراہم کیے جائیں۔اس موقع پر حافظ عبدالغفار، حافظ تحسین، مولانا عمر، شاہد قریشی، قاری قطب الدین سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود رہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
