تازہ ترین
بہار کےبرطرف امینوں نے حکومت کیخلاف کھولا مورچہ، ملازمت سے ہٹائے جانے پر امین مشتعل، احتجاج میں شدت لانے کی دھمکی، ہڑتالی امینوں کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کرنے اور ای-ماپی پورٹل پر ان کی شناختی آئی ڈی غیر فعال کرنے کے آمرانہ حکم پر نہیں رہیں گے خاموش: یونینانسانیت اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آج سے شروع ہوگا3 روزہ تبلیغی اجتماع، ملک بھر کے نامور علمائے دین کریں گے شرکت،ڈی ایم اور ایس ایس پی نے تیاریوں کا لیا جائزہپولیس پر لگے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری، مدھوبنی گولی باری معاملے پر جن سوراج کا شدید ردعمل،ریاستی سطح کی ٹیم نے گاؤں پہنچ کر متاثرہ خاندانوں سے کی ملاقات، یتیم بچوں کے مستقبل اور خاندان کی کفالت کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری ملازمت کا مطالبہ11 نومبر کو منعقد ہونے والے ’’مدارس اسلامیہ کنونشن‘‘ کی تیاریوں کے جائزہ کے بعد اطمینان کا اظہاراتر پردیش انتخابات کے پیش نظر پرینکا گاندھی سرگرم، سیٹوں کی تقسیم کے معاملے میں کانگریس کی قیادت بھی انہی کے حوالےدیوبند: مولانا اعجاز اور کارڈرائیور کی سڑک حادثہ میں دردناک موتجامعہ عائشہ للبنات چھٹمل پور میں’’ایک شام اولیاء اللہ کے ساتھ‘کے عنوان سے پروقار اور روحانی مجلس کا انعقاد’نفرت کے بڑے سے بڑے اندھیروں کو مٹا سکتا ہےمحبت کا ایک چھوٹا سا چراغ ‘، میرٹھ میںچودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں جشن دیوالی اور رنگو لی کا شاندار انعقاد
uttar pradesh

ہندوستان کی آزادی میں زبان و ادب کا بڑااہم کردار:پروفیسرآمنہ تحسین

میرٹھ:(پی این این)ہندوستان کی آزادی میں زبان و ادب کا بڑااہم کردار رہا ہے۔میں یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ اردو زبان و ادب کا اگر کردار نہ ہوتا تو ملک کی آ زادی ممکن نہیں تھی۔ 1857ء سے قبل جب ہم دیکھتے ہیں تو پتہ چلتاہے کہ تقریباً دوسوبرسوں میں لکھا گیا ادب ہمارے شعور کو بیدار اور آزادی کو پیش کرتا ہے۔ ذہن سازی اور مزاحمت پر بھی بہت کچھ لکھا گیا۔1857 ء کے بعد جب عملی طور پر عملی میدان میں آتے ہیں تو بہت سی تحریکوں کو فروغ دیا گیا۔ انگریزوں کے خلاف عوامی تحریک نے بہت کام کیا۔ میڈیا نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ قلم کاروں نے میڈیا کا سہارا لے کر جنگ آزادی کی بات کی۔
یہ الفاظ تھے پرو فیسرآمنہ تحسین کے جو آیو سا اور شعبہئ اردو کے زیر اہتمام منعقد ”جنگ آزادی اور ہندوستانی ادب“ موضوع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا ابولکلام آزاد اور حسرت مو ہانی کے اخبارات کو بند کردیا گیا۔بہت سے مجا ہدین ِ آ زادی نے صحافت کے ذریعے بڑا کام کیا۔تمل اور تیلگو میں بھی ایسا ادب ملتا ہے جو آزادی کی بات کرتا ہے۔ مختلف زبانوں میں خواتین نے بھی خوب لکھا۔ملک کی آزادی کے لیے اور قومی جذبوں کے لیے خوب لکھا۔رقیہ سخاوت حسین نے بنگالی میں سبھدراکماری چوہان نے ہندی میں،رما بائی نے مراٹھی میں سُبّا لشکمی نے تمل کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی ناولوں، افسانوں، قطعات وغیرہ میں جنگ آزادی سے متعلق خوب لکھا ہے۔
موضوع کا تعارف پیش کرتے ہوئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ اگست کا پورا مہینہ ہی آزادی سے تعلق رکھتا ہے۔ سبھی زبانوں نے آزادی میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ داستانوں، ناولوں اور ہمارے ادب نے آزادی کے لیے کس طرح راہ ہموار کی آج کے پروگرام میں ہم دیکھیں گے اور سمجھیں گے کہ ہمارے ادب نے جنگ آزادی میں کس طرح اپنا کردار ادا کیا۔
آخر میں اپنی صدارتی تقریر میں پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ آزادی کے حوالے سے اردو میں خوب کام ہو رہا ہے۔ مغل سلطنت کے بعد ہماری تہذیب پر حملہ کیا گیا تب راجہ رام موہن رائے، ہمارے علمائے دین کے ساتھ ساتھ بہت سی خواتین سامنے آئیں۔1857ء میں سب ایک ہوجاتے ہیں۔ہمیں اقبال،ٹیگور، بسمل کے بارے میں پڑھنا ہوگا،نذر سجاد حیدر، قرۃ العین حیدر وغیرہ نے آزادی کے جذبات کو اجا گر کیا۔تجارت کے لیے انگریز ہندوستان آئے اور پورے ہندوستان میں پھیل گئے جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورے ہندوستان کو اپنے اندر سمیٹ لیا تو اب یہاں کے رہنے والوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔ پیغام آفاقی، جوگندر پال،سجاد حیدر یلدرم وغیرہ نے جنگ آزادی کو پیش کیا۔پروگرام سے ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر الکا وششٹھ، محمد عیسیٰ رانا، سعید احمد سہارنپوری، محمد شمشاد اور طلبہ و طالبات جڑے رہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔