تازہ ترین
چراغ پاسوان نے ترقیاتی اسکیموں کارکھاسنگ بنیاد، ویشالی میں پی ایچ ای ڈی کے نئے اور جدید عمارت کا مرکزی وزیرنے کیا افتتاحسیتامڑھی میں پانچ نئی نگر پنچایتوں کے قیام کی راہ ہموار، سُرسنڈ اور بیلسنڈ نگر پنچایت کو نگر پریشد کا درجہ دینے کی تجویز منظور، 20 نکاتی کمیٹی کی میٹنگ میں متفقہ طور پر قرارداد پاسچند ہزار روپے کی رشوت نے پہنچایا جیل، گیاجی میں نگرانی ٹیم کے جال میں پھنسے دو سرکاری امینٹھیکے پرکام کرنے والے ملازمین کیلئے حکومت کا تحفہ، ریاست کی یوگی حکومت نے اعزازیہ میں کیا ڈیڑھ گنا تک کا اضافہبے زمین سماج کو ملنا چاہیےزمین کا حصہ، پتھک جن شکتی پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجا میمورنڈمطالبات کے حق رائے دہی سے متعلق اے ایم یو کی وضاحتدہلی فسادات معاملے کے پانچ ملزمان بریآستانۂ عالیہ حضرت پیر مرتضیٰ شاہ قادریؒ پر روحانیت و عقیدت کا عظیم الشان اجتماع
دیش

چار ہزار مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹانے کا معاملہ،بنگال سرکار سے ہائی کورٹ نے طلب کی وضاحت

کولکاتہ:کولکاتہ ہائی کورٹ نے بنگال سرکار سے پوچھا ہے کہ اس نے مغربی بنگال کی مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹانے کے لئے کوئی حکم دیا ہے۔ کارگزار چیف جسٹس تاپ ورتا چکرورتی اور جسٹس اتروپ بنرجی کی بنچ نے ایک عرضی پر ریاستی حکومت سے یہ سوال کیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ بغیر تحریری حکم کے بنگال میں 4000 مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹا دیئے گئے ہیں، اس عرضی پر عدالت نے بنگال سرکار سے پوچھا ہے کہ وہ بتائے کہ اس نے ایسی کوئی کارروائی کی ہے یا نہیں۔ کورٹ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست کو کرے گی۔ غورطلب ہے کہ ایک مفاد عامہ کی عرضی میں وکیل دانش فاروقی نے کہا ہے کہ پولیس افسران بغیر کسی تحریری حکم کے لائوڈاسپیکر ہٹادیئے ہیں۔ وہ صوتی جانچ کے بغیر غیر قانونی فرمانوں کی تابعداری کررہے ہیں۔ فاروقی کا کہنا ہے کہ اذان اسلامی اعتقادات کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ جو آئین کی دفعہ 25 کے تحت محفوظ ہے۔ اور لائوڈاسپیکر پر اس طرح کی پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فاروقی کی نمائندگی کررہے ہیں سینئر وکیل کلیان بندو اپادھیائے نے کہا ہے کہ پولیس نے مسجد انتظامیہ پر دبائو ڈالا اور بنا کسی نوٹس کے چار ہزار مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹا دیئے۔ اس طرح کی غیر قانونی فرمان سے قانون کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔