تازہ ترین
ووٹ چوری کے خلاف کانگریس کاانوکھا احتجاج، بھجن گا کر جمہوری انداز میں کیامظاہرہ، مودی اور گیانیش کمار سے استعفیٰ کا مطالبہجینیس اکیڈمی فار بس گنج میں ندا فاضلی کی ادبی خدمات کا اعتراف ،پرنسپل نوشاد عالم کوملی ان کی شاعری کی شاندار سوغاتمحمد متفق احمد کواپنی شاندار خدمات کا ملا انعام,تفتیش، آپریشن اور سکیورٹی کے میدان میں نمایاں کارکردگی کے عوض آئی پی ایس میں دی گئی ترقیجامعہ ملیہ اسلامیہ میں یو پی ایس سی میلہ کے دوسرے ایڈیشن کا انعقاداولیوودیا گرلز اکیڈمی نیوز لیٹر کا رسم اجرا ء اور پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ کا شاندار انعقاداے ایم یو کی جانب سے کل ہند مضمون نویسی مقابلہ 2026 کے نتائج کا اعلاناے ایم یو کے مختلف شعبوں کےتحت دماغی صحت سے متعلق بیداری پروگرامآیوروید اور ہربل طب کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پرنس محبوب رحمانی کوڈاکٹریٹ کی ڈگری سےکیا گیا سرافراز
دیش

بارہ سال بعد مظفر نگر فساد کا مقدمہ واپس

مظفر نگرخصوصی ایم پی ، ایم ایل اے عدالت نے 2013 میں مظفر نگر فسادات سے منسلک ملزمین کے خلاف مقدمات واپس لینے کی اجازت دے دی ہے۔ اترپردیش حکومت نے اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کیا تھا۔ جس پر عدالت نے مظفر نگر کے نگلہ نگوڑ پنچایت معاملے میں سنجو بالیان، سریش رانا، کپل دیو اگروال، ہریندر ملک سمیت کئی لیڈروں پر درج مقدمات واپس لینے کی اجازت دے دی تھی۔
حکومت کے فیصلے کے بعد مظفر نگر فسادات کے 22بی جے پی رہنمائوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ اس معاملے میں یوپی سرکار کے وزیر کپل دیو اگروال ، سابق مرکزی وزیر سنجو بالیان، سابق ریاستی وزیر سریش رانا سمیت کئی لوگوں کے نام شامل تھے۔ 12 سال کے بعد یوگی سرکار کے ذریعہ مقدمہ واپس لئے جانے پر اقلیتی طبقہ میںتشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
غورطلب ہے کہ مظفر نگر ضلع میں 27 اگست 2013 کو سکھیڑا تھانہ کے تحت کوال گائوں میں ممیرے بھائیوں سچن اور گورواور شاہنواز کے قتل سے فرقہ ورانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے، اس کے بعد مظفر نگر میں جگہ جگہ تشدد کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ 30 اگست کو خالہ پار میں اقلیتی طبقہ کے تحت پنچایت ہوئی تھی ،اس دوران بی جے پی لیڈروں کے ذریعہ ننگلا مندوڑ کے میدان میں پنچایت منعقد کی گئی جس میں بی جے پی لیڈروں پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزمات لگے۔ جس کے بعد پورے مظفر نگر میں فسادات کی آگ بھڑک اٹھی۔
جس کے بعد 22 نامزد لیڈروں پر مقدمہ درج کیا گیا۔ بہرحال 12 سال بعد یوگی سرکار نے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ اور پھر عدالت میں اپیل کی۔جس کے بعد ایم پی ، ایم ایل اے عدالت نے مقدمہ واپسی کے احکامات جاری کردئے ہیں۔ خا ص بات تو یہ ہے کہ مظفر نگر فسادکا اہم مقدمہ تھا،جسے حکومت نے واپس لے لیا ہے۔
ریاستی وزیر کپل دیو اگروال نے کہا ہے کہ سماج وادی پارٹی کی سرکار میں بی جے پی کارکنان اور عوامی نمائندوں پر فرضی مقدمے دائر کیے تھے۔ جو واپس لے لئے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔