تازہ ترین
چراغ پاسوان نے ترقیاتی اسکیموں کارکھاسنگ بنیاد، ویشالی میں پی ایچ ای ڈی کے نئے اور جدید عمارت کا مرکزی وزیرنے کیا افتتاحسیتامڑھی میں پانچ نئی نگر پنچایتوں کے قیام کی راہ ہموار، سُرسنڈ اور بیلسنڈ نگر پنچایت کو نگر پریشد کا درجہ دینے کی تجویز منظور، 20 نکاتی کمیٹی کی میٹنگ میں متفقہ طور پر قرارداد پاسچند ہزار روپے کی رشوت نے پہنچایا جیل، گیاجی میں نگرانی ٹیم کے جال میں پھنسے دو سرکاری امینٹھیکے پرکام کرنے والے ملازمین کیلئے حکومت کا تحفہ، ریاست کی یوگی حکومت نے اعزازیہ میں کیا ڈیڑھ گنا تک کا اضافہبے زمین سماج کو ملنا چاہیےزمین کا حصہ، پتھک جن شکتی پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجا میمورنڈمطالبات کے حق رائے دہی سے متعلق اے ایم یو کی وضاحتدہلی فسادات معاملے کے پانچ ملزمان بریآستانۂ عالیہ حضرت پیر مرتضیٰ شاہ قادریؒ پر روحانیت و عقیدت کا عظیم الشان اجتماع
دیش

بارہ سال بعد مظفر نگر فساد کا مقدمہ واپس

مظفر نگرخصوصی ایم پی ، ایم ایل اے عدالت نے 2013 میں مظفر نگر فسادات سے منسلک ملزمین کے خلاف مقدمات واپس لینے کی اجازت دے دی ہے۔ اترپردیش حکومت نے اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کیا تھا۔ جس پر عدالت نے مظفر نگر کے نگلہ نگوڑ پنچایت معاملے میں سنجو بالیان، سریش رانا، کپل دیو اگروال، ہریندر ملک سمیت کئی لیڈروں پر درج مقدمات واپس لینے کی اجازت دے دی تھی۔
حکومت کے فیصلے کے بعد مظفر نگر فسادات کے 22بی جے پی رہنمائوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ اس معاملے میں یوپی سرکار کے وزیر کپل دیو اگروال ، سابق مرکزی وزیر سنجو بالیان، سابق ریاستی وزیر سریش رانا سمیت کئی لوگوں کے نام شامل تھے۔ 12 سال کے بعد یوگی سرکار کے ذریعہ مقدمہ واپس لئے جانے پر اقلیتی طبقہ میںتشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
غورطلب ہے کہ مظفر نگر ضلع میں 27 اگست 2013 کو سکھیڑا تھانہ کے تحت کوال گائوں میں ممیرے بھائیوں سچن اور گورواور شاہنواز کے قتل سے فرقہ ورانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے، اس کے بعد مظفر نگر میں جگہ جگہ تشدد کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ 30 اگست کو خالہ پار میں اقلیتی طبقہ کے تحت پنچایت ہوئی تھی ،اس دوران بی جے پی لیڈروں کے ذریعہ ننگلا مندوڑ کے میدان میں پنچایت منعقد کی گئی جس میں بی جے پی لیڈروں پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزمات لگے۔ جس کے بعد پورے مظفر نگر میں فسادات کی آگ بھڑک اٹھی۔
جس کے بعد 22 نامزد لیڈروں پر مقدمہ درج کیا گیا۔ بہرحال 12 سال بعد یوگی سرکار نے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ اور پھر عدالت میں اپیل کی۔جس کے بعد ایم پی ، ایم ایل اے عدالت نے مقدمہ واپسی کے احکامات جاری کردئے ہیں۔ خا ص بات تو یہ ہے کہ مظفر نگر فسادکا اہم مقدمہ تھا،جسے حکومت نے واپس لے لیا ہے۔
ریاستی وزیر کپل دیو اگروال نے کہا ہے کہ سماج وادی پارٹی کی سرکار میں بی جے پی کارکنان اور عوامی نمائندوں پر فرضی مقدمے دائر کیے تھے۔ جو واپس لے لئے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔