تازہ ترین
ریاستی محکمۂ تعلیم میں بڑی بدعنوانی، کلرک نے ڈیجیٹل ریکارڈ میں جعل سازی کے ذریعہ کیا 76 لاکھ کا غبن،انتظامیہ نے کیا معطلامارت شرعیہ میں مولانا ابو نصر فاروق و شہاب الدین سمیت دیگر کئی شخصیات کے لئے تعزیتی نشست کا انعقادڈاکٹر شعیب راہی کی ادبی خدمات پر کامیاب سیمینارمنعقد،پروفیسر احمد بدر سند اعزاز سے سرفرازسیوان:جیویکا گتھنی نے کامیابی سے’یوتھ موبلائزیشن مہم‘ کاکیا انعقاد،روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے تحت 10 نوجوانوں کو سیکیورٹی گارڈ کے عہدوں کے لیے کیاگیا منتخبسر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کے موقع پر سینٹ جانس کالج میں مضمون نویسی کا مقابلہ’تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی ضروری‘،شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں جشن سر سید تقریبات کا آغاز’گنے کی قیمت 700 روپے نہیں تو بی جے پی کو ووٹ نہیں‘ ،کسانوں کی میٹنگ میں بھارتیہ کسان یونین کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما کا اعلانسپریم کورٹ مارچ پر راہل گاندھی کو سمن،ہمیں کوئی دھمکا نہیں سکتا،ہم جانتے ہیں کہ عدالت کے اندر اور باہر کون کیا کہہ رہا ہے،چیف جسٹس کا تبصرہ
دلی این سی آر

بھرے گڑھے میں کھیلتے ہوئے ڈوب گئے دو معصوم بچے

نئی دہلی :دہلی کے نریلا میں بارش کے پانی سے بھرے گڑھے میں 9 اور 11 سال کی عمر کے دو بچے ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ دونوں بوانہ کے رہنے والے تھے اور کھیلنے اور تیرنے کے لیے گڑھے میں داخل ہوئے تھے۔ انہیں ایس آر ایچ سی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔دہلی میں بارش کے پانی سے بھرے گڑھے میں کھیلتے ہوئے دو معصوم بچے ڈوب گئے، ڈی ڈی اے فلیٹس کے قریب حادثہ،دہلی کے نریلا علاقے میں بارش کے پانی سے بھرے گڑھے میں دو نابالغ بچوں کے ڈوبنے کی خبر سامنے آئی ہے۔ یہ حادثہ جمعرات کو 100 فٹ روڈ پر ڈی ڈی اے فلیٹس کے قریب پیش آیا۔ دونوں بچے کھیلنے اور تیرنے کے لیے بارش کے پانی سے بھرے گڑھے میں داخل ہوئے تھے۔ وہ گہرے پانی میں ڈوب گئے۔پولیس کے مطابق جمعرات 13 اگست کو دو بچوں کے گڑھے میں ڈوبنے کی اطلاع ملی۔ اطلاع ملتے ہی نریلا پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور دونوں بچوں کو بچایا۔ اس کے بعد انھیں علاج کے لیے نریلا کے ستیہ وادی راجہ ہریش چندر اسپتال (SRHC اسپتال) لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دیا۔جاں بحق ہونے والوں کی عمریں 9 اور 11 سال بتائی گئی ہیں۔ دونوں بچے بوانہ کے علاقے کے رہائشی تھے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں بچے کھیلنے اور تیراکی کے لیے بارش کے پانی سے بھرے گڑھے میں داخل ہوئے تھے۔ وہ اس واقعے کے دوران ڈوب گئے۔ پولیس نے اس معاملے میں ضروری قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔دہلی پولیس نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مانسون کے موسم میں اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے خصوصی احتیاط برتیں۔ انہوں نے والدین اور سرپرستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں کھلے گڑھوں، نالیوں اور پانی بھرے علاقوں کے قریب کھیلنے سے روکیں۔بارش کے بعد کھلے گڑھے پانی سے بھر جاتے ہیں جس سے ان کی گہرائی کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ علاقے بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ نریلا کا یہ واقعہ مانسون کے موسم میں پانی بھرے علاقوں میں احتیاط کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔