تازہ ترین
بہار کےبرطرف امینوں نے حکومت کیخلاف کھولا مورچہ، ملازمت سے ہٹائے جانے پر امین مشتعل، احتجاج میں شدت لانے کی دھمکی، ہڑتالی امینوں کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کرنے اور ای-ماپی پورٹل پر ان کی شناختی آئی ڈی غیر فعال کرنے کے آمرانہ حکم پر نہیں رہیں گے خاموش: یونینانسانیت اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آج سے شروع ہوگا3 روزہ تبلیغی اجتماع، ملک بھر کے نامور علمائے دین کریں گے شرکت،ڈی ایم اور ایس ایس پی نے تیاریوں کا لیا جائزہپولیس پر لگے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری، مدھوبنی گولی باری معاملے پر جن سوراج کا شدید ردعمل،ریاستی سطح کی ٹیم نے گاؤں پہنچ کر متاثرہ خاندانوں سے کی ملاقات، یتیم بچوں کے مستقبل اور خاندان کی کفالت کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری ملازمت کا مطالبہ11 نومبر کو منعقد ہونے والے ’’مدارس اسلامیہ کنونشن‘‘ کی تیاریوں کے جائزہ کے بعد اطمینان کا اظہاراتر پردیش انتخابات کے پیش نظر پرینکا گاندھی سرگرم، سیٹوں کی تقسیم کے معاملے میں کانگریس کی قیادت بھی انہی کے حوالےدیوبند: مولانا اعجاز اور کارڈرائیور کی سڑک حادثہ میں دردناک موتجامعہ عائشہ للبنات چھٹمل پور میں’’ایک شام اولیاء اللہ کے ساتھ‘کے عنوان سے پروقار اور روحانی مجلس کا انعقاد’نفرت کے بڑے سے بڑے اندھیروں کو مٹا سکتا ہےمحبت کا ایک چھوٹا سا چراغ ‘، میرٹھ میںچودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں جشن دیوالی اور رنگو لی کا شاندار انعقاد
uttar pradesh

معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا کلیدی رول: رجسٹرارعاصم ظفر،اردو اکادمی،اے ایم یو کے زیر اہتمام ہفت روزہ ریفریشر کورس اختتام پذیر

(پی این این)
علی گڑھ: آج مرکز پیشہ ورانہ فروغ برائےاردو اساتذہ (سی پی ڈی یو ٹی، اردو اکادمی )،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے زیر اہتمام اردو اساتذہ کے لیےہفت روزہ ریفریشر کورس(5 تا13/اگست) کے اختتامی اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا۔جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سےعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فعال رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے شرکت کی اورمرکز پیشہ وارانہ فروغ برائے اردو اساتذہ کے ڈائریکٹر پروفیسر زبیر شاداب خان نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔”جدید طریقہ تدریس” کے موضوع پر آراستہ ہفت روزہ ریفریشر کورس کے اختتامی اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے پروفیسر عاصم ظفر نے کہا کہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا ہمیشہ سےکلیدی رول رہا ہے۔سماج میں طلباو طالبات کی تعلیم و تربیت کے لیےان کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔ایک بہتر تعلیمی سماج کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اساتذہ جدید طریقہ تدریس سے واقف ہوں اورمجھے خوشی ہے کہ اساتذہ نے اس ہفت روزہ تربیتی پروگرام سے استفادہ کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے منسلک اسکولوں کی ایک الگ پہچان رہی ہے۔اور یہاں کےاساتذہ کا ہمیشہ سے ایک بلندمعیاربھی رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان اسکولوں میں داخلہ ٹیسٹ کے لیے اسٹوڈنٹس کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔پروفیسر عاصم ظفر نے یہ بھی کہا کہ اے ایم یو کےمثالی اساتذہ نے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
پروفیسر زبیر شاداب خان نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ استاذ کی بنیادی ذمےداری طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی ہے تاکہ وہ ملک و قوم کی ترقّی میں نہ صرف کلیدی کردار ادا کر سکیں بلکہ ایک مہذب شہری ہونے کی حیثت سے معاشرے کی بہتر تشکیل کے لیے ہمہ وقت عمل پیرا بھی رہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اردو کے اساتذہ ہر لحاظ سے دوسری ترقّی یافتہ زبانوں کے اساتذہ جیسے ہی ترقّی یافتہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ریفریشر کورس کی اصل کامیابی یہ ہے کہ اردو کے اساتذہ جدید طریقہ تدریس سے مستفید ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ درس وتدریس ایک مقدس پیشہ بھی ہے اور منصب بھی۔آج اساتذہ کی سب سے بڑی ذمہ داری طلباو طالبات کی بہتر تعلیم و تربیت ہے۔ایک اعلی اور کامل استاذ کی پہچان بھی یہی ہے کہ وہ تندہی سے اپنی تدریسی خدمات کو انجام دے۔انہوں نے کہا کہ آج ہر زبان میں قابل اساتذہ کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مذید کہا کہ محنت اور لگن سے ہی ایک استاذ فن تدریس میں کمال حاصل کر سکتا ہے اور نئی نسل کی بہتر طور پر آبیاری بھی ممکن ہے۔
ریفریشر کورس کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ تدریس کا پیشہ ایک چراغ کی مانند ہے جو عملی طور پر انسان کی تاریک راہوں کو روشن کرتا ہے۔انہوں نے اس ہفت روزہ تربیتی پروگرام کی شاندار کامیابی پر ڈائریکٹر اردو اکادمی پروفیسر زبیر شاداب خان کی خصوصی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے مہمان خصوصی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر اور تمام اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔اختتامی تقریب میں سید حامد سینیئر سیکنڈری اسکول (بوائز) کے استاذ ڈاکٹر محمد معروف اور منٹو سرکل کی استانی محترمہ فوزیہ نگہت نے بھی اپنے خیالات کااظہار کیا۔اس موقع پرمہمان خصوصی پروفیسر عاصم ظفر کے دست مبارک سے اساتذہ کو سرٹی فکٹ اور بطور تحفہ اردو کی دو کتابیں پیش کی گئیں۔
ریفریشر کورس میں متعدد ماہرین زبان و ادب نے مختلف موضوعات پر لیکچرز دیے جن میں پروفیسر قاضی جمال حسین، پروفیسر غضنفر علی ،پروفیسر نسرین،پروفیسر سراج اجملی ،پروفیسر ارمان رسول فریدی،پروفیسر ساجد جمال، پروفیسر زبیر شاداب خان،ڈاکٹر مسعود علی بیگ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔اختتامی اجلاس کا آغاز ڈاکٹر عرفان احمد کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جبکہ’اے ایم یو گرلز اسکول‘،’راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اے ایم یو سٹی اسکول‘،’عبداللہ اسکول‘،’سینیئر سیکنڈری اسکول گرلز‘،’سید حامد سینیئر سیکنڈری اسکول(بوائز)‘،’اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول(گرلز)‘،’ایس ٹی ایس اسکول(منٹو سرکل)‘،’اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (بوائز)‘،’اےایم یو سٹی گرلزہائی اسکول‘،’احمدی اسکول فار ویژولی چیلنجڈ‘ کے اساتذہ نے اس ریفریشر کورس میں حصہ لیا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔