Connect with us

دیش

سناتن کو بچانے کیلئے شنکراچاریہ اور اکھلیش ساتھ ساتھ

Published

on

لکھنؤ:سناتن دھرم کو ادھرمیوں سے بچانے کے لئے شنکراچاریہ اومکتیشورانند اور اکھلیش یادو میدان میں آگئے ہیں۔سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے جمعرات کو جیوتر مٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے رام مندر میں مبینہ عطیہ چوری، گائے کے تحفظ، سناتن دھرم اور امن و امان جیسے مسائل پر بی جے پی حکومت کو گھیرا۔ شنکراچاریہ نے بھی گائے کے تحفظ اور رام مندر سے وابستہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ انہیں ’پوجیہ‘ شنکراچاریہ کے درشن اور آشیرواد کا شرف حاصل ہوا۔
سابق وزیراعلیٰ اترپردیش اکھلیش یادو نے بتایا کہ دونوں کے درمیان سناتن پر آنے والے بحران اور ’دھرم‘ کو ’ادھرمیوں‘ کے چنگل سے آزاد کرانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ شنکراچاریہ ’گؤماتا‘ کی حالت زار کو لے کر انتہائی فکر مند ہیں اور گائے کے تحفظ پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مندر کے احاطے میں جن ملازمین کو کم ادائیگی کی گئی تھی، ان سب کے کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) کی جانچ کرائی جانی چاہیے۔ 99.9 فیصد لوگ بی جے پی کے نکلیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے لیڈران کے خلاف مسلسل مقدمات درج کیے جاتے ہیں، لیکن اپوزیشن کی شکایات پر ایف آئی آر تک درج نہیں ہوتی۔
رام مندر معاملے کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ پوری تحقیقات محض ’لیپا پوتی‘ ہے۔ ایس آئی ٹی کی غیر جانبداری پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں اور اس کے ایک رکن پر دھوکہ دہی کا معاملہ درج ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس پورے واقعے کو اکھلیش یادو نے دہلی اور لکھنؤ کی لڑائی قرار دیا۔
اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اپنے سیاسی مفادات کے مطابق نظریات بدلتی ہے۔ بی جے پی کے لیے مذہب نہیں بلکہ دولت زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق رام مندر معاملے میں ’مہاپاپ‘ (عظیم گناہ) ہوا ہے اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ بی جے پی ایسی سیاسی روایت قائم کر رہی ہے جس میں اپوزیشن کے لیڈران کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
، یہ جمہوریت کے لیے ٹھیک نہیں ہے اور مستقبل میں بی جے پی بھی اپوزیشن میں ہوگی۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ صرف ’سانچہ‘ ہی نہیں بلکہ پورا ’ڈھانچہ‘ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ملک کا ’سناتن‘ معاشرہ موجودہ حالات سے دکھی ہے اور حکومت کی پالیسیوں کے باعث عوام مہنگائی اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
اکھلیش یادو سے ملاقات کے دوران شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند نے ’گؤماتا‘ کے تحفظ اور رام مندر سے منسلک مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ رام مندر عطیات چوری پر شنکراچاریہ نے کہا کہ ’’اس پورے معاملے میں بڑے لوگ قصوروار ہیں… جس طرح سے بے ضابطگی سامنے آئی، اس کے بعد مذہبی رہنماؤں کو شامل کر کے حکومت کی نگرانی میں ٹرسٹ تشکیل دیا جانا چاہیے… ٹرسٹ کو تحلیل کر کے چاروں شنکراچاریوں کو اس میں شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایودھیا کے سادھو سنت بھی ٹرسٹ میں شامل ہوں۔‘‘
شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشور آنند نے کہا کہ ’’ٹرسٹ میں انتظامی افسران کی ضرورت نہیں ہے اور یہ رویہ بھی اچھا نہیں ہے۔‘‘ خزانچی گووند دیوگیری کو ہدف تنقید بناتے ہوئے شنکراچاریہ نے کہا کہ ’’اصل قصوروار تو وہی ہے، کیونکہ وہ خزانچی ہے اور ٹرسٹ کا پورا حساب کتاب ان کے پاس ہے، خزانچی گووند دیو گیری پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘ چمپت رائے کے حوالے سے شنکراچاریہ نے کہا کہ سب سے بڑا قصوروار وہی ہے۔ اب وہ کیا بولے گا؟ چمپت رائے اصل گنہگار ہے۔

دیش

طلبا کو بارش سے بچانے کیلئے دیپکے نے ٹینٹ لگانے کی مانگی اجازت

Published

on

نئی دہلی:نیٹ پیپر لیک معاملے اور دیگر بدعنوانیوں کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی ) کے جنتر منتر پر مظاہرہ کا بیسواں دن ہے۔ اس دوران دہلی میں بارش بھی ہورہی ہے ، بتایا جاتا ہے کہ سی جے پی کے بانی دیپکے نے پولیس والوں کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ انھیں ٹینٹ لگانے کی اجازت دے، کیونکہ طلبا بارش میں بھیگ رہے ہیں۔ انھوں نے ایک ویڈیو پر پولیس میں ترپال لگانے کی کوشش کرنے والے طلبا کے ساتھ پولیس پر بدسلوکی کا بھی الزام لگایا، انھوں نے لکھا ہے کہ خاتون طلبا کو پولیس والوں نے دھکا دیا۔
غورطلب ہے کہ جنتر منتر کے مظاہرے میں معروف سماجی خدمت گار وانگچک بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کے یہ بھوک ہڑتال کا بارہ واں دن ہے۔ سی جے پی امتحانات میں بدعنوانیوں کے خلاف وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ مانگ رہی ہے۔ اس مظاہرے میں کئی نامی گرامی سوشل ایکٹوسٹ بھی شامل ہیں، وانگچک 28 جون سے بھوک ہڑتال کررہے ہیں ان کا وزن تیزی سے گرتا جارہا ہے۔

Continue Reading

دیش

پانچ کلو وزن ہواکم،وانگچک کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن

Published

on

نئی دہلی:جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا دھرنا جاری ہے۔ ان کے اندولن کے ساتھ معروف سماجی خدمات گار سونم وانگچک بھی شریک ہوچکے ہیں آج ان کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن ہے۔ جس میں ان کا پانچ کلو وزن کم ہوگیا ہے۔ اس دوران سی جے پی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو تیز کردیا ہے۔ واضح ہو کہ جنتر منتر پر طلبا نیٹ ، یوجی سمیت مقابلہ جاتی امتحانات میں بدعنوانی کولیکر مظاہرہ کررہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

حکومت پر تنقید جمہوریت کا حصہ ، جرم نہیں : بمبئی ہائی کورٹ

Published

on

بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے، اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پُرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے یا احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ ایکسٹرنمنٹ (شہر بدری) کا حکم منسوخ کر دیا۔
یہ فیصلہ جسٹس مادھو جمدار کی بنچ نے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری اور سابق لوک سبھا امیدوار سعید احمد عبد الواحد چودھری کی درخواست پر سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی اختیارات کا استعمال شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارروائی اور اس کے جواز پر کئی اہم سوالات اٹھائے۔ جسٹس مادھو جمدار نے ریمارکس دیے کہ ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے، احتجاج کرنے اور اختلاف رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ محض ’’بی جے پی حکومت مردہ باد‘‘ یا ’’امت شاہ مردہ باد‘‘ جیسے نعرے کسی شخص کے خلاف شہر بدری جیسی سخت کارروائی کی بنیاد کیسے بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے برداشت کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس جمدار نے گزشتہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام ایسے معاملات پر احتجاج کریں اور اس کے جواب میں ان پر مقدمات درج کیے جائیں تو یہ جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہے اور اس کی جواب دہی شہریوں کے سامنے ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے سامنے۔
اپنے تحریری فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقے سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسی کارروائی اظہارِ رائے کی آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جاری کیے گئے ایکسٹرنمنٹ آرڈر کی اصل وجہ مختلف احتجاجی پروگراموں کا انعقاد اور ان میں شرکت تھی۔ عدالت نے کہا کہ صرف اسی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اتنی سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
سعید احمد عبد الواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، بابری مسجد تنازع، گیان واپی مسجد معاملہ، وقف بورڈ میں مبینہ بدعنوانی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت کئی عوامی مسائل پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سرگرم رہے ہیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network