تازہ ترین
سر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کے موقع پر سینٹ جانس کالج میں مضمون نویسی کا مقابلہ’تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی ضروری‘،شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں جشن سر سید تقریبات کا آغاز’گنے کی قیمت 700 روپے نہیں تو بی جے پی کو ووٹ نہیں‘ ،کسانوں کی میٹنگ میں بھارتیہ کسان یونین کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما کا اعلانسپریم کورٹ مارچ پر راہل گاندھی کو سمن،ہمیں کوئی دھمکا نہیں سکتا،ہم جانتے ہیں کہ عدالت کے اندر اور باہر کون کیا کہہ رہا ہے،چیف جسٹس کا تبصرہدہلی میں سخت سیکورٹی، ہر کونے پر چوکسی،CJP کاترنگا مارچ آجخواتین کا استحصال کرنے والے رہنماؤں کو تحفظ دیتی ہے کانگریس: بانسری سوراجدہلی بارش: دہلی-این سی آر میں موسلادھار بارش،موسم ہوا ٹھنڈاریکھا نےکیا سی ٹی اسکین اور تین ایم آر آئی مشینوں کا افتتاح
دلی این سی آر

اسکول کی خستہ حال عمارت میں جان جوکھم میں ڈال کر پڑھنے پر مجبور طلبہ

(پی این این)
الور: راجستھان کے ضلع الور کے تھاناغازی سب ڈویژن کے جودھا واس گاؤں میں واقع گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کی خستہ حال عمارت بچوں کی زندگی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے ۔
حاصل کردہ معلومات کے مطابق بدھ کے روز اسکول کی چھت کی ایک سلیب اچانک ٹوٹ کر نیچے گر گئی۔ خوش قسمتی سے جس وقت یہ حادثہ پیش آیا، وہاں بچے موجود نہیں تھے ۔ ذرائع نے بتایا کہ جس عمارت کی چھت کی سلیب گری ہے ، اسے پہلے ہی خستہ حال قرار دیا جا چکا ہے ، اس کے باوجود اسے اب تک مسمار نہیں کیا گیا۔ اسی خستہ حال عمارت کے ایک کمرے میں جودھا واس گرام پنچایت کا دفتر بھی چل رہا ہے ۔ اسکول کے بچے انہی خطرناک عمارتوں کے درمیان واقع ہینڈ پمپ سے پانی پینے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی دن عمارت کا کوئی حصہ کسی بچے پر گر گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟اس واقعے کے بعد اسکول کے بچوں میں شدید غصہ دیکھنے کو ملا۔ بچوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج کیا اور خستہ حال عمارت کو ہٹانے سمیت اسکول کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
بچوں نے کہا کہ انہیں ہر وقت اپنی حفاظت کا ڈر لگا رہتا ہے ۔ بچوں کے والدین نے بھی واضح تنبیہ کی ہے کہ جب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکالا جاتا، وہ بچوں کو اسکول نہیں بھیجیں گے ۔ والدین کا کہنا ہے کہ حکومت اور محکمہ تعلیم بچوں کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔جودھا واس کا یہ اسکول چار سال پہلے ہائر سیکنڈری اسکول بن چکا ہے ، لیکن حالت یہ ہے کہ بارہویں جماعت تک کی پڑھائی کے لیے اسکول میں صرف تین کمرے دستیاب ہیں۔ ان کمروں کی چھتیں بھی بارش کے دوران ٹپکتی ہیں۔ بچوں کا کہنا ہے کہ برسات میں پڑھائی کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ اسکول میں کل پانچ اساتذہ کام کر رہے ہیں اور پرنسپل کا عہدہ بھی خالی ہے ۔ چار سال سے سینیئر سیکنڈری ہونے کے باوجود اب تک ایک بھی لیکچرار کا عہدہ منظور نہیں ہوا ہے ۔
جبکہ سیکنڈ گریڈ کے پانچ عہدے خالی بتائے جا رہے ہیں اور صرف ایک سیکنڈ گریڈ ٹیچر بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ تھرڈ گریڈ اساتذہ بھی 12ویں جماعت کے طلبہ کو پڑھانے کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ طلبہ اور ان کے والدین کا الزام ہے کہ اتنی سنگین صورتحال کے باوجود محکمہ تعلیم اس اسکول کی طرف مناسب توجہ نہیں دے رہا ہے ۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔