تازہ ترین
بہار کےبرطرف امینوں نے حکومت کیخلاف کھولا مورچہ، ملازمت سے ہٹائے جانے پر امین مشتعل، احتجاج میں شدت لانے کی دھمکی، ہڑتالی امینوں کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کرنے اور ای-ماپی پورٹل پر ان کی شناختی آئی ڈی غیر فعال کرنے کے آمرانہ حکم پر نہیں رہیں گے خاموش: یونینانسانیت اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آج سے شروع ہوگا3 روزہ تبلیغی اجتماع، ملک بھر کے نامور علمائے دین کریں گے شرکت،ڈی ایم اور ایس ایس پی نے تیاریوں کا لیا جائزہپولیس پر لگے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری، مدھوبنی گولی باری معاملے پر جن سوراج کا شدید ردعمل،ریاستی سطح کی ٹیم نے گاؤں پہنچ کر متاثرہ خاندانوں سے کی ملاقات، یتیم بچوں کے مستقبل اور خاندان کی کفالت کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری ملازمت کا مطالبہ11 نومبر کو منعقد ہونے والے ’’مدارس اسلامیہ کنونشن‘‘ کی تیاریوں کے جائزہ کے بعد اطمینان کا اظہاراتر پردیش انتخابات کے پیش نظر پرینکا گاندھی سرگرم، سیٹوں کی تقسیم کے معاملے میں کانگریس کی قیادت بھی انہی کے حوالےدیوبند: مولانا اعجاز اور کارڈرائیور کی سڑک حادثہ میں دردناک موتجامعہ عائشہ للبنات چھٹمل پور میں’’ایک شام اولیاء اللہ کے ساتھ‘کے عنوان سے پروقار اور روحانی مجلس کا انعقاد’نفرت کے بڑے سے بڑے اندھیروں کو مٹا سکتا ہےمحبت کا ایک چھوٹا سا چراغ ‘، میرٹھ میںچودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں جشن دیوالی اور رنگو لی کا شاندار انعقاد
دلی این سی آر

اسکول کی خستہ حال عمارت میں جان جوکھم میں ڈال کر پڑھنے پر مجبور طلبہ

(پی این این)
الور: راجستھان کے ضلع الور کے تھاناغازی سب ڈویژن کے جودھا واس گاؤں میں واقع گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کی خستہ حال عمارت بچوں کی زندگی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے ۔
حاصل کردہ معلومات کے مطابق بدھ کے روز اسکول کی چھت کی ایک سلیب اچانک ٹوٹ کر نیچے گر گئی۔ خوش قسمتی سے جس وقت یہ حادثہ پیش آیا، وہاں بچے موجود نہیں تھے ۔ ذرائع نے بتایا کہ جس عمارت کی چھت کی سلیب گری ہے ، اسے پہلے ہی خستہ حال قرار دیا جا چکا ہے ، اس کے باوجود اسے اب تک مسمار نہیں کیا گیا۔ اسی خستہ حال عمارت کے ایک کمرے میں جودھا واس گرام پنچایت کا دفتر بھی چل رہا ہے ۔ اسکول کے بچے انہی خطرناک عمارتوں کے درمیان واقع ہینڈ پمپ سے پانی پینے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی دن عمارت کا کوئی حصہ کسی بچے پر گر گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟اس واقعے کے بعد اسکول کے بچوں میں شدید غصہ دیکھنے کو ملا۔ بچوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج کیا اور خستہ حال عمارت کو ہٹانے سمیت اسکول کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
بچوں نے کہا کہ انہیں ہر وقت اپنی حفاظت کا ڈر لگا رہتا ہے ۔ بچوں کے والدین نے بھی واضح تنبیہ کی ہے کہ جب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکالا جاتا، وہ بچوں کو اسکول نہیں بھیجیں گے ۔ والدین کا کہنا ہے کہ حکومت اور محکمہ تعلیم بچوں کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔جودھا واس کا یہ اسکول چار سال پہلے ہائر سیکنڈری اسکول بن چکا ہے ، لیکن حالت یہ ہے کہ بارہویں جماعت تک کی پڑھائی کے لیے اسکول میں صرف تین کمرے دستیاب ہیں۔ ان کمروں کی چھتیں بھی بارش کے دوران ٹپکتی ہیں۔ بچوں کا کہنا ہے کہ برسات میں پڑھائی کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ اسکول میں کل پانچ اساتذہ کام کر رہے ہیں اور پرنسپل کا عہدہ بھی خالی ہے ۔ چار سال سے سینیئر سیکنڈری ہونے کے باوجود اب تک ایک بھی لیکچرار کا عہدہ منظور نہیں ہوا ہے ۔
جبکہ سیکنڈ گریڈ کے پانچ عہدے خالی بتائے جا رہے ہیں اور صرف ایک سیکنڈ گریڈ ٹیچر بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ تھرڈ گریڈ اساتذہ بھی 12ویں جماعت کے طلبہ کو پڑھانے کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ طلبہ اور ان کے والدین کا الزام ہے کہ اتنی سنگین صورتحال کے باوجود محکمہ تعلیم اس اسکول کی طرف مناسب توجہ نہیں دے رہا ہے ۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔