Connect with us

Bihar

نسل نو کو اسلامی سانچے میں ڈھالناوقت کی اہم ترین ضرورت :قمر انیس قاسمی

Published

on

(پی این این)
سمستی پور:مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کی ہدایت اورناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال حضرت مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی کی ایماء پر مولانا قمر انیس قاسمی ،معاون ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کی قیادت میں امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کا ایک دعوتی و اصلاحی وفد ضلع سمستی پور کے تاج پور، سرائے رنجن، اوجیار پور، دلسنگھ سرائے اور وارث نگر بلاک کے مختلف مواضعات کے دورے پر ہے، وفد میں مفتی راشد انور قاسمی معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، مولانا امان اللہ قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ دھرم پور سمستی پور، مفتی نیراسلام قاسمی استاذ حدیث دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، مولانا محمد جمیل اختر رحمانی مبلغ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور مولانا رضوان احمد مظاہری مبلغ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ شریک ہیں۔
موضع دریاپور لگنیا، علی نگر مہیش پٹی ، صلحا بربٹہ ، ساتن پور ،چاند چور رحیم ٹولہ میں عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے قائد وفد مولانا قمر انیس قاسمی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے فرمایا کہ ملک کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے بڑی تیزی کے ساتھ نسل نو بے دینی کی طرف بڑھ رہی ہے منظم سازش کے تحت نوجوانوں کے ایمان و عقیدہ کا سودا کیا جارہا ہے ایسے حالات میں ان کے دلوں کو ایمان سے منور کرنا اور انہیں اسلامی سانچے میں ڈھالنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔
انہوں نے مزیدکہا کہ امارت شرعیہ پورے ملک کے مسلمانوں کے لیے اور خصوصا بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے مسلمانوں کے لیے اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، امارت شرعیہ مسلمانوں کی مذہبی ضرورت ہے، اس کی عظمت و تقدس کا لحاظ رکھنا اور اس کی ضرورتوں کا خیال کرنا، مسلمانوں کے لیے لازم ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک امیر شریعت کی ماتحتی میں رہ کر ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا مسلمانوں پر واجب ہے۔ اس لیے امارت شرعیہ سے جڑ کر رہنا اور امیر شریعت کے پیغام پر لبیک کہنا وقت کی اہم ضرورت ہے، قائد وفد نے امارت شرعیہ کے سو سالہ خدمات سے روشناس کرایا تمام شعبوں کا بہت ہی جامع تعارف کرایا، نیز انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھر کو اسلامی ماحول سے مزین کریں، مرد و عورت خود بھی اسلامی احکامات پر عمل کریں اور اپنے بچے اور بچیوں کو بھی ان پر عمل کرنے تلقین کریں۔
مفتی راشد انور قاسمی معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے اپنے خطاب میں اتحاد امت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کلمہ واحدہ کی بنیاد پر وحدت و اجتماعیت کے ساتھ زندگی گزاریں، اسی میں ان کی بقا ہے، انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ اپنا معاشرہ ایک صالح اور اسلامی معاشرہ بنائیں۔
مفتی امان اللہ قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ سمستی پور نے دارالقضاء کی اہمیت ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ اپنے معاملات امارت شرعیہ کے دارالقضاء سے حل کرائیں۔ مفتی نیر الاسلام قاسمی صاحب استاذ حدیث دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے ذمہ داران اور گارجین حضرات سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں، انہیں اس طرح اسلامی سانچے میں ڈھالیں کہ ان کے دل و دماغ میں ایمان اور اسلام پیوست ہو جائے۔ مولانا جمیل اختر رحمانی صاحب مبلغ امارت شرعیہ نے نظامت کے فرائض انجام دیے، مولانا رضوان صاحب مظاہری مبلغ امارت شرعیہ اور مولانا جمیل اختر رحمانی مبلغ امارت شرعیہ نے وفد کے اس دورے کو کامیاب بنانے میں مسلسل جد و جہد کر رہے ہیں ، جناب عبد الرحمن صاحب دریاپور لگنیا جناب شمیم صاحب علی نگر مہیش پٹی ، مولانا ضیاء اللہ اور شمیم صاحب صلحا، جناب ارشد احمد و احمد صاحب ساتن پور، مولانا امیر معاویہ، حافظ محمد شکیل صاحب مکھیا عبد الرحمن صاحب چاند چور رحیم ٹولہ وغیرھم نے امارت شرعیہ کے اس وفد کا پرجوش استقبال کیا، اکرام کیا، ضیافت کی۔ واضح رہے کہ وفد کا یہ دورہ مؤرخہ 10/ جون 2026 سے 17/ جون 2026 تک جاری رہے گا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

اکیس مرحوم نیٹ امیدواروں کو رضاکارانہ خون عطیہ کیمپ کے ذریعے خراجِ عقیدت

Published

on

گیا: ہیومن ہُڈ آرگنائزیشن (ٹیم ایچ 20) کی جانب سے جذبۂ انسانیت اور خدمتِ خلق کو فروغ دینے کے مقصد سے شردھانجلی ہیتو سوئیچھک رکت دان شِور کا انعقاد کیا گیا۔ یہ خصوصی خونِ عطیہ کیمپ نیٹ  امتحان سے جڑے حالات میں جان گنوانے والے 21 مرحوم طلبہ کی پاکیزہ یاد کے نام منسوب تھا۔
اس موقع پر 21 نوجوانوں نے اپنی رضامندی سے خون کا عطیہ دے کر مرحوم طلبہ کو پُرخلوص خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تنظیم کی جانب سے کہا گیا کہ مرحومین کو حقیقی خراجِ عقیدت صرف الفاظ یا پھول پیش کرنے سے نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت اور کسی کی جان بچانے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ خون کی ہر بوند کسی ضرورت مند مریض کے لیے نئی زندگی کا پیغام بن سکتی ہے اور یہی اس مہم کا بنیادی مقصد ہے۔
کیمپ میں جمع کیا گیا خون ریڈ کراس بلڈ بینک کے حوالے کر دیا گیا تاکہ ضرورت کے وقت مریضوں کو بروقت خون فراہم کیا جا سکے۔ ٹیم H2O کے ذمہ داران نے کہا کہ خراجِ عقیدت کا اصل مفہوم ایسا عمل انجام دینا ہے جس سے کسی انسان کی جان بچ سکے۔ ان کے مطابق خون کا عطیہ جذبۂ ہمدردی، ایثار اور سماجی ذمہ داری کی بہترین علامت ہے۔
کیمپ کو کامیاب بنانے میں تنظیم کے اراکین ثاقب الاسلام، شہنواز ملک، محمد زوہیب، کاشف سراج اور اکرام قریشی نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ریڈ کراس بلڈ بینک کی طبی ٹیم، موجود شہریوں اور سرپرستوں نے بھی بھرپور تعاون پیش کیا۔ تنظیم نے تمام خون عطیہ کرنے والوں، ڈاکٹروں اور معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی اجتماعی شراکت ہی انسانیت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
خون عطیہ کرنے والوں میں میرا ورما، محمد ریحان، انجلی کماری سنگھ، نیرو یادیو، سید ابوزر، محمد دانش، سید فیضان، شاکب خان، محمد عرفان، شیام پٹیل، محمد انس، راجن برنوال، فیضان علی، اکرام قریشی، محمد شمشاد، محمد اعظم، محمد چاند، محمد ماز، محمد سیف، محمد دانش اور محمد سونو شامل تھے۔ ان تمام افراد نے رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرکے یہ پیغام دیا کہ خدمتِ انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب اور سب سے عظیم فریضہ ہے۔
پروگرام کے اختتام پر تمام شرکاء نے باقاعدگی سے رضاکارانہ خون عطیہ کرنے اور معاشرے میں اس کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا عہد کیا۔ ٹیم ایچ 20 نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی فلاحی مہمات نوجوانوں میں خدمت، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کے جذبے کو مزید فروغ دیں گی اور خون کی کمی کا سامنا کرنے والے مریضوں کے لیے نئی زندگی کا سبب بنیں گی۔

اس موقع پر تنظیم کا یہ پیغام نہایت مؤثر ثابت ہوا: خراجِ عقیدت اُس وقت سب سے زیادہ بامعنی بن جاتا ہے جب وہ کسی دوسرے انسان کی دھڑکنوں میں نئی زندگی بن کر دھڑکنے لگے۔ اسی پیغام کے ساتھ ٹیم ایچ 20 کی یہ مہم محض ایک خونِ عطیہ کیمپ نہیں، بلکہ انسانیت، ایثار، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کی ایک قابلِ تقلید مثال بن گئی۔

Continue Reading

Bihar

تاریخی صوفی مزار کو کٹاؤ، تجاوزات اور سرکاری بے توجہی سے خطرہ

Published

on

بھاگلپور: چمپا ندی کے کنارے، بھاگلپور شہر سے تقریباً پانچ کلومیٹر مغرب میں، چالیس فٹ بلند ٹیلے پر واقع صوفی بزرگ حضرت خواجہ مخدوم شاہ (شیخ احمد سمرقندی) کا صدیوں پرانا مزار دریا کے کٹاؤ، زمین پر تجاوزات اور طویل عرصے سے جاری سرکاری بے توجہی کے باعث غیر یقینی مستقبل سے دوچار ہے۔
جو مقام کبھی روحانیت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور صوفی ورثے کا مرکز سمجھا جاتا تھا، آج شدید خستہ حالی کا شکار ہے۔ تاریخی عمارت کے صرف داخلی دروازے کے کچھ حصے اور اس سے متصل چند دیواریں ہی باقی رہ گئی ہیں۔
تاریخی روایات کے مطابق مخدوم شاہ دراصل شیخ احمد تھے، جو ایک صوفی عالم تھے اور جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ بارہویں صدی میں موجودہ ازبکستان کے شہر سمرقند سے ہندوستان آئے اور بعد میں بھگلپور میں قیام پذیر ہوئے۔ اپنے آبائی شہر کی نسبت سے وہ مقامی طور پرسمرقندی باباکے نام سے معروف ہوئے۔ انسانی خدمت اور صوفی تعلیمات کے فروغ کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے باعث بعد ازاں انہیںخواجہ مخدوم شاہکا خطاب ملا۔ بعض تاریخی ماخذ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مغلیہ دور میں ایک اہم انتظامی عہدہ بھی سنبھالا، جس کے باعث انہیں انتظامی اور سماجی دونوں شعبوں میں اثر و رسوخ حاصل تھا۔
روایت کے مطابق، اپنے روحانی مرشد کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے اپنی پوری زندگی ذات، مذہب، نسل اور برادری کی تفریق سے بالاتر ہو کر انسانیت، محبت، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ مانا جاتا ہے کہ ان کا وصال 1205ء میں ہوا اور انہیں چمپا ندی کے کنارے سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آج ان کا مزار قائم ہے۔
مقامی لوک روایات میں اس مزار سے متعدد کرامات بھی منسوب کی جاتی ہیں، جن میں یہ عقیدہ بھی شامل ہے کہ مزار کے عین اوپر سے گزرنے والے پرندے بحفاظت آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ تاہم مؤرخین ایسی روایات کو خطے کی زبانی روایت (اورل ٹریڈیشن) کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
جہانگیر کا خواب اور مزار کی تعمیرکتابEminent Muslims of Bhagalpur کے مطابق اس مزار کی عمر تقریباً 803 سال بتائی جاتی ہے۔ مقامی روایت کے مطابق، بزرگ کے وصال کے تقریباً چار صدی بعد مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر دریائی راستے سے بنگال جا رہے تھے کہ ان کی شاہی کشتی اس مقام کے قریب دو دن تک رکی رہی۔ انہی دنوں شہنشاہ نے خواب میں بزرگ کو دیکھا، جنہوں نے اپنی قبر پر مزار تعمیر کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد روایت کے مطابق جہانگیر نے اپنے فرزند شہزادہ پرویز، جو اس وقت مونگیر کے گورنر تھے، کو مزار کی تعمیر کی نگرانی کا حکم دیا اور پھر اپنا سفر جاری رکھا۔
مزار سے منسلک وقف جائیداد تقریباً دس بیگھہ پر مشتمل بتائی جاتی ہے، لیکن مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ برسوں کے دوران اس کی بڑی مقدار پر تجاوزات ہو چکی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ نے نہ تو اس تاریخی یادگار کے تحفظ کے لیے اور نہ ہی اس کی اراضی کو محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
وارڈ نمبر 6 کے کونسلر نجاحت انصاری نے بتایا کہ انہوں نے متعدد بار حلقہ افسر (سرکل آفیسر) سے مطالبہ کیا ہے کہ مزار اور اس کی باقی ماندہ زمین کے تحفظ کے لیے چہار دیواری تعمیر کرائی جائے۔ ان کے مطابق اصل وقف جائیداد کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی اب باقی رہ گیا ہے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ بھی ختم ہو سکتا ہے۔

تاریخی عمارت کا بڑا حصہ دریا کے کٹاؤ اور دہائیوں کی بے توجہی کے باعث پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے۔ مزار کے اطراف گھنی جھاڑیاں اور خودرو پودے پھیل چکے ہیں، جبکہ مرمت اور بحالی کے کام نہ ہونے سے اس کی خستہ حالی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

مؤرخین اور مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ مزار نہ صرف ایک اہم مذہبی مقام ہے بلکہ بھگلپور کے قرونِ وسطیٰ کے ثقافتی اور تعمیراتی ورثے کی بھی ایک قیمتی علامت ہے۔ ان کے مطابق اس کی تاریخی اہمیت کے باوجود محکمہ آثارِ قدیمہ، بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ یا مقامی انتظامیہ کی جانب سے اس کے تحفظ یا بحالی کے لیے اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔

تحفظِ آثار کے ماہرین اور مقامی باشندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس تاریخی یادگار کے تحفظ، تجاوزات کے خاتمے اور باقی ماندہ زمین کے گرد چہار دیواری کی تعمیر کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صوفی ورثے کی یہ اہم ترین علامت ہمیشہ کے لیے معدوم ہو سکتی ہے اور صرف تاریخی ریکارڈ کا حصہ بن کر رہ جائے گی۔

Continue Reading

Bihar

بانکی پور میں تیجسوی یادو کا شاندار روڈ شو،برسوں تک اس سیٹ پر ایک ہی خاندان کا رہاہے قبضہ، بی جے پی نے علاقہ کی ترقی کے لیے نہیں کیا کوئی قابلِ بھروسہ کام:تیجسوی یادو

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے بانکی پور ضمنی انتخاب میں مہاگٹھ بندھن (آر جے ڈی) کی امیدوار ریکھا کماری گپتا کی حمایت میں پوری طاقت جھونک دی۔ تیجسوی یادو نے پیر کے روز میٹھاپور واقع مرکزی انتخابی دفتر سے بانکی پور اسمبلی حلقہ کی پارٹی امیدوار ریکھا کماری گپتا کے حق میں روڈ شو کا آغاز کیا۔اس موقع پر تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا کہ اس بار آر جے ڈی امیدوار کی کامیابی یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن سوراج پارٹی کے امیدوار پرشانت کشور کا بانکی پور میں کوئی چرچا نہیں ہے۔
روڈ شو پر روانہ ہونے سے قبل تیجسوی یادو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانکی پور میں آر جے ڈی کا براہِ راست مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسوں تک اس نشست پر ایک ہی خاندان کا قبضہ رہا، لیکن علاقے کی ترقی کے لیے کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کیا گیا۔ عوام نے اس بار آر جے ڈی امیدوار کو کامیاب بنانے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے نتن نوین کی نشست سے نیرج کمار سنہا کو اپنا امیدوار بنایا ہے، جبکہ آر جے ڈی نے ریکھا کماری گپتا کو مسلسل دوسری بار میدان میں اتارا ہے۔ 2025 کے اسمبلی انتخابات میں بھی ریکھا گپتا نے نتن نوین کے خلاف انتخاب لڑا تھا اور 45 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔
تیجسوی یادو کا روڈ شو چاندپور بیلا، سپارا، وِگرہ پور پوسٹل پارک، چڑیاٹاڑ پل، گوریا ٹولی، لال جی ٹولہ سے ہوتا ہوا سبزی باغ تک جائے گا۔ روڈ شو کے دوران تیجسوی یادو کا قافلہ کافی طویل تھا، جبکہ بڑی تعداد میں آر جے ڈی کے کارکنان اور حامی اس میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر کارکنان نے آر جے ڈی امیدوار ریکھا کماری گپتا کی کامیابی کا دعویٰ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ تیجسوی یادو اتوار کے روز اپنے غیر ملکی دورے سے واپس پٹنہ پہنچے تھے۔ واپسی کے فوراً بعد انہوں نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے معاملے پر نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
بانکی پور ضمنی انتخاب میں مقابلہ سہ رخی ہو گیا ہے۔ نتن نوین کے راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہونے کے بعد یہ نشست خالی ہوئی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس حلقے سے بوتھ سطح کے کارکن نیرج سنہا کو امیدوار بنایا ہے، جبکہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی جانب سے ریکھا کماری گپتا انتخابی میدان میں ہیں۔ دوسری طرف جن سوراج کے کنوینر پرشانت کشور کی انتخابی میدان میں آمد کے بعد یہ مقابلہ مزید دلچسپ اور سنسنی خیز ہو گیا ہے۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network