تازہ ترین
معمولی بات پر نوجوان کو گھیر چاقو سے قتلسیاسی دشمنی کا بدلہ بچوں سے لے رہی ہےبی جے پی: منیش سسودیامونارک سکینڈری سکول ہندوراہ میں متزکرہ بالا سوسائٹی کے زیر اہتمام محفل کا انعقادانسانی زندگی کو بہتر بناناہونا چاہیے ٹیکنالوجی کا مقصدبنہیڑہ ریلوے اسٹیشن پر سمینٹ کے مٹیریل اتارنے پر گائوں والوں کا احتجاجمولانا محمد مستقیم جمعیۃ علماء تحصیل نکوڑ کے کنوینر نامزد ، اصلاح معاشرہ کمیٹی کے ضلع کنوینر مولانا مشرف رشیدی نے لیٹر سونپابہارکو تعلیمی اور ترقی کے میدان میں آگے لے جاناضروری، ڈاکٹر شری کرشن سنگھ کے یومِ پیدائش پر بہار اسمبلی کے ایوان میں تقریب کا انعقاد،’بہار گورو سمان‘ تقریب میں مختلف شعبوں کی ممتاز شخصیات اعزاز سے سرفراز، تعلیم، طب، سماجی خدمت اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کی شرکتفاربس گنج ایئرپورٹ سے جلد شروع ہوگی ہوائی سروس، ارریہ میں ایئرپورٹ کا خواب بھی جلد ہوگا شرمندۂ تعبیر: پردیپ کمار
uttar pradesh

کانوڑ یاترا کے دوران شراب اور ڈی جے پر مکمل پابندی کا مطالبہ

امروہہ: ۔ کانوڑ یاترا کے پیش نظر ضلع امروہہ میں مذہبی ہم آہنگی، امن و امان اور عدالتِ عظمیٰ کے احکامات پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے مطالبہ کے ساتھ صدرِ جمہوریہ ہند کے نام ایک مکتوب ضلع مجسٹریٹ امروہہ کے ذریعے پیش کیا گیا۔ اس مکتوب میں کانوڑ یاترا کے مرکزی راستوں پر شراب اور بیئر کی تمام دکانوں کو مکمل طور پر بند رکھنے اور ڈی جے کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ مکتوب حاجی ناصر فاروق (ایڈوکیٹ)، مولانا، امروہہ کی جانب سے دیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ماہ جولائی میں شروع ہونے والی کانوڑ یاترا کے دوران امروہہ کے اہم شاہراہوں پر بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ ایسے میں شراب کی دکانوں کا کھلا رہنا اور بلند آواز میں ڈی جے کا استعمال عوامی نظم و نسق، مذہبی ماحول اور سماجی ہم آہنگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈی جے کے استعمال سے خصوصاً طلبہ، مریضوں اور عام شہریوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلند آواز کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، جبکہ اسپتالوں اور مریضوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ، نئی دہلی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ افسران کو عدالت کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت دی جائے۔
مکتوب میں مزید نشاندہی کی گئی کہ کانوڑ یاترا کے راستوں میں متعدد مندروں، مساجد، گرجا گھروں اور دیگر مذہبی مقامات کے علاوہ رہائشی علاقے بھی واقع ہیں، جہاں غیر ضروری شور شرابہ اور بے ہنگم صوتی آلات کے استعمال سے عام لوگوں اور عبادت گاہوں کے تقدس پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔آخر میں صدرِ جمہوریہ سے گزارش کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو مناسب احکامات جاری کیے جائیں تاکہ کانوڑ یاترا کے دوران شراب کی دکانیں مکمل طور پر بند رہیں، ڈی جے کے استعمال پر پابندی نافذ کی جائے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس اقدام کو ضلع میں امن، سماجی ہم آہنگی اور عوامی مفاد کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔