uttar pradesh
نوویں سے 12ویں جماعت تک کے آن لائن فارم میں غفلت پر یوپی بورڈ سخت
دیوبند:تعلیمی سال 2026-27 کے لئے درجہ 9اور درجہ 11کے طلبہ وطالبات کے آن لائن ایڈوانس رجسٹریشن اور بورڈ امتحانات 2027کے لئے ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کے ریگولر وپرائیویٹ امتحان فارم یوپی بورڈ کی ویب سائٹ پرآن لان بھرنے کے لئے اسکولوں وکالجوں کی جانب سے بہت زیادہ غفلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔
موجودہ پروگریس رپورٹ کے مطابق ایڈوانس رجسٹریشن اوربورڈ امتحانات فارم کی آن لان انٹری نہایت سست رفتاری کے ساتھ کی جارہی ہے ۔اسکولوں وکالجوں کی اس غفلت ،لاپرواہی اورسست روی پر بورڈ سکریٹری بھگوتی سنگھ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے تمام اضلاع کے انسپکٹر آف اسکولز کے نام ایک نوٹس جاری کرکے یہ احکامات دیئے ہیں کہ انسپکٹرآف اسکول اپنے ضلع سبھی منظور شدہ ہائی اسکولوں وانٹرکالجوں سے رابطہ قائم کیا جائے اورانہیں سخت احکامات وہدایات دی جائیں کہ فوری طور پر ایڈوانس رجسٹریشن فارم اور ہائی اسکول وانٹر کے امتحان فارم 2027کو آن لائن کرائے جانے کے کام کو فوری طور پر انجام دیا جائے ۔تاکہ ایڈوانس رجسٹریشن برائے درجہ 9اور درجہ 11؍ نیز بورڈ امتحان فارم کو آن لائن کئے جانے کا کام مقررہ مدت میں مکمل کیا جاسکے ۔
بورڈ سکریٹری نے بھیجی گئی تحریر میں واضح کردیا ہے کہ اب اس کام کے لئے مزید مہلت نہیں دی جائیگی اس لئے طے شدہ وقت تاریخ تک ہر حال میں مذکورہ کاموں کو مکمل کرنے کویقینی بنانا ہوگا ۔
uttar pradesh
کانوڑ یاترا کے دوران شراب اور ڈی جے پر مکمل پابندی کا مطالبہ
امروہہ: ۔ کانوڑ یاترا کے پیش نظر ضلع امروہہ میں مذہبی ہم آہنگی، امن و امان اور عدالتِ عظمیٰ کے احکامات پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے مطالبہ کے ساتھ صدرِ جمہوریہ ہند کے نام ایک مکتوب ضلع مجسٹریٹ امروہہ کے ذریعے پیش کیا گیا۔ اس مکتوب میں کانوڑ یاترا کے مرکزی راستوں پر شراب اور بیئر کی تمام دکانوں کو مکمل طور پر بند رکھنے اور ڈی جے کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ مکتوب حاجی ناصر فاروق (ایڈوکیٹ)، مولانا، امروہہ کی جانب سے دیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ماہ جولائی میں شروع ہونے والی کانوڑ یاترا کے دوران امروہہ کے اہم شاہراہوں پر بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ ایسے میں شراب کی دکانوں کا کھلا رہنا اور بلند آواز میں ڈی جے کا استعمال عوامی نظم و نسق، مذہبی ماحول اور سماجی ہم آہنگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈی جے کے استعمال سے خصوصاً طلبہ، مریضوں اور عام شہریوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلند آواز کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، جبکہ اسپتالوں اور مریضوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ، نئی دہلی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ افسران کو عدالت کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت دی جائے۔
مکتوب میں مزید نشاندہی کی گئی کہ کانوڑ یاترا کے راستوں میں متعدد مندروں، مساجد، گرجا گھروں اور دیگر مذہبی مقامات کے علاوہ رہائشی علاقے بھی واقع ہیں، جہاں غیر ضروری شور شرابہ اور بے ہنگم صوتی آلات کے استعمال سے عام لوگوں اور عبادت گاہوں کے تقدس پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔آخر میں صدرِ جمہوریہ سے گزارش کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو مناسب احکامات جاری کیے جائیں تاکہ کانوڑ یاترا کے دوران شراب کی دکانیں مکمل طور پر بند رہیں، ڈی جے کے استعمال پر پابندی نافذ کی جائے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس اقدام کو ضلع میں امن، سماجی ہم آہنگی اور عوامی مفاد کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔
uttar pradesh
معروف فکشن نگار پریم چندکی یوم پیدا ئش کے موقع پریک روزہ قومی پریم چند سیمینار و ڈرامہ30 جولائی کو
میرٹھ:چودھری چر ن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ کے اٹل سبھا گار میں معروف فکشن نگار منشی پریم چند کی یوم پیدا ئش اور معروف رنگ کرمی آنجہانی سریندر شرماکی یاد میں 30/ جولائی 2026ء کو چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے اٹل سبھا گار میں شعبہئ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی، وی کمٹ سوسائٹی اور میرٹھ آرٹسٹ ایسو سی ایشن کے اشتراک سے یک روزہ قومی پرم چند سیمینار اور مزاحیہ ڈرا مہ”گورکھ دھندا“ کا انعقاد کیا جائے گا۔
یہ معلو مات معروف ادیب و ناقد اور میرٹھ آرٹسٹ ایسوسی ایشن کے صدر پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے پریم چند سیمینار ہال میں پریس کانفرنس کے دوران فراہم کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ منشی پریم چند کی یوم پیدا ئش کے مو قع پر یک روزہ قو می پریم چند سیمینار کا انعقاد30/ جولائی کو شام چار بجے کیا جائے گا جس میں اسکالرز منشی پریم چند کی اردو اور ہندی خدمات پر اپنے مقالات اور اظہار خیال فر مائیں گے بعد ازاں شام چھ بجے سے مزا حیہ ڈرا مہ”گورکھ دھندا“ اسٹیج کیا جائے گا۔ ڈارمہ کی ہدایت کاری سینئر رنگ کرمی انل شرما کے ذریعے کی جائے گی، ڈرا مے کو تحریر کیا ہے جے وردھن نے،لائٹ اور موسیقی جتیندر سی راج کے ذریعے کی جائے گی۔اس موقع پر سابق ممبر آ ف پارلیامنٹ راجندر اگر وال مہمان خصوصی کی حیثیت سے شر کت فرمائیں گے۔
ڈرامے کے کنوینر ونود کمار بے چین نے پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامے کی پوری تیاری کی جاچکی ہے اور اس انعقاد میں ڈرامہ تحریر کرنے والے جے وردھن اور فلم اور ٹی وی ڈائریکٹر نیرج شر ما خاص طور پر شرکت فرمائیں گے۔میرٹھ آرٹسٹ ایسوسی ایشن کے نائب صدر انل شر ما نے بتایا کہ اس مو قع پر سینئر رنگ کرمی آنجہانی سریندر شرما جی کو بعد از مرگ اعزاز سے نوازا جائے گا۔ اس مو قع کے لیے خاص طور سے ان کے اہل خانہ کو پروگرام میں مدعو کیا گیا ہے۔
دیگر مہمانان میں سابق وزیر پربھو دیال بالمیکی، انجینئر ذاکر حسین خصوصی طور پر پروگرام میں شرکت فرمائیں گے۔
پریس کانفرنس میں وی کمٹ سوسائٹی کے صدر اتل سکسینہ،میرٹھ آرٹسٹ ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری راشد یوسف، ہیمنت گویل، جتیندر سی راج، شہزاد، فیضان یاسین، مائیکل ٹیساورڈ،شاہد غوری، جیش ٹیساورڈ، ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر ارشاد سیانوی، فرحت اختر، محمد شمشاد وغیرہ موجود رہے۔آپ سے گذارش ہے کہ مورخہ30/ جولائی2026 کو اپنے مؤقر روزنامے سے کیمرہ پرسن اور نامہ نگار بھیجنے کی زحمت گوارا فرمائے۔
uttar pradesh
کسی بھی صورت میں منہدم نہیں ہونے دیں گے جوہر یونیورسٹی،اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کے لیے اکھلیش یادو نے رام پور بھیجا سماجوادی پارٹی کا وفد،ضلع مجسٹریٹ کو سونپا میمورنڈم
(پی این این)
رام پور:اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز سماجوادی پارٹی کے آٹھ ارکانِ پارلیمنٹ سمیت 10 رکنی وفد رام پور پہنچا اور ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کرکے انہیں ایک عرضداشت پیش کی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارکانِ پارلیمنٹ نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو کسی بھی صورت منہدم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تعلیمی ادارہ ہے اور طلبہ سے لے کر اساتذہ تک، سب کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔وفد نے ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی سے ملاقات کے دوران یونیورسٹی کی عمارتیں منہدم کرنے کے حکم کو منسوخ کرنے اور قانون کے مطابق اس مسئلے کا مناسب حل نکالنے کی درخواست کی۔
دوپہر تقریباً سوا ایک بجے سماجوادی پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ کا وفد درجنوں گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ گاندھی سمادھی واقع سنت شیرو منی روی داس گیسٹ ہاؤس پہنچا۔ یہاں حامیوں کی بڑی تعداد جمع تھی، جس کے باعث کچھ دیر دھکم پیل بھی ہوئی۔ اس کے بعد ارکانِ پارلیمنٹ کا قافلہ جوہر یونیورسٹی کے لیے روانہ ہو گیا۔یونیورسٹی کیمپس میں وفد نے دھرنے پر بیٹھے طلبہ و طالبات سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ اجلاس کے بعد وفد سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے کلکٹریٹ پہنچا، جہاں ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کرکے انہیں ایک یادداشت پیش کی۔وفد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سماجوادی پارٹی جوہر یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ کلکٹریٹ سے واپسی کے بعد تمام ارکانِ پارلیمنٹ اعظم خان کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ سے ملاقات کی۔
مفاہمت نامہ پر سماجوادی پارٹی کے ضلعی صدر اجے ساگر، رکنِ پارلیمنٹ جاوید علی خان، ہریندر ملک، روچی ویرا، اقرا حسن، نیرج موریہ، ضیاء الرحمٰن برق، دیویش شاکیہ اور رام شیرو منی ورما کے دستخط موجود ہیں۔جوہر یونیورسٹی کو منہدم کیے جانے کی کارروائی کے خلاف رام پور پہنچیں مرادآباد سے سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ روچی ویرا نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر منہدم نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک عمارت کا معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ و طالبات کے مستقبل کا سوال ہے، اور سماجوادی پارٹی بچوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
سنبھل سے رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو منہدم کرنے سے متعلق انتظامیہ کی کارروائی پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو منہدم کرنے کا حکم سراسر غلط ہے اور رام پور کے ضلع مجسٹریٹ کو یہ حکم فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ زیرو آور میں اس موضوع پر اظہارِ خیال کے لیے ان کا نمبر بھی آ چکا تھا، لیکن ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔
رام پور پہنچیں کیرانہ سے سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ اقرا حسن نے حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کو صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ اس کی بنیاد سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان نے رکھی تھی۔اقرا حسن نے کہا کہ اگر عمارتوں کے نقشوں کو بنیاد بنا کر کارروائی کی جا رہی ہے تو انگریزوں کے دور میں تعمیر ہونے والی بے شمار عمارتیں آج بھی بغیر منظور شدہ نقشوں کے موجود ہیں۔ ایسے میں کیا حکومت ان تمام عمارتوں کو بھی منہدم کرے گی؟
راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ جاوید علی خان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سے کسی بھی قسم کی امید رکھنا بے سود ہے، کیونکہ یہ تعلیم اور عوام دونوں کی مخالف حکومت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک کے لوگ تعلیم حاصل کریں یا غریب خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم میسر آئے۔
جاوید علی خان نے الزام لگایا کہ جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنے سے متعلق ضلع انتظامیہ کا حکم غیر قانونی ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔
مظفر نگر سے رکنِ پارلیمنٹ ہریندر ملک نے اتر پردیش حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیم کے فروغ کے بجائے تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے۔ہریندر ملک نے کہا کہ حکومت کی توجہ نئی یونیورسٹیاں قائم کرنے پر ہونی چاہیے، لیکن اس کے برعکس وہ موجودہ تعلیمی اداروں کو منہدم کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت ارکانِ پارلیمنٹ کے مطالبے کو قبول کرے گی، تو انہوں نے جواب دیا، ’’اگر حکومت مہر نہیں لگائے گی، تو ہم اپنی مہر لگائیں گے۔‘‘
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
