دلی این سی آر

وکست بھارت2047 کے تناظر میں ادبِ اطفال پر جے این یو میں اہم پروگرام کا انعقاد

نئی دہلی :ـبچوں کے بغیر وِکِسِت بھارت کا تصور مکمل نہیں ہوسکتا۔ 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے نئی نسل کی فکری، تخلیقی اور اخلاقی تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جس میں ادبِ اطفال مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔
اسی مقصد کے تحت ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر اور پروگرام کی کنوینر ڈاکٹر سفینہ بیگم کی پہل پر ’’بااختیار بچپن: وِکِسِت بھارت کا تصور 2047‘‘ کے تحت ادبِ اطفال کے موضوع پر ایک اہم پروگرام منعقد کیا گیا۔کمیٹی روم نمبر 212 میں منعقد پروگرام کا آغاز کو-کنوینر ڈاکٹر عظمت اللہ کے تعارفی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بچوں کے لیے معیاری ادب کی ضرورت اور موجودہ دور میں ادبِ اطفال کی معنویت کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر مہمانانِ خصوصی اور مدعو شخصیات کو مومنٹو پیش کیے گئے، جبکہ ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے جشنِ زرّیں کے موقع پر شائع ہونے والی کتاب ’’لفظوں سے بنتی دنیا‘‘ کی کاپیاں بھی پیش کی گئیں۔پروگرام کے دوران معروف ماہرِ ادبِ اطفال طٰہٰ نسیم کی کتاب ’’سوچ کے پنکھ (اصلاحی نظمیں اور کہانیاں)‘‘ کا اجرا کیا گیا۔ کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے طٰہٰ نسیم نے کہا کہ ادبِ اطفال کو وہ مقام نہیں ملا جس کا وہ مستحق ہے۔ انہوں نے بچپن میں کہانی سنانے اور تخیل کی فطری صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ یہی صلاحیت ادبی تخلیق کی بنیاد بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو پہیلیاں سنانے کی روایت تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے، جبکہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات سے مطالعے کی عادت بھی متاثر ہوئی ہے۔
. ان کے مطابق بچوں کے لیے لکھنے والے ادیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی نفسیات، جذبات، مسائل اور دلچسپیوں کو سمجھے۔ حساسیت اور مطالعہ اچھے ادب کی تخلیق کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عارف اشتیاق نے ’’سوچ کے پنکھ‘‘ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ادب میں اصلاحی اور سائنسی پہلوؤں کے ساتھ ایسی فکر بھی شامل ہونی چاہیے جو بچوں کو مثبت کرداروں اور کارناموں سے متاثر کرے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے معاشرے کی تشکیل میں بچوں کی فکری تربیت، مطالعے کا ذوق اور مثبت اقدار اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ہندوستانی زبانوں کا مرکز کے ہندی کے پروفیسر اور معروف کہانی کار ڈاکٹر دیویندر کمار چوبے نے کہا جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں بچوں کے ادب پر پہلی بار ایسا کوئی پروگرام ہوا یہ ایک بڑی بات ہے اور یہ بہت ضروری بھی تھا انہوں نے پروگرام کی کنوینر ڈاکٹر سفینہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے بچوں کے لیے کہانی لکھنے کے فنی پہلوؤں پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی کہانی میں تخیل، دلچسپی اور فکری کشش ضروری ہے، ورنہ تحریر مطلوبہ اثر پیدا نہیں کرپاتی۔ دیال سنگھ ایوننگ کالج ، شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر محمد ساجد حسین نے صدارتی خطاب میں کہا کہ بچوں کا ادب لکھنے کے لیے خود بچے کی فطرت کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے لیے لکھنا حساس اور ذمہ دارانہ کام ہے۔
اور ان کی عمر، ذہنی سطح اور نفسیات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
ان کے مطابق ادبِ اطفال محض تفریح نہیں بلکہ بچوں کی شخصیت سازی اور فکری تربیت کا اہم ذریعہ ہے۔ڈاکٹر سفینہ بیگم نے کہا کہ ادبِ اطفال کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو سمجھے بغیر ان کے لیے مؤثر ادب تخلیق نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وِکِسِت بھارت@2047 کے تناظر میں بچوں کی فکری اور تخلیقی تشکیل پر توجہ دینا ناگزیر ہے، کیونکہ آج کے بچے ہی مستقبل کے ہندوستان کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس مقصد کے لیے ان میں مطالعے کا شوق، تخیل، حساسیت، علمی جستجو اور مثبت اقدار پیدا کرنے والے ادب کو فروغ دینا ہوگا۔پروگرام ہندوستانی زبانوں کا مرکز کے چیئرپرسن پروفیسر سدھیر پرتاپ سنگھ کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر ہپروفیسر رام چندر ،پروفیسر بندنا جھا،ڈاکٹر پرویز احمد ، کے علاوہ ڈاکٹر رشی کمار شرما، ڈاکٹر شیو پرکاش، ڈاکٹر عظمت اللہ ،ڈاکٹر مرنمے پرمانک،ڈاکٹر دیوی لال گودارا،ڈاکٹر شاہد اقبال اور بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرز محمد اسجد، محمد فرحان، عبد الوارث، پیوش پراکھر، شوکت، آدتیہ راج، محمد ندیم، مغیث الدین سمیت کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات موجود تھے۔آخر میں پروفیسر رام چندر نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔ انہوں نے مہمانان، مقررین، اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

متعلقہ خبریں