نئی دہلی :’موجودہ دور میں جدید ڈیجیٹل دنیا کے علمی و معلوماتی امکانات سے بہرہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ قدیم کتب بینی کی روایت سے وابستگی بھی ہماری فکری زندگی کا ناگزیر تقاضا ہے۔ کتب خانے محض کتابوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ تہذیبی حافظے اور انسانی دانش کے وہ امین ہیں، جو ہمیں ماضی کے فکری و تہذیبی ورثے سے جوڑتے ہیں، حال کی تشکیل میں بصیرت فراہم کرتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک گراں قدر علمی سرمایہ محفوظ رکھنے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔‘ ان خیالات کا اظہار جناب جنید حارث، صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے بزمِ طلبہ کی جانب سے منعقد ’ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری‘ کے دورے کے موقع پر طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے اس امرپر زور دیا کہ طلبہ و طالبات اپنے علمی سفر کو جامعہ کی حدود تک محدود رکھنے کے بجائے بین الاقوامی و قومی کتب خانوں اور عالمی علمی مراکز کے دروازوں تک رسائی پیدا کریں، تاکہ ان کے مطالعے اور تحقیق میں وسعتِ نظر، گہرائی اور تنوع پیدا ہو۔ اسی سلسلے میں انھوں نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی لائبریری کو ایک معیاری حوالہ جاتی لائبریری کے طور پر فروغ دینے اور اسے ریسرچ اسکالرس اور طلبہ کی علمی و تحقیقی ضروریات کے لیے مزید مؤثر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر جمیل احمد، اسسٹنٹ لائبریرین نے طلبہ و طالبات کو لائبریری کے مختلف شعبوں کا تفصیلی مشاہدہ کراتے ہوئے وہاں موجود علمی و تحقیقی وسائل اور سہولیات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے اساتذہ ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ڈاکٹر خورشید آفاق، ڈاکٹر جاوید اختر اور ڈاکٹر محمد اسامہ کے علاوہ ایم اے اور بی اے کے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس دورے کو کامیاب بنانے میں بزم طلبہ کے مشیر ڈاکٹر خورشید آفاق، نائب صدر محمد گلفام، جنرل سیکریٹری محمد عمر، معاون سکریٹری احسن اعجاز، صبیحہ علی بھٹو اور دیگرنمائندگان آمنہ خاتون، محمد شاداب ہاشمی، ادیبہ، ثمن کوثر، محمد تابش ابراہیم اور تسمیہ حیدر کا اہم کردار رہا۔
