نئی دہلی: بی جے پی کے تھپڑ باز وزیر پرویش ورما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کر رہے عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ غنڈہ گردی کرنے والی دہلی پولیس کے خلاف پارٹی نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اگر پولیس کو انصاف کرنا ہوتا تو ہماری شکایت پر اب تک ایف آئی آر درج ہو چکی ہوتی۔ پولیس نے ہماری خواتین کارکنوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، ان کے کپڑے پھاڑے اور میرا گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی، مجرموں کی طرح پولیس نے ذات پات اور فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کی کوشش کی۔ یہ سب کچھ کیمرے میں قید ہے۔ اس کے باوجود نہ تو پرویش ورما کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی اور نہ ہی قانون کے خلاف کام کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا۔ بدھ کے روز آپ کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ گزشتہ تین دن سے ہم پرویش ورما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ صرف تھپڑ مارنے سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ پرویش ورما نے تھپڑ مارنے کے ساتھ ساتھ صاحب سنگھ کے ہاتھ سے اس کا موبائل فون بھی چھین لیا تھا۔ اس موبائل میں پرویش ورما کے محکمے میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ جب رکن اسمبلی جرنیل سنگھ نے پرویش ورما کے سامنے ہاتھ سے سڑک اکھاڑ کر دکھائی تو انہوں نے اپنے محکمے کے افسران سے کوئی سوال نہیں کیا، نہ ہی تحقیقات یا قصورواروں کو سزا دینے کی بات کی، بلکہ وہ پورے معاملے میں افسران کا دفاع کر رہے تھے۔ اسی بدعنوانی کے ثبوت مٹانے کے مقصد سے پرویش ورما نے اس نوجوان کا موبائل جھپٹ لیا تھا۔آپ کارکن اور متاثرہ ساکشی گپتا نے کہا کہ 27 ستمبر کو جب ہم سب لوگ احتجاج کر رہے تھے تو کچھ مرد پولیس اہلکار آئے اور انہوں نے مجھے زبردستی سینے سے پکڑ کر کھینچا۔ میں نے اور وہاں موجود دیگر خواتین نے مسلسل چیخ کر کہا کہ میں ایک خاتون ہوں اور مجھے اس طرح نہ گھسیٹیں، لیکن وہ نہیں رکے۔ پولیس نے مجھے اتنی بری طرح گھسیٹا کہ مجھے چوٹ لگی اور انہوں نے پینٹ میں ہاتھ ڈال کر مجھے کھینچا۔ ساکشی گپتا نے کہا کہ یہ پولیس اہلکار وردی میں چھپے ہوئے غنڈے اور درندے ہیں۔اس دوران میونسپل کونسلر ساریکا چودھری نے کہا کہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے جب پالَم کی ایک عمارت میں آگ لگی تھی تو اس وقت بھی ایک اے سی پی نے میرے ساتھ انتہائی غلط طریقے سے سلوک کیا تھا، سینہ پکڑا تھا اور گالی گلوچ کی تھی، جس کی تحریری شکایت دینے کے باوجود آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ گزشتہ تین دن سے جاری احتجاج میں بھی خواتین کے ساتھ مسلسل بدتمیزی کی گئی، جبکہ وہاں خاتون پولیس اہلکار موجود ہی نہیں تھیں۔
پولیس کی غنڈہ گردی کے خلاف جائیں گےعدالت: سوربھ بھاردواج
