تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
دیش

طلبا کے آگے جھکی سرکار،پردھان مستعفی

نئی دہلی:بالآخر طلبا کے آگے جھکنے پر مجبور ہوگئی مودی سرکار، سی جے پی کے طلبا کے مظاہرے کے دبائو میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ کے بعد جنتر منتر پر چلنے والے مظاہرہ کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔سی جے پی کے ترجمان نے کہا ہے کہ مرکزی سرکار نے بات چیت میں سی جے پی کے تمام مطالبات مان لیے ہیں ۔ اس لئے اب طلبا کو جنتر منتر سے گھر واپس لوٹ جانا چاہئے۔
غورطلب ہے کہ وزیر تعلیم پردھان کے استعفیٰ کے بعد مرکزی حکومت کے دو نمائندے وزیر جتیندر سنگھ اور جے پی نڈا کے درمیان کاکروچ پارٹی کے دو ارکان سوربھ داس اور ابھشیک راکا کےدرمیان تیسرے دور کی بات چیت ہوئی، جس میں حکومت نے تمام مطالبات تسلیم کرلئے اس کے بعد کنسٹیوٹیوشن کلب دہلی میں سی جے پی کے ترجمان آشوتوش راکا نے کہا کہ ہماری تمام باتیں مان لی گئی ہیں ہم مظاہرین نے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جائیں۔
مرکزی وزیر نڈا نے کہا کہ سرکار نیٹ سے متعلق خودکشی کرنے والوں کے متاثرین کو ورثا کو معاوضہ دے گی۔ آشوتوش راکا نے کہا کہ ہم نے نیٹ متاثرین خاندان کے لئے ایک کروڑ معاوضہ کی بات کی ہے سرکار اس پر راضی ہے۔ امید ہے کہ متعینہ مدت میں تمام مطالبات پورے کرلئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے سرکار کے سامنے پانچ مطالبات والا مکتوب رکھا ، جس میں تعلیم اور امتحانات میں بڑی تبدیلی کی بات بھی کہی گئی تھی۔ ہم اس معاملے میں چار ہفتے بعد پھر سرکار سے ملیں گے۔ تاکہ بڑے اصلاحات پر کام کیا جاسکے۔ اگر سرکار ان تمام مطالبات کومان لیتی ہے تو ہم اپنا اندولن بھی واپس لے لیں گے۔
غورطلب ہے کہ ” 20 جولائی کے “چلو پارلیمنٹ” مارچ کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرین کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔ سی جے پی نے ان تمام مقدمات کی واپسی اور آئندہ کسی قانونی کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سورَو داس نے کہا، “حکومت نے یہ مطالبہ بھی مان لیا ہے۔ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تمام ایف آئی آر کی نقول تین سے چار دن کے اندر فراہم کی جائیں گی اور ان کی واپسی کا عمل بھی جلد مکمل ہوگا۔ حکومت اس سلسلے میں منگل تک تحریری ضمانت بھی فراہم کرے گی۔” اس سے قبل آج ہی دھرمیندر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ طلبہ کے وسیع تر مفاد میں عہدہ چھوڑ رہے ہیں تاکہ ملک کے نوجوان “کنفیوژن کے جال” میں نہ پھنسیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی، جس کا آغاز چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک تبصرے کے بعد طنزیہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے طور پر ہوا تھا، نے سماجی کارکن سونم وانگچک کے ساتھ مل کر جنتر منتر پر احتجاج کی قیادت کی تھی اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ تنازعہ مئی 2026 میں نیٹ۔یو جی پرچہ لیک سامنے آنے کے بعد شروع ہوا، جبکہ دوبارہ امتحان 21 جون کو منعقد کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔