Connect with us

Bihar

حاجی پور:انجمن ادب و صحافت کے زیراہتمام بزم مشاعرہ کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
حاجی پور:ویشالی کا تاریخی قصبہ چاند پور فتح گذشتہ روز علم و ادب، شعر و سخن اور عزم و حوصلے کی ایک ایسی کہکشاں کا گواہ بنا جس کی چمک دیر تک دلوں کو منور کرتی رہے گی۔’انجمن ادب و صحافت‘ کے زیرِ اہتمام بمقام چاند پور فتح ایک پُرشکوہ اور پُر وقار’بزمِ مشاعرہ‘ کا انعقاد عمل میں آیا، جو نہ صرف ادبی معیار کے اعتبار سے مثالی تھا، بلکہ سماجی اور تعلیمی بیداری کا ایک روشن استعارہ بھی بن کر ابھرا۔
دن کے ٹھیک ۲ بجے شروع ہونے والی یہ علمی و ادبی نشست شام ۴ بجے تک مسلسل جاری رہی۔ ان دو گھنٹوں کے مختصر ترین وقت میں وقت کی پابندی اور اعلیٰ درجے کی پیشکش کا ایسا نادر نمونہ دیکھنے کو ملا جس نے کارروائی کے حسن کو دوبالا کر دیا۔ اس تاریخی اور یادگار محفل کی صدارت اردو دنیا کے مایہ ناز، کہنہ مشق اور استادِ سخن پروفیسر ناظم قادری صاحب نے فرمائی۔
پروفیسر ناظم قادری صاحب نے اپنی صدارتی گفتگو اور اپنے کلامِ بلاغت نظام سے نہ صرف مشاعرے کے وقار کو چار چاند لگائے بلکہ اپنی استادی کا لوہا منواتے ہوئے بزم میں موجود فکرمندانِ ادب کی بھرپور علمی رہنمائی بھی فرمائی۔ محفل میں نظامت کے منصب پر اِقلیمِ سخن کے خوش بیاں ناظم اور دلاویز شاعر اعجاز عادل متمکن تھے، جنہوں نے اپنے مخصوص ترنم اور سحر انگیز لب و لہجے سے پوری محفل کو اول تا آخر اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔
تقریب کا ایک انتہائی روح پرور لمحہ وہ تھا جب کہنہ مشق عالمِ دین اور دانشور مولانا شمیم احمد شمسی کی مایہ ناز تصنیف ’گلستانِ میر‘کی باضابطہ رونمائی عمل میں آئی۔ کتاب کے سرورق سے نقاب اٹھتے ہی پورا ہال تالیوں اور نعرہ ہائے تحسین سے گونج اٹھا۔ حاضرینِ مجلس اور معزز علمائے کرام نے اس گراں قدر تصنیف کو اردو نثر اور فکرِ میر کی تفہیم میں ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے مصنف کی ادبی و علمی کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
موجودہ دور میں تعلیم ہی قوموں کی تقدیر بدلنے کا واحد ذریعہ ہے، اور اس سچائی کو مجسم شکل میں اسٹیج پر دیکھا گیا جب میٹرک امتحان 2026ء میں ریاستِ بہار میں ٹاپ کر کے پوربے اور پسماندہ طبقے کا سر فخر سے بلند کرنے والی ہونہار طالبہ سبرین پروین نے محفل میں شرکت کی۔

انجمن ادب و صحافت کی جانب سے سبرین پروین کو ان کی اس فقید المثال کامیابی پر خصوصی اعزازات، انعامات اور توصیفی اسناد سے نوازا گیا۔
اس موقع پر جب سبرین پروین نے مائک سنبھالا، تو ان کے لفظوں میں حالات سے لڑنے کا حوصلہ اور مستقبل کی تڑپ صاف جھلک رہی تھی۔ ننھے طلبہ و طالبات اور حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے ایک ولولہ انگیز خطاب میں کہا: “تعلیم کوئی مصلحت نہیں، بلکہ ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ آپ سب کو خوب دل لگا کر پڑھنا ہوگا، اور یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ پڑھائی کے وقت کائنات کی ہر چیز پسِ پشت چلی جانی چاہیے—توجہ صرف اور صرف کتابوں پر ہونی چاہیے۔ میں نے اپنے عزم سے اپنے ضلع اور اپنی قوم کا نام روشن کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے، اب یہ مشعل آپ کو تھامنی ہے۔ ہم پسماندہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، ہم سماجی اور تعلیمی طور پر بہت پیچھے چھوٹ چکے ہیں، لیکن اب ہمیں جمود کو توڑ کر آگے آنا ہوگا اور تعلیمی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا پرچم لہرانا ہوگا۔”اس فکر انگیز اور درد مندانہ خطاب نے سامعین کی آنکھوں کو نم اور دلوں کو عزمِ نو سے بھر دیا۔مشاعرے کا ادبی درجہ اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گیا جب ضلع کے طول و عرض سے آئے ہوئے نامور شعرائے کرام نے اپنے فکری اثاثے اور تازہ افکار سامعین کے گوش گزار کیے۔
شعر و سخن کی اس بارش کے بعد سماجی و سیاسی افق کے درخشندہ ستارے اور سینئر رہنما مصطفےٰ حسن جدیو نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ‘انجمن ادب و صحافت’ کی ادبی اور بالخصوص بے باک صحافتی خدمات کو دل کھول کر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورِ پُر آشوب میں ایسی لایقِ تحسین تقاریب کا انعقاد انجمن کی “مثالی کارکردگی” کا منہ بولتا ثبوت ہے۔نشست کے آخری مرحلے میں معروف اور ممتاز قانون داں ایڈووکیٹ اے ایم ظہور الحق کے دستِ مبارک سے سماج کے مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے عمائدینِ شہر جن میں ڈاکٹر چندیشور، جناب جے نارائن پاسوان، جناب سریش ملک، جناب نگینہ پاسوان اور محمد امتیاز شامل ہیں، کو اعزازی اسناد اور یادگاری علامات سے سرفراز کیا گیا۔ شام کے آخری پہر تک جاری رہنے والے اس مشاعرے میں سامعین کا جوش و خروش دیدنی تھا، جو ہر اچھے شعر پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے تھے۔ اس تاریخی اور کامیاب ترین محفل کا باضابطہ اختتام ڈاکٹر اے ایم اظہار الحق اظہر کے پرمغز اور مخلصانہ کلماتِ تشکر پر ہوا۔جنہوں نے تمام مہمانوں، شعرائے کرام، اور دور دراز سے آئے ہوئے ادب دوست سامعین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ یہ بزم ختم تو ہو گئی، لیکن اپنی علمی، ادبی اور تعلیمی گونج سے ویشالی کی تاریخ میں ایک سنہرا باب رقم کر گئی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

کسانوں کی زرخیز زمین زبردستی چھین رہی ہے حکومت،روہنی اچاریہ نے سیٹلائٹ ٹاؤن شپ پراٹھائے سوال، سمراٹ حکومت کو گھیرا

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے بہار کی سمراٹ چودھری کی حکومت کو کسان مخالف اور کارپوریٹ گھرانوں کی حامی قرار دیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت سیٹلائٹ ٹاؤن شپ منصوبے کے نام پر کسانوں کی قابلِ کاشت اور زرخیز زمین زبردستی لے رہی ہے۔ اس سے سبز علاقوں کو نقصان پہنچے گا اور نجی کمپنیوں و بلڈروں کو فائدہ پہنچے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے ماحولیات کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
سارن لوک سبھا کی سابق امیدوار ڈاکٹر روہنی اچاریہ نے ریاستی حکومت پر بہار میں مجوزہ سیٹلائٹ ٹاؤن شپ پروجیکٹ کے سلسلے میں کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی کثیر فصلی اور زرخیز زرعی اراضی کا ٹاؤن شپ کے نام پر حصول انتہائی تشویشناک ہے۔یہ کسانوں کے لیے سماجی اور معاشی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔
روہنی آچاریہ نے جمعرات کو سوشل میڈیا کے ذریعے سنگاپور سے بہار حکومت کو نشانہ بنایا۔ اپنے ایکس ہینڈل پر جاری ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ بہار میں سیٹلائٹ ٹاؤن شپ منصوبے کے تحت کسانوں کی قابلِ کاشت زمین کے حصول سے کاشت کاروں کو متعدد سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہار جیسے زرعی ریاست میں سیٹلائٹ ٹاؤن شپ کے نام پر کثیر فصل والی اور زرخیز زمین زبردستی حاصل کی جا رہی ہے۔ اس سے ریاست کی غذائی سلامتی اور زراعت پر مبنی معیشت پر منفی اثر پڑنے والا ہے۔روہنی آچاریہ کے مطابق، زمین ایک کسان خاندان کے لیے نسل در نسل روزگار اور آمدنی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ سمراٹ حکومت کی جانب سے کسانوں کو اپنی زمین دینے پر مجبور کرنا براہِ راست ان کے لیے روزگار اور معاش کا بحران پیدا کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور معمولی کسانوں کے پاس آمدنی کا واحد ذریعہ ان کی زمین ہوتی ہے۔ زمین چھن جانے سے وہ اپنی آبائی روزی روٹی سے محروم ہو جاتے ہیں اور انہیں مزدوری کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
وہیںآر جے ڈی کے سابق ترجمان ہرے لال یادو نے روہنی کے حوالے سے کہا کہ بہار ایک زرعی ریاست ہے،جہاں ایک بڑی آبادی اپنی روزی روٹی کے لیے زراعت پر منحصر ہے۔لہٰذا زرخیز زرعی زمین کا حصول ریاست کی غذائی تحفظ کے ساتھ ساتھ زراعت پر مبنی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔آچاریہ نے کہا کہ کسانوں کے لیے زمین صرف جائیداد نہیں ہے بلکہ نسلوں کی روزی روٹی اور آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔چھوٹے اور معمولی کسانوں کے پاس آمدنی کا ایک پائیدار ذریعہ نہیں ہے۔ان کی زمین کھونے سے ان کے روزگار اور خاندان کے ذریعہ معاش کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہوئے کسانوں کی رضامندی،ان کے مفادات اور مناسب بحالی اور معاوضے کے انتظامات کو ترجیح دینی چاہیے۔کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ جو کسانوں کو ان کی آبائی زمین سے محروم کرتا ہے ان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ وہ کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیٹلائٹ ٹاؤن شپ پروجیکٹ کے لیے زمین کے حصول کے عمل پر دوبارہ غور کرے۔

Continue Reading

Bihar

سیتامڑھی: اساتذہ کے اہل خانہ کو ملاسیلری پیکیج کا فائدہ،اسکیم کے تعلق سے سرکاری ٹیچروں میں خوشی کا ماحول

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی مرکزی برانچ ڈمرا میں چیف برانچ منیجر نیرج کمار نے پرائمری ٹیچرس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ریاستی صدر ششی رنجن سمن کی موجودگی میں ایک متوفی معزز استاد کے بیٹے پریتم جیت کمار کو مالی امداد فراہم کی۔
یہ رقم ایس بی آئی لائف کی ٹرم انشورنس کے تحت ریاستی حکومت کی تنخواہ پیکیج اسکیم کے تحت متوفی استاد ونود راوت کی بیوی پونم دیوی کے اکاؤنٹ میں 10 لاکھ روپے منتقل کیے گئے تھے۔معلوم ہوا ہے کہ ونود راوت نان پور بلاک کے کوئلی پرائمری اسکول میں ایک ممتاز استاد کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا 12 جون 2026 کو اچانک انتقال ہوگیا۔
برانچ منیجر نیرج کمار نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی اسٹیٹ گورنمنٹ سیلری پیکج اسکیم خاص طور پر سرکاری ملازمین کے لیے ہے۔ اس اسکیم کے تحت اساتذہ کے قدرتی موت پر ان کے زیر کفالت خاندان کو 10 لاکھ روپے فراہم کیے جاتے ہیں۔
ریاستی صدر مسٹر سمن نے کہا کہ ایس بی آئی کے تنخواہ پیکیج کے تحت آنے والے اساتذہ کو 2025 سے ٹرم انسورنش کے تحت حادثاتی موت پر ایک کروڑ اور قدرتی موت پر 10 لاکھ کی رقم اس گورنمنٹ اساتذہ کے زیر کفالت اہل خانہ کو مذکورہ رقم دینے کا پروویژن ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2020 میں میری پہل پر موجودہ ممبر پارلیمنٹ اور اس وقت کے قانون سازکونسل کے رکن جناب دیویش چندر ٹھاکر کی کوشش سے اس وقت کے ڈائریکٹر پرائمری ایجوکیشن رنجیت کمار سنگھ سے بات کر سیتامڑھی، شیوہر، ویشالی سمیت 20 اضلاع میں گورنمنٹ اساتذہ کی تنخواہ کی ادائیگی ایس بی آئی بینک سے کرایا۔ جس اسکیم سے اساتذہ اور ان کے زیر کفالت اہل خانہ بڑی تعداد میں مستفید ہو رہے ہیں۔

Continue Reading

Bihar

ارریہ:ڈی ایم کی ماڈل اسکولوں کے ہیڈ ماسٹروںکے ساتھ میٹنگ،ضلع مجسٹریٹ نے اسکولوں میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ بچوں کی ہمہ جہت ترقی کے حوالے سے دیں ضروری ہدایات

Published

on

(پی این این)
ارریہ:ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن کی صدارت میں ضلع کے ماڈل اسکولوں کے پرنسپلوں اور اساتذہ کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں اسکولوں میں تعلیمی معیار، طلباء کی ہمہ جہت ترقی اور تدریسی نظام کے مؤثر نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو ہدایت کی گئی کہ وہ ماڈل اسکولوں میں معیاری تعلیم کو یقینی بنائیں اور 100 فیصد بچے کی کامیابی کے حصول کے لئے کام کریں۔ ہر استاد کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے مضمون کے لئے سبق کے منصوبے تیار کریں، نصاب کو وقت پر مکمل کریں، اور طلباء کی سیکھنے کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔
انہوں نے اسکولوں کو ہفتہ وار امتحانات منعقد کرنے، نتائج کا جائزہ لینے اور کمزور طلبہ کو ضروری اضافی تعلیمی مدد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے طلباء اور والدین کے درمیان بہتر رابطے کو فروغ دینے کے لیے باقاعدگی سے والدین اور اساتذہ کے اجلاس منعقد کرنے کی خصوصی ہدایات بھی جاری کیں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اسکولوں میں لیبارٹریوں کے موثر اور باقاعدہ استعمال پر زور دیا، تاکہ طلباء ہینڈ آن سرگرمیوں کے ذریعے مضامین کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی نشوونما صرف ماہرین تعلیم تک محدود نہیں ہے۔ ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے سکولوں میں کھیلوں اور دیگر مقابلوں کا باقاعدگی سے انعقاد کیا جائے۔ اس میٹنگ میں اساتذہ کے کام کی مؤثر نگرانی کے لیے مضمون اور کلاس کی بنیاد پر اساتذہ کی رینکنگ تیار کرنے کی بھی ہدایات دی گئیں۔ جس کے ذریعے طلباء کی تعلیمی کارکردگی، امتحان کے نتائج اور تدریسی کام کے معیار کا جائزہ لیا جائے گا۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو واضح ہدایات دی گئیں کہ اگر کوئی استاداسکول کے اوقات میں کوچنگ چلاتے ہوئے یا کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث پائے گئےتو ان کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے تمام ہیڈ ماسٹرز اور اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اسکول میں نظم و ضبط، باقاعدگی اور معیاری تدریسی نظام کو یقینی بنائیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network