Connect with us

Bihar

جمعرات کو اردو اسکولوں میں بلا تاخیر جاری کیا جائےہاف ڈے لیٹر : ونشی دھر برجواسی

Published

on

(پی این این)
حاجی پور:بہار پریورتتن کاری پرارمبھک شکچھک سنگھ وِیشالی کا ایک اہم اجلاس پوکھرا محلہ واقع نارائن واٹیکا میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں یونین کے ریاستی صدر و ترہوت گریجویٹ حلقہ کے قانون ساز کونسل کے رکن جناب ونشی دھر برجواسی نے شرکت کی۔
اجلاس میں ضلعی صدر دنیش پاسوان، سینئر ضلعی سکریٹری نوینیت کمار، خزانچی اندر دیو مہتو، بلاک صدر راجو رنجن چودھری، ضلعی سکریٹری ناگمنی، ضلعی سکریٹری عبدالقادر، سنتوش کمار رائے، لال گنج بلاک صدر وکاس روشن سمیت ضلع اردو ٹیچرز ایسوسی ایشن ویشالی کے صدر و ریٹائرڈ استاد محمد عظیم الدین انصاری، جنرل سکریٹری کوثر پرویز خان، یونین کے متعدد عہدیداران اور فعال اساتذہ موجود رہے۔ اساتذہ نے بتایا کہ کئی ایسے اساتذہ جو برسوں سے اپنے متعلقہ اسکولوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں سرپلس قرار دے دیا گیا ہے۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ تبادلے کا عمل حقیقی ضرورت کے مطابق ہونے کے بجائے کئی معاملات میں جبری تبادلے کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ہاؤس رینٹ میں کٹوتی اور زیر التوا تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے پر بھی اساتذہ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔
اجلاس کے دوران اساتذہ نے قانون ساز کونسل کے رکن کے سامنے سرپلس اساتذہ کا مسئلہ، جبری تبادلہ، ہاؤس رینٹ میں کٹوتی، منصوبہ بند اساتذہ کی زیر التوا تنخواہ، بقایا تنخواہوں کی ادائیگی، ترقیِ ملازمت اور اردو اسکولوں میں جمعرات کو نصف یوم (ہاف ڈے) سمیت کئی اہم مسائل کو نمایاں طور پر پیش کیا۔قانون ساز کونسل کے رکن ونشی دھر برجواسی نے سرکاری اسکولوں میں ہفتہ کے روز نصف یوم (ہاف ڈے) کرنے کا اساتذہ کا مطالبہ پورا ہونے پر وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور وزیر تعلیم متھیلیش تیواری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اساتذہ کو مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے اس مطالبے کو ایوان کے اندر اور باہر مسلسل اٹھایا گیا۔جس کے بعد حکومت نے اسے قبول کیا۔ وہیں انہوں جمعرات کو اردو اسکول میں ہاف ڈے کا لیٹر بلا تاخیر جاری کرنے کا مطالبہ محکمہ تعلیم سے کیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اساتذہ کی جانب سے اٹھائے گئے تمام مسائل کو متعلقہ افسران، وزیر اور وزیر اعلیٰ کے سامنے مضبوطی کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، “اساتذہ نے بڑی امید اور اعتماد کے ساتھ مجھے ایوان میں بھیجا ہے۔
میں ان کے مسائل کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اساتذہ کے حقوق اور مفادات کے لیے میری جدوجہد مسلسل جاری رہے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ “اساتذہ کی آواز اٹھانے کی وجہ سے مجھے ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا، اور یہی اساتذہ مجھے ایوان تک لے کر آئے ہیں۔ اگر اساتذہ کی آواز ایوان میں اٹھانے کی وجہ سے مجھے کسی بھی طرح کی کارروائی یا برطرفی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ بھی مجھے قبول ہے، لیکن میں اساتذہ کی آواز اٹھانے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ اس دوران ضلع اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن وِیشالی کے صدر جناب محمد عظیم الدین انصاری، جنرل سیکرٹری جناب کوثر پرویز خان نے اردو اسکول میں جمعرات کو ہاف ڈے کرانے کی مانگ کو لیکر ایک عرضداشت ایم ایل سی جناب ونشی دھر برجواسی کو دیا ہے۔ جس پر فوری عمل کی گزارش کی ہے۔ جس پر ایم ایل سی جناب ونشی دھر برجواسی نے یقین دہانی کرائ ہے۔اجلاس میں فتح پور بلاک صدر اروند یادو، جنرل سکریٹری سنیل، سکریٹری رتنیش، بھگوان پور بلاک صدر امرناتھ، ہمانشو، بیدوپور بلاک صدر ہری برج کمل، دیسری کنوینر پرمود بھارتی، جنداہا کے نامزد بلاک صدر پپو کمار، سہدیئی بلاک صدر شیو پرساد مہاتما، راگھوپور سے رندھیر یادو، اروند کیجریوال، سنتوش یادو سمیت بڑی تعداد میں معزز اساتذہ موجود رہے۔ اجلاس کے اختتام پر تنظیم کو مزید مضبوط بنانے اور اساتذہ کے مسائل کو متحد ہوکر مؤثر انداز میں اٹھانے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

وارڈ 14 کی شیعہ ٹولی میں عوامی راستے پر قبضے سے پریشانی، میونسپل کمشنر سے کارروائی کا مطالبہ

Published

on

بھاگلپور: آشا نندپور محلہ کے وارڈ 14 واقع شیعہ ٹولی میں عوامی راستے اور سرکاری زمین پر تجاوزات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ مرحوم سید نقی حسین عرف ہیرو، والد مرحوم سید ناظم حسین اور ان کے بیٹوں کی جانب سے طویل عرصے سے سرکاری زمین اور راستے کی جگہ پر قبضہ کر رکھا گیا ہے۔
تجاوزات کے باعث مقامی لوگوں کو آمدورفت میں پریشانی ہو رہی ہے۔ معاملے کو لے کر مقامی باشندے، سماجی کارکن اور جے ڈی یو جنرل سکریٹری (اقلیتی) سید ارشد علی نے میونسپل کمشنر کو تحریری درخواست دے کر تجاوزات ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست پر محلے کے کئی لوگوں کے دستخط بھی ہیں۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ علاقے میں پانی کی سنگین قلت کو دیکھتے ہوئے مقامی لوگوں نے کئی دہائیوں سے مبینہ طور پر قبضے میں رہی مذکورہ سرکاری زمین کو پانی کے پیاؤ کی تعمیر کے لیے نشان زد کیا ہے۔ وارڈ 14 کے کونسلر انیل پاسوان کی جانب سے بھی میونسپل کارپوریشن کو تحریری طور پر مذکورہ زمین کو سرکاری بتاتے ہوئے یہاں پیاؤ تعمیر کیے جانے کی ضرورت سے آگاہ کیے جانے کی بات درخواست میں کہی گئی ہے۔درخواست گزار کا الزام ہے کہ مذکورہ زمین پر قبضہ کرنے والے افراد کے پاس زمین سے متعلق کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے اور مبینہ طور پر دبنگئی کے زور پر زمین پر قبضہ برقرار رکھا گیا ہے۔ معاملے کی جانچ کے لیے میونسپل کارپوریشن کے تجاوزات شعبہ کے انچارج جے پرکاش یادو بھی موقع پر پہنچے تھے۔ درخواست کے مطابق، موقع پر جانچ کے بعد انہوں نے زمین کو سرکاری قرار دیا اور متعلقہ فریق کو جگہ خالی کرنے کا الٹی میٹم بھی دیا تھا۔ اس کے باوجود اب تک زمین کو تجاوزات سے آزاد نہیں کرایا جا سکا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف علاقے میں پینے کے پانی کا سنگین مسئلہ ہے اور دوسری جانب جس مقام پر پیاؤ کی تعمیر کی پہل ہو سکتی ہے، وہ مبینہ تجاوزات کی وجہ سے استعمال میں نہیں آ پا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی راستے کی زمین پر مبینہ قبضے کے باعث گلی بھی تنگ ہو گئی ہے، جس سے لوگوں کی آمدورفت میں پریشانی ہو رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر میونسپل کارپوریشن کی جانچ میں زمین سرکاری پائی گئی اور متعلقہ فریق کو مقام خالی کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی، تو اب تک تجاوزات کیوں نہیں ہٹائی گئیں؟ مقامی لوگوں نے میونسپل کارپوریشن انتظامیہ سے پورے معاملے کی دوبارہ موقع پر جانچ کرا کر سرکاری زمین اور عوامی راستے کو تجاوزات سے آزاد کرانے اور پیاؤ کی تعمیر کا عمل آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی راستہ اور سرکاری زمین کسی ایک شخص کے ذاتی استعمال کے لیے نہیں ہو سکتی۔ انتظامیہ کی جانب سے بروقت کارروائی نہیں کی گئی تو آنے والے دنوں میں مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

Continue Reading

Bihar

ضلع مجسٹریٹ نے گیاری پنچایت میں جیویکا سودھا سیلز سنٹر کا کیا افتتاح

Published

on

ارریہ: گیاری پنچایت میں جیویکا دیدی آشکارہ بیگم کے ذریعہ چلائے جانے والے جیویکا سودھا سیلز سنٹر کا افتتاح ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن اور جیویکا دیدی نے فیتا کاٹ کر کیا۔ اس موقع پر ضلع مجسٹریٹ مسٹر ونود دوہن نے کہا کہ جیویکا دیہی خواتین کو خود امداد گروپوں سے جوڑ کر معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لئے مسلسل کام کر رہی ہے۔
انہیں مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت قرضے اور فوائد فراہم کرکے خود روزگار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف منسٹر ویمن ایمپلائمنٹ سکیم خواتین کو اپنے کاروبار شروع کرنے اور بڑھانے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ جیویکا سودھا سیلز سینٹر مقامی مصنوعات کی فروخت کو بھی فروغ دے گا اور خواتین کاروباریوں کو اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لئے بہتر مواقع فراہم کرے گا۔ ضلع منیجر، جیویکا ارریہ نے بتایا کہ آشکارہ بیگم نے 2019 میں سی آر پی دیدی کے ذریعے جیویکا کے سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) احسان میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد اس نے گروپ سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لیا، بچت، قرضوں اور مالیاتی انتظام کے بارے میں سیکھا۔
اس کی گاؤں کی تنظیم موسم ہے اور اس کی کلسٹر ایسوسی ایشن ڈیپ جیویکا مہیلا وکاس سواولمبی سہکاری سمیتی لمیٹڈ ہے۔ جیویکا میں شامل ہونے کے بعد، آشکارا بیگم نے گروپ سے حاصل کردہ قرض کو اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ ان کے کاروباری کاموں اور مسلسل پیش رفت کو دیکھتے ہوئے، آشکارہ بیگم کو جیویکا سودھا سیلز سینٹر کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ڈیری ڈیولپمنٹ آفیسر ارریہ، ڈسٹرکٹ منیجر جیویکا ارریہ، کومفیڈ کے افسران اور مقامی عوامی نمائندے موجود تھے۔

Continue Reading

Bihar

نتیش کی سیاسی وراثت پر این ڈی اے میں خانہ جنگی،پہلے خوداپنا گھر سنبھالیںاپیندر کشواہا ، جے ڈی یو کے ریاستی صدرامیش سنگھ کشواہا کی نصیحت

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو لے کر این ڈی اے میں گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے قومی صدر اپیندر کشواہا نے نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھالنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
وہیں اب نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے رہنما ان کے خلاف سخت برہم ہوگئے ہیں۔ جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ اپیندر کشواہا کو اپنا گھر سنبھالنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دن میں خواب نہ دیکھیں۔
جے ڈی یو رہنما امیش سنگھ کشواہا نے اس سلسلے میں ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ اس میں اپیندر کشواہا کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا، ’’جتنی چادر ہو، پاؤں بھی اتنے ہی پھیلانے چاہئیں۔ لیکن کچھ حد سے زیادہ بلند عزائم رکھنے والے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ خالی بیٹھے بیٹھے خیالی پلاؤ پکاتے رہیں اور کبھی پورے نہ ہونے والے خوابِ غفلت دیکھتے رہیں۔ ایسے لوگ کو ہمارا مشورہ ہے کہ جے ڈی یو کی فکر چھوڑ کر پہلے اپنے گھر کی فکر کریں۔ کیونکہ آپ کاخود اپنا کنبہ تو پنکچر گاڑی کی طرح وقتاً فوقتاً اپنا توازن کھوتا رہتا ہے۔‘‘
جے ڈی یو کے ریاستی صدر نے راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اصل بے چینی کی وجہ کچھ اور ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نتیش کمار کے بیٹے نِشانت کمار بہار کا مستقبل ہیں۔ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور عوامی قبولیت کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی ہے۔نالندہ ضلع کے راج گیر میں منعقدہ راشٹریہ لوک مورچہ کے فکری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے قومی صدر اپیندر کشواہا نے کہا تھا کہ نتیش کمار نے بہار کی سیاست سے سبکدوشی اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے بہتر خدمات انجام دی ہیں۔ بہار اور ملک کے ایک بڑے طبقے میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے کیسے بڑھایا جائے گا۔
کشواہا نے کہا کہ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کا دعویٰ بہت سے لوگ کریں گے، لیکن موجودہ وقت میں راشٹریہ لوک مورچہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ذمہ داری اسے سنبھالنی چاہیے۔ بہار کا ایک بڑا طبقہ بھی یہی چاہتا ہے۔ راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے، یہ وہ نہیں جانتے، لیکن نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کے لیے وہ پوری طرح تیار ہیں۔
راجیہ سبھا کے رکن اپیندر کشواہا بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے قریبی ساتھی رہ چکے ہیں۔ تاہم، دونوں کے درمیان کئی سیاسی اتار چڑھاؤ، اختلافات، علیحدگی اور پھر مفاہمت کے دور بھی دیکھنے کو ملے۔ نتیش کمار نے 90 کی دہائی میں بہار میں ’لو-کش‘ سیاسی مساوات کو مضبوط بناتے ہوئے سمتا پارٹی کی بنیاد رکھی تھی، اس وقت اپیندر کشواہا مضبوطی کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ نتیش کمار خود ’لو‘ یعنی کُرمی اور کشواہا ’کش‘ یعنی کوئری برادری کے بااثر رہنما کے طور پر ابھرے۔تاہم، سیاسی اختلافات کے باعث اپیندر کشواہا نے جے ڈی یو سے علیحدگی اختیار کرکے راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) تشکیل دی۔
2014 میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے اپیندر کشواہا آر ایل ایس پی کی جانب سے نریندر مودی کی کابینہ میں وزیر بھی بنے۔ سال 2021 میں نتیش کمار اور کشواہا کے درمیان تعلقات ایک بار پھر بہتر ہوئے اور آر ایل ایس پی کا جے ڈی یو میں انضمام کر دیا گیا۔ اس کے بعد اپیندر کشواہا کو جے ڈی یو کے پارلیمانی بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔
تاہم، 2023 میں دونوں کے تعلقات میں ایک بار پھر تلخی آگئی۔ اپیندر کشواہا نے جے ڈی یو سے علیحدگی اختیار کرکے نئی سیاسی جماعت راشٹریہ لوک مورچہ تشکیل دی۔ فی الحال جے ڈی یو اور راشٹریہ لوک مورچہ، دونوں ہی این ڈی اے کا حصہ ہیں۔ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو لے کر دونوں جماعتوں کے درمیان گھمسان چھڑنے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network