Connect with us

Bihar

پولیس کی من مانی پرروک لگانا ضروری،ریاست میں امن و قانون کی صورتحال ہوچکی ہے انتہائی بدحال،ایس پی کیخلاف شکایت لے کر ڈی جی پی سے ملے تیجسوی یادو، اے کے-47 سے فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے جمعہ کے روز ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ونئے کمار سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سمیت دیگر پولیس افسران کے خلاف شکایت پیش کی۔
تیجسوی یادو نے طلبہ تحریک کے دوران اے کے-47 جیسے مہلک ہتھیاروں سے فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی متعلقہ ضلع کے ایس پی سمیت دیگر افسران کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی درخواست کی۔
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اس معاملے میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ونئے کمار کو ایک تحریری عرضداشت بھی پیش کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کے جمہوری احتجاج پر بہار پولیس نے فائرنگ کی اور نہایت بے رحمانہ لاٹھی چارج کیا۔ڈی جی پی ونئے کمار سے ملاقات کے موقع پر تیجسوی یادو کے ہمراہ آر جے ڈی کے سینئر رہنما عبدالباری صدیقی، منگنی لال منڈل، اُدے نارائن چودھری اور قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی) سنیل سنگھ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
تیجسوی یادو نے خبردار کیا کہ اگر نامزد پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو اپوزیشن پورے بہار میں ریاست گیر تحریک شروع کرے گی۔ انہوں نے ریاست میں قانون و نظم کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
تیجسوی یادو نے جمعہ کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے درج ذیل پانچ مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو پیش کی ہے،جن میںبہار پولیس نے طلبہ پر اے کے-47 سے گولیاں کیوں چلائیں؟بہار پولیس نے بچوں پر ’’شوٹ ٹو کِل‘‘ کی ذہنیت کے ساتھ گولیاں برسائیں، جو نہایت افسوسناک اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔بہار پولیس نے ہجوم پر قابو پانے کے لیے مقررہ گریڈیڈ ریسپانس ایکشن پلان (مرحلہ وار ردِعمل کے ضابطۂ کار) پر عمل کیوں نہیں کیا؟فائرنگ کا حکم دینے والے سینئر پولیس افسران کے خلاف اب تک کوئی ٹھوس کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟طلبہ تحریک کے دوران پولیس کی مبینہ بربریت اور کارروائی کی عدالتی نگرانی میں جانچ کرائی جائے، وغیرہ مطالبات شامل ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں امن و قانون کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے اور پولیس انتظامیہ من مانی پر اتر آیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کی من مانی پر روک لگائی جائے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی دوبارہ تکرار روکنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی جائیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ طلبہ تحریک کے دوران بہار بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اس دوران احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات اور پولیس اہلکاروں کے درمیان متعدد مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ کئی شہروں میں پتھراؤ اور لاٹھی چارج کے واقعات میں مظاہرین طلبہ زخمی ہوئے تھے۔
سیوان میں طلبہ تحریک نے پُرتشدد رخ اختیار کر لیا تھا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں تین طلبہ زخمی ہو گئے تھے۔ بعد ازاں سیوان کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) پورن کمار جھا نے اے کے-47 سے فائرنگ کرنے والے کانسٹیبل ابھیشیک کمار کو معطل کر دیا تھا۔ ہاتھ میں اے کے-47 تھامے فائرنگ کرتے ایک پولیس اہلکار کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی تھی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

وارڈ 14 کی شیعہ ٹولی میں عوامی راستے پر قبضے سے پریشانی، میونسپل کمشنر سے کارروائی کا مطالبہ

Published

on

بھاگلپور: آشا نندپور محلہ کے وارڈ 14 واقع شیعہ ٹولی میں عوامی راستے اور سرکاری زمین پر تجاوزات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ مرحوم سید نقی حسین عرف ہیرو، والد مرحوم سید ناظم حسین اور ان کے بیٹوں کی جانب سے طویل عرصے سے سرکاری زمین اور راستے کی جگہ پر قبضہ کر رکھا گیا ہے۔
تجاوزات کے باعث مقامی لوگوں کو آمدورفت میں پریشانی ہو رہی ہے۔ معاملے کو لے کر مقامی باشندے، سماجی کارکن اور جے ڈی یو جنرل سکریٹری (اقلیتی) سید ارشد علی نے میونسپل کمشنر کو تحریری درخواست دے کر تجاوزات ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست پر محلے کے کئی لوگوں کے دستخط بھی ہیں۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ علاقے میں پانی کی سنگین قلت کو دیکھتے ہوئے مقامی لوگوں نے کئی دہائیوں سے مبینہ طور پر قبضے میں رہی مذکورہ سرکاری زمین کو پانی کے پیاؤ کی تعمیر کے لیے نشان زد کیا ہے۔ وارڈ 14 کے کونسلر انیل پاسوان کی جانب سے بھی میونسپل کارپوریشن کو تحریری طور پر مذکورہ زمین کو سرکاری بتاتے ہوئے یہاں پیاؤ تعمیر کیے جانے کی ضرورت سے آگاہ کیے جانے کی بات درخواست میں کہی گئی ہے۔درخواست گزار کا الزام ہے کہ مذکورہ زمین پر قبضہ کرنے والے افراد کے پاس زمین سے متعلق کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے اور مبینہ طور پر دبنگئی کے زور پر زمین پر قبضہ برقرار رکھا گیا ہے۔ معاملے کی جانچ کے لیے میونسپل کارپوریشن کے تجاوزات شعبہ کے انچارج جے پرکاش یادو بھی موقع پر پہنچے تھے۔ درخواست کے مطابق، موقع پر جانچ کے بعد انہوں نے زمین کو سرکاری قرار دیا اور متعلقہ فریق کو جگہ خالی کرنے کا الٹی میٹم بھی دیا تھا۔ اس کے باوجود اب تک زمین کو تجاوزات سے آزاد نہیں کرایا جا سکا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف علاقے میں پینے کے پانی کا سنگین مسئلہ ہے اور دوسری جانب جس مقام پر پیاؤ کی تعمیر کی پہل ہو سکتی ہے، وہ مبینہ تجاوزات کی وجہ سے استعمال میں نہیں آ پا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی راستے کی زمین پر مبینہ قبضے کے باعث گلی بھی تنگ ہو گئی ہے، جس سے لوگوں کی آمدورفت میں پریشانی ہو رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر میونسپل کارپوریشن کی جانچ میں زمین سرکاری پائی گئی اور متعلقہ فریق کو مقام خالی کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی، تو اب تک تجاوزات کیوں نہیں ہٹائی گئیں؟ مقامی لوگوں نے میونسپل کارپوریشن انتظامیہ سے پورے معاملے کی دوبارہ موقع پر جانچ کرا کر سرکاری زمین اور عوامی راستے کو تجاوزات سے آزاد کرانے اور پیاؤ کی تعمیر کا عمل آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی راستہ اور سرکاری زمین کسی ایک شخص کے ذاتی استعمال کے لیے نہیں ہو سکتی۔ انتظامیہ کی جانب سے بروقت کارروائی نہیں کی گئی تو آنے والے دنوں میں مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

Continue Reading

Bihar

ضلع مجسٹریٹ نے گیاری پنچایت میں جیویکا سودھا سیلز سنٹر کا کیا افتتاح

Published

on

ارریہ: گیاری پنچایت میں جیویکا دیدی آشکارہ بیگم کے ذریعہ چلائے جانے والے جیویکا سودھا سیلز سنٹر کا افتتاح ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن اور جیویکا دیدی نے فیتا کاٹ کر کیا۔ اس موقع پر ضلع مجسٹریٹ مسٹر ونود دوہن نے کہا کہ جیویکا دیہی خواتین کو خود امداد گروپوں سے جوڑ کر معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لئے مسلسل کام کر رہی ہے۔
انہیں مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت قرضے اور فوائد فراہم کرکے خود روزگار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف منسٹر ویمن ایمپلائمنٹ سکیم خواتین کو اپنے کاروبار شروع کرنے اور بڑھانے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ جیویکا سودھا سیلز سینٹر مقامی مصنوعات کی فروخت کو بھی فروغ دے گا اور خواتین کاروباریوں کو اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لئے بہتر مواقع فراہم کرے گا۔ ضلع منیجر، جیویکا ارریہ نے بتایا کہ آشکارہ بیگم نے 2019 میں سی آر پی دیدی کے ذریعے جیویکا کے سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) احسان میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد اس نے گروپ سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لیا، بچت، قرضوں اور مالیاتی انتظام کے بارے میں سیکھا۔
اس کی گاؤں کی تنظیم موسم ہے اور اس کی کلسٹر ایسوسی ایشن ڈیپ جیویکا مہیلا وکاس سواولمبی سہکاری سمیتی لمیٹڈ ہے۔ جیویکا میں شامل ہونے کے بعد، آشکارا بیگم نے گروپ سے حاصل کردہ قرض کو اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ ان کے کاروباری کاموں اور مسلسل پیش رفت کو دیکھتے ہوئے، آشکارہ بیگم کو جیویکا سودھا سیلز سینٹر کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ڈیری ڈیولپمنٹ آفیسر ارریہ، ڈسٹرکٹ منیجر جیویکا ارریہ، کومفیڈ کے افسران اور مقامی عوامی نمائندے موجود تھے۔

Continue Reading

Bihar

نتیش کی سیاسی وراثت پر این ڈی اے میں خانہ جنگی،پہلے خوداپنا گھر سنبھالیںاپیندر کشواہا ، جے ڈی یو کے ریاستی صدرامیش سنگھ کشواہا کی نصیحت

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو لے کر این ڈی اے میں گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے قومی صدر اپیندر کشواہا نے نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھالنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
وہیں اب نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے رہنما ان کے خلاف سخت برہم ہوگئے ہیں۔ جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ اپیندر کشواہا کو اپنا گھر سنبھالنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دن میں خواب نہ دیکھیں۔
جے ڈی یو رہنما امیش سنگھ کشواہا نے اس سلسلے میں ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ اس میں اپیندر کشواہا کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا، ’’جتنی چادر ہو، پاؤں بھی اتنے ہی پھیلانے چاہئیں۔ لیکن کچھ حد سے زیادہ بلند عزائم رکھنے والے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ خالی بیٹھے بیٹھے خیالی پلاؤ پکاتے رہیں اور کبھی پورے نہ ہونے والے خوابِ غفلت دیکھتے رہیں۔ ایسے لوگ کو ہمارا مشورہ ہے کہ جے ڈی یو کی فکر چھوڑ کر پہلے اپنے گھر کی فکر کریں۔ کیونکہ آپ کاخود اپنا کنبہ تو پنکچر گاڑی کی طرح وقتاً فوقتاً اپنا توازن کھوتا رہتا ہے۔‘‘
جے ڈی یو کے ریاستی صدر نے راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اصل بے چینی کی وجہ کچھ اور ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نتیش کمار کے بیٹے نِشانت کمار بہار کا مستقبل ہیں۔ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور عوامی قبولیت کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی ہے۔نالندہ ضلع کے راج گیر میں منعقدہ راشٹریہ لوک مورچہ کے فکری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے قومی صدر اپیندر کشواہا نے کہا تھا کہ نتیش کمار نے بہار کی سیاست سے سبکدوشی اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے بہتر خدمات انجام دی ہیں۔ بہار اور ملک کے ایک بڑے طبقے میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے کیسے بڑھایا جائے گا۔
کشواہا نے کہا کہ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کا دعویٰ بہت سے لوگ کریں گے، لیکن موجودہ وقت میں راشٹریہ لوک مورچہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ذمہ داری اسے سنبھالنی چاہیے۔ بہار کا ایک بڑا طبقہ بھی یہی چاہتا ہے۔ راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے، یہ وہ نہیں جانتے، لیکن نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کے لیے وہ پوری طرح تیار ہیں۔
راجیہ سبھا کے رکن اپیندر کشواہا بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے قریبی ساتھی رہ چکے ہیں۔ تاہم، دونوں کے درمیان کئی سیاسی اتار چڑھاؤ، اختلافات، علیحدگی اور پھر مفاہمت کے دور بھی دیکھنے کو ملے۔ نتیش کمار نے 90 کی دہائی میں بہار میں ’لو-کش‘ سیاسی مساوات کو مضبوط بناتے ہوئے سمتا پارٹی کی بنیاد رکھی تھی، اس وقت اپیندر کشواہا مضبوطی کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ نتیش کمار خود ’لو‘ یعنی کُرمی اور کشواہا ’کش‘ یعنی کوئری برادری کے بااثر رہنما کے طور پر ابھرے۔تاہم، سیاسی اختلافات کے باعث اپیندر کشواہا نے جے ڈی یو سے علیحدگی اختیار کرکے راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) تشکیل دی۔
2014 میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے اپیندر کشواہا آر ایل ایس پی کی جانب سے نریندر مودی کی کابینہ میں وزیر بھی بنے۔ سال 2021 میں نتیش کمار اور کشواہا کے درمیان تعلقات ایک بار پھر بہتر ہوئے اور آر ایل ایس پی کا جے ڈی یو میں انضمام کر دیا گیا۔ اس کے بعد اپیندر کشواہا کو جے ڈی یو کے پارلیمانی بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔
تاہم، 2023 میں دونوں کے تعلقات میں ایک بار پھر تلخی آگئی۔ اپیندر کشواہا نے جے ڈی یو سے علیحدگی اختیار کرکے نئی سیاسی جماعت راشٹریہ لوک مورچہ تشکیل دی۔ فی الحال جے ڈی یو اور راشٹریہ لوک مورچہ، دونوں ہی این ڈی اے کا حصہ ہیں۔ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو لے کر دونوں جماعتوں کے درمیان گھمسان چھڑنے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network