تازہ ترین
ووٹ چوری کے خلاف کانگریس کاانوکھا احتجاج، بھجن گا کر جمہوری انداز میں کیامظاہرہ، مودی اور گیانیش کمار سے استعفیٰ کا مطالبہجینیس اکیڈمی فار بس گنج میں ندا فاضلی کی ادبی خدمات کا اعتراف ،پرنسپل نوشاد عالم کوملی ان کی شاعری کی شاندار سوغاتمحمد متفق احمد کواپنی شاندار خدمات کا ملا انعام,تفتیش، آپریشن اور سکیورٹی کے میدان میں نمایاں کارکردگی کے عوض آئی پی ایس میں دی گئی ترقیجامعہ ملیہ اسلامیہ میں یو پی ایس سی میلہ کے دوسرے ایڈیشن کا انعقاداولیوودیا گرلز اکیڈمی نیوز لیٹر کا رسم اجرا ء اور پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ کا شاندار انعقاداے ایم یو کی جانب سے کل ہند مضمون نویسی مقابلہ 2026 کے نتائج کا اعلاناے ایم یو کے مختلف شعبوں کےتحت دماغی صحت سے متعلق بیداری پروگرامآیوروید اور ہربل طب کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پرنس محبوب رحمانی کوڈاکٹریٹ کی ڈگری سےکیا گیا سرافراز
Bihar

این ڈی اے کے اپنے ہی رکن پارلیمنٹ نے کی بنگلہ دیش آبی معاہدے کی مخالفت

(پی این این)
پٹنہ؍نئی دہلی:بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 1996 میں ہونے والے گنگا آبی معاہدے کی مدت رواں سال دسمبر میں ختم ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈھاکہ کے ساتھ مزید کسی تاخیر کے بغیر مذاکرات کا آغاز کرے اور اس معاہدے کی تجدید کو یقینی بنائے۔
دوسری جانب، مرکز میں بی جے پی کی اتحادی جماعت جنتا دل (یونائٹیڈ) (جے ڈی یو) کے قومی کارگزار صدر اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے جھا نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے معاہدے کی تجدید کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ سنجے جھا نے کل راجیہ سبھا میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ 1996 کے فرخہ آبی تقسیم معاہدے کی تجدید نہ کی جائے۔جے ڈی یو کے رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ کسی بھی نئے آبی انتظام کو حتمی شکل دینے سے قبل بہار کی طویل مدتی آبی سلامتی اور ترقیاتی ضروریات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ راجیہ سبھا میں خصوصی تذکرے کے ذریعے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے سنجے کمار جھا نے کہا کہ 1996 میں طے پانے والے فرخہ آبی معاہدے کی مدت رواں سال کے اختتام پر ختم ہونے والی ہے، اس لیے گنگا کے کنارے واقع ریاستوں، بالخصوص بہار، کی آبی ضروریات کا جامع سائنسی جائزہ لیے بغیر اس معاہدے کی تجدید نہیں کی جانی چاہیے۔انہوں نے استدلال پیش کیا کہ 1996 کے بعد سے بہار کی آبادی تقریباً دوگنی ہو چکی ہے، جس کے باعث پینے کے پانی، آبپاشی اور مقامی صنعتوں کے لیے پانی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
جے ڈی یو کے رکنِ پارلیمنٹ نے اسے’’قومی مفاد کا معاملہ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے بہار کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
سنجے جھا نے کہا کہ فرخہ بیراج کی تعمیر دریائے ہگلی میں مناسب آبی بہاؤ برقرار رکھنے اور کولکاتا بندرگاہ کی ضروریات پوری کرنے کے مقصد سے کی گئی تھی، لیکن بہار گزشتہ کئی دہائیوں سے دریائے گنگا کے پانی کی ناکافی دستیابی کے مسئلے سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی بہار کے متعدد اضلاع میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے، جس کے باعث پینے کے پانی اور آبپاشی دونوں کے لیے پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے۔سنجے جھا نے کہا کہ بہار کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دریائے گنگا کے پانی کی وافر دستیابی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2050 تک بہار کو اضافی دو ہزار کیوسک پانی کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ شکل میں معاہدے کی تجدید نہ کی جائے، بلکہ نئی آبی حکمتِ عملی مرتب کرنے سے قبل تمام متعلقہ ریاستوں کی ضروریات کا سائنسی بنیادوں پر جامع جائزہ لیا جائے۔انہوں نے کہا، “جب تک بہار کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، اس معاہدے کی تجدید ریاست کے طویل مدتی مفاد میں نہیں ہوگی۔”
واضح رہے کہ گنگا آبی معاہدہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان دریائے گنگا کے پانی کی تقسیم سے متعلق ایک اہم سمجھوتہ ہے۔ اس پر 12 دسمبر 1996 کو نئی دہلی میں اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا اور بنگلہ دیش کی اُس وقت کی وزیرِاعظم شیخ حسینہ نے دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ 30 برس کے لیے کیا گیا تھا، جس کی مدت رواں سال دسمبر 2026 میں مکمل ہو رہی ہے۔اس معاہدے کے مطابق گرمی کے موسم میں دریائے گنگا کے پانی کی تقسیم کی جاتی ہے۔ معاہدے کی شرائط کے تحت اگر فرخہ بیراج پر پانی کا بہاؤ 70 ہزار کیوسک سے زیادہ ہو تو بھارت اور بنگلہ دیش کو طے شدہ فارمولے کے مطابق پانی دیا جاتا ہے، جس میں بھارت کو تقریباً 35 ہزار سے 40 ہزار کیوسک پانی ملتا ہے۔ تاہم اگر پانی کا بہاؤ 70 ہزار کیوسک سے کم ہو جائے تو دونوں ممالک دستیاب پانی کو مساوی طور پر، یعنی 50-50 فیصد کے تناسب سے تقسیم کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔