تازہ ترین
دھوکہ دہی،ڈیجیٹل ہراسانی کے موضوع پربیداری پروگرام کا انعقادملک کی ترقی کے لیےنریندر مودی پرعزم:ریکھاپنک سہیلی کارڈ کھونے پرنہیں کر سکیںگے مفت بس سفرہائی کورٹ نے نہرو پلیس ڈسٹرکٹ سنٹر کودیا ’نو ہاکنگ، نو وینڈنگ زون‘ قرارفلاحی منصوبوں کے نفاذ میں لاپروائی پرحکومت ناراض، پوری ریاست سے رپورٹ طلب،ہر سطح پراب اس کالیا جائے گا جائزہپستول کے ساتھ انسٹاگرام پر ریل بناناپڑا مہنگا، پولیس کی شراب کے اڈے پرچھاپہ ماری، 6 افرادگرفتارمولانا طفیل احمد قاسمیؒ اپنے آبائی وطن گیاری میں سپردِ خاک،امیرِ شریعت نے پڑھائی نمازِ جنازہ، مدرسہ رحمانیہ میں تعزیتی نشست، علماء و ذمہ داران کا خراجِ عقیدتزبان و ادب کے آفاق کو وسعت عطا کرتا ہےترجمہ،(پی این این) پٹنہ:ترجمے کے بغیر مختلف قومیتوں کے بیچ اشتراک کا عمل ممکن نہیں ہوسکتا اور ہندستان جیسے کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب یہاں بڑی تعداد میں کئی زبانوں کے جاننے والے افراد ایک دوسرے کے جذبات، تاثرات اور تحریر و تقریر کو جان سکیں۔ ترجمہ نئی دنیا کے ہزار ابواب کھولتا ہے اور مترجمین نئی دنیا کی سانس اور دھڑکنوں کو بہ حسن و خوبی پہچانتے ہیں۔ دنیا کی کشادگی اور تہذیبی، ثقافتی، لسانی اور فکری بالیدگی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ زبان یا قوم کتنی بڑی تعداد میں ذو لسانی یا سہ لسانی افراد کو میدانِ عمل میں اتارتا ہے۔ اس لیے آنے والے وقت میں فنِ ترجمہ ایک بڑے علمی دائرے کی تشکیل میں کامیاب ہوگا اور تخلیقی و غیر تخلیقی ادب کی فہرست بندی میں اپنی مستحکم حیثیت کے ساتھ موجود ہوگا۔ قومی ترجمہ مشن، سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز، میسور کے اشتراک سے کالج آف کامرس کے شعبۂ اردو کے زیر اہتمام آج ترجمے کی صلاحیت سازی کے موضوع پر منعقدہ پانچ روزہ ورک شاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے ترجمے سے متعلق مذکورہ باتیں پیش کیں۔ اس ورک شاپ کا افتتاح کالج آف کامرس کی پرنسپل پروفیسر سنیتا رائے نے کیا اور صدارت کی ذمہ داری پاٹلی پترا یونی ورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ابوبکر رضوی نے ادا کی۔ خدا بخش لائبریری کے سربراہ پروفیسر محمد زاہد الحق مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اس پروگرام کا حصہ تھے۔ پروگرام کی نظامت شعبۂ اردو ، پٹنہ یونی ورسٹی کی استاد ڈاکٹرافشاں بانو نے کی۔ ورک شاپ میں شریک مہمانان اور دور دراز سے آئے ۸۰؍کی تعداد میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے استاد اور مقامی کوآرڈینیٹر پروفیسر صفدر امام قادری نے کہا کہ موضوعاتی اور فکری اعتبار سے یہ ورک شاپ ہمارے ریسرچ اسکالرس کے ذہنی اور فکری ابعاد کو نہ صرف یہ کہ وسعت دے گا بلکہ اس سے ہمارے ادبی سماج میں ایک روشنی اور خیر سگالی کی کیفیت پیدا ہوگی۔ ترجمہ زبانوں اور تہذیبوں میں اشتراک کا ایک پیمانہ ہے، اس لیے شرکا کو چاہیے کہ اس ورک شاپ میں جس علمی اور فکری مزاج کے ساتھ وہ شریک ہوئے ہیں، یہاں سے واپس ہوں تو اس سے بہتر اور بااعتبار بن کر نکلیں۔ انھوںنے بتایا کہ ورک شاپ کے لیے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، بنارس ہندو یونی ورسٹی، پاٹلی پترا یونی ورسٹی، پٹنہ یونی ورسٹی، حیدرآباد یونی ورسٹی اور کولہان یونی ورسٹی سے فنِ ترجمہ کے ماہرین ، اساتذہ کو دعوت دی گئی ہے جن کے ساتھ شرکا پانچ دنوں تک پیہم مشق کریںگے اور ترجمے کے میدان میں خود کو درجۂ اعتبار تک پہنچانے میں کامیاب ہوںگے۔ اس ورک شاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس کی پرنسپل پروفیسر سنیتا رائے نے اپنے کالج کی مختلف تعلیمی اور تدریسی سرگرمیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے اس اقدام کو سراہا کیوںکہ قومی سطح کے اس ورک شاپ میں ہمارے طلبہ و طالبات کی کاروباری صلاحیت اور شاہراہِ حیات میں کامیابی کی نئی منازل طے کرنے کے لیے مواقع حاصل ہوںگے۔ انھوںنے اردو زبان کی شیرینی اور بیان کی خوش گفتاری کی تعریف کی۔ انھوںنے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ اپنے مستقبل کے لیے نئے نئے کاموں سے خود کو لیس کریں ۔ کالج ایسے دوسرے پروگرام بھی کرتا رہے گا۔ افتتاحی اجلاس میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خدا بخش لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر محمد زاہد الحق شریک تھے۔ انھوںنے ہندستان میں کثیر لسانی ماحول کا گذشتہ مردم شماری کے اعداد و شمار کے حوالے سے جائزہ لیتے ہوئے اس افسوس ناک صورت حال کا ذکر کیا کہ پورے ملک میں ایک سے زیادہ زبان بولنے والوں کی تعداد تقریباً ایک فی صد ہے۔ انھوںنے کہا کہ ۹۷؍فی صد افراد تو صرف ایک ہی زبان کے دائرے میں پیدائش سے موت تک محصور رہتے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ کثیر لسانی ماحول بنائے بغیر حکومتِ ہند کے ویژن ۲۰۴۷ ؍ کے خوابوں کو ہم تعبیر کے درجے تک نہیں پہنچا سکتے۔ ریسرچ اسکالرس کو انھوںنے ترغیب دلائی کہ وہ مستعد ہوکر ورک شاپ سے نئی زبانوں کے بیچ کام کرنے کے اصول و ضوابط سیکھیں اور اپنے ملک اور نئی دنیا میں اپنے لیے مواقع تلاش کریں۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت پاٹلی پترا یونی ورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ابوبکر رضوی نے فرمائی ۔ انھوںنے ترجمے کے فن اور اس کی عملی جہتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ واضح کیا کہ ترجمہ ایک علمی کام ہے اور اس کی کچھ مبادیات بھی ہیں۔ نثر اور شعری ترجمے کے تقاضے مختلف ہیں اور ہر زبان کی مخصوص تہذیبی، ادبی اور علمی اصطلاحیں بھی ہوتی ہیں جن کے ترجمے میں زبان کے علم کی مہارت کا خاصا امتحان ہوجاتا ہے۔ انھوںنے غالب کے ایک شعر کی مثال پیش کرتے ہوئے اردو اور ہندی زبانوں میں اچھے اور برے ترجمے کے امتیاز کو بھی واضح کیا۔ انھوںنے کالج آف کامرس کے شعبۂ اردو کو ایسے انوکھے علمی کام کے لیے مبارک باد دی اور آیندہ بھی ایسے کاموں کے لیے معاونت کا یقین دلایا۔ قومی ترجمہ مشن کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد نوشاد عالم نے اپنے خطاب میں سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز کے اس ذیلی ادارے کا تفصیل سے تعارف پیش کرایا اور بتایا کہ حکومتِ ہند میں جب ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیرِ اعظم تھے،ا س دور میں اس ادارے کی بنیاد پڑی اور یہ ادارہ ہندستان کی تمام قومی زبانوں کی اہم کتابوں اور دستاویزات کے تراجم کے کام میں مستعدی سے منہمک ہے۔ افتتاحی اجلاس کے بعد ورک شاپ میں تین خصوصی لکچر کا انعقاد کیا گیا۔ پہلے لکچر میں سنٹرل یونی ورسٹی آف حیدرآباد اور خدا بخش لائبریری کے موجودہ ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد زاہد الحق نے فنِ ترجمہ کے تعارف کے دوران اس کی افادیت ، اہمیت اور اقسام پر بہ تفصیل روشنی ڈالی۔ قومی ترجمہ مشن کے سربراہ ڈاکٹر طارق خان نے آن لائن خطاب میں ترجمہ کے شعبۂ علم کو آنے والے دور میں کن خاص ذمے داریوں کو ادا کرنا ہے، اس موضوع پر انگریزی زبان میں بہ تفصیل روشنی ڈالی۔ پروفیسر صفدر امام قادری نے سماجی تبدیلی میں فنِ ترجمہ اور مترجمین کی خدمات کے حوالے سے اپنے خطاب میں طلبا و طالبات کو ترغیب دلائی کہ اس شعبۂ علم کی طرف وہ اپنی توجہ بڑھائیں اور روزگار کے نئے مواقع کی طرف دستکیں دیں۔ کالج آف کامرس میں آیندہ چار دنوں تک فنِ ترجمہ کے مختلف موضوعات پر ماہرین کے خطابات ہوتے رہیںگے۔ پروفیسر علی رفاد فتیحی(علی گڑھ) ، پروفیسر مشرف علی(بنارس ہندو یونی ورسٹی)، ڈاکٹر محمد ذاکر حسین(خدا بخش لائبریری، پٹنہ)، پروفیسر افروز اشرفی(پاٹلی پترا یونی ورسٹی)، ممتاز شاعر سنجے کمار کندن، کرشن سمیدھا، پروفیسر سید احمد بدر(جمشید پور)، ڈاکٹر افشاں بانو(پٹنہ یونی ورسٹی) اور ڈاکٹر محمد نوشاد عالم کے خصوصی خطابات ہوںگے۔ آن لائن موڈ میں ڈاکٹر وشودیپ گگوئی(میسور) اور ڈاکٹر شبیہ راحت(احمد آباد) اپنے لکچرس دیںگے۔ توقع کی جاتی ہے کہ یہ ورک شاپ فنِ ترجمہ کے سلسلے سے بہار کے ریسرچ اسکالرس کے ذہنی آفاق کو منور کرے گا اور ان کے لیے تعلیمی ترقی کے نئے وسائل پیدا کرے گا۔
دلی این سی آر

فرید آباد میں بھی چلے گی نمو بھارت ٹرین

نئی دہلی : فرید آباد میں ہریانہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (HSVP) کے دفتر میں نمو بھارت ٹرین (RRTS) پروجیکٹ کے بارے میں تقریباً چار گھنٹے کی میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ کے دوران فرید آباد کے تمام سیکٹروں کے نقشوں اور ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جن سے مجوزہ کوریڈور گزرے گا۔ بتایا گیا کہ فی الحال کوئی حکومتی منصوبہ اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے اور جو بھی رکاوٹیں آئیں گی ان کو بروقت حل کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ نمو بھارت کوریڈور کی تعمیر جلد ہی عہدیداروں کی میٹنگ کے بعد شروع ہوگی۔ اس سے فرید آباد سے گروگرام کا فاصلہ صرف 20 منٹ رہ جائے گا۔ریاستی حکومت جدید ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (آر آر ٹی ایس) کے ذریعے گروگرام، فرید آباد اور نوئیڈا کو جوڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تقریباً 15,000 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ کوریڈور تقریباً 62 کلومیٹر طویل ہوگا۔ اس راستے پر اٹھارہ اسٹیشن تجویز کیے گئے ہیں، جو این سی آر کے تین بڑے شہروں کے درمیان تیز، محفوظ اور آسان پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرتے ہیں۔فرید آباد شہر کے اہم اسٹیشن سینک کالونی، این آئی ٹی، باٹا چوک، اور سیکٹر 87/88 چوک ہوں گے۔ اس پروجیکٹ پر تقریباً 19,390 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ ہے۔ توقع ہے کہ تعمیراتی کام دسمبر 2026 تک شروع ہو جائے گا، اس منصوبے کو 2031 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کوریڈور کی ایک اہم خصوصیت نمو بھارت ٹرین اور مقامی میٹرو دونوں کا ایک ہی ٹریک پر مجوزہ آپریشن ہوگا۔ پروجیکٹ کو تیز کرنے کے لیے، پیر کو سیکٹر 12 میں HSVP کے دفتر میں ایک میٹنگ ہوئی۔ HSVP ایڈمنسٹریٹر نیرج کمار، سپرنٹنڈنٹ انجینئر سندیپ دہیا، اور پروجیکٹ میں شامل سینئر افسران نے مجوزہ صف بندی اور HSVP کے موجودہ اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔ جائزہ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ نمو بھارت کوریڈور کی تعمیر میں کسی بھی سرکاری منصوبے، ترقی یافتہ شعبے یا الاٹ شدہ پلاٹ کی وجہ سے رکاوٹ نہیں بنے گی۔
مجوزہ راستے کے مطابق، راہداری فرید آباد میں داخل ہونے سے پہلے گروگرام کے ملینیم سٹی سینٹر، سیکٹر 52 اور گوال پہاڑی سے گزرے گی۔ یہاں، یہ سینک کالونی، این آئی ٹی، باٹا چوک، اور سیکٹر 11 اور 12 کے درمیان تقسیم کرنے والی سڑک سے گزرے گا، جو گریٹر فرید آباد کے کئی سیکٹروں کو جوڑتا ہے اور نوئیڈا کی طرف جاتا ہے۔ فرید آباد میں اس راہداری کی مجوزہ لمبائی تقریباً 16 کلو میٹر ہے۔ اس کے علاوہ، راہداری کو نوئیڈا ہوائی اڈے تک بڑھایا جائے گا، جس سے شہر کے باشندے صرف 20 منٹ میں جیور ہوائی اڈے تک پہنچ سکیں گے۔
میٹنگ میں، عہدیداروں نے اس بات کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی کہ پروجیکٹ HSVP کے ذریعہ پہلے سے تیار کردہ کالونیوں، الاٹ شدہ پلاٹوں اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر منفی اثر نہ ڈالے۔ اگر حکومتی منصوبے اور مجوزہ کوریڈور کے درمیان ممکنہ تصادم ہوتا ہے تو ابتدائی مرحلے میں اس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔اجلاس میں حتمی صف بندی ہونے تک مختلف محکموں کے درمیان مسلسل ہم آہنگی برقرار رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ یہ زمین، بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات سے متعلق تمام مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنائے گا۔ حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس منصوبے کے کامیاب نفاذ کے لیے محکموں کے درمیان بہتر تال میل بہت ضروری ہوگا۔سندیپ دہیا، سپرنٹنڈنگ انجینئر، HSVP، نے کہا، “تفصیلی صف بندی اب بھی اپنے آخری مراحل میں ہے، لیکن محکمہ پہلے ہی تمام ممکنہ اثرات کا مطالعہ کر رہا ہے۔ میٹنگ میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ آیا HSVP سیکٹرز میں کوئی پلاٹ یا سرکاری اسکیمیں مجوزہ راہداری سے متاثر ہوں گی۔”

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔