Connect with us

Bihar

تاریخی صوفی مزار کو کٹاؤ، تجاوزات اور سرکاری بے توجہی سے خطرہ

Published

on

بھاگلپور: چمپا ندی کے کنارے، بھاگلپور شہر سے تقریباً پانچ کلومیٹر مغرب میں، چالیس فٹ بلند ٹیلے پر واقع صوفی بزرگ حضرت خواجہ مخدوم شاہ (شیخ احمد سمرقندی) کا صدیوں پرانا مزار دریا کے کٹاؤ، زمین پر تجاوزات اور طویل عرصے سے جاری سرکاری بے توجہی کے باعث غیر یقینی مستقبل سے دوچار ہے۔
جو مقام کبھی روحانیت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور صوفی ورثے کا مرکز سمجھا جاتا تھا، آج شدید خستہ حالی کا شکار ہے۔ تاریخی عمارت کے صرف داخلی دروازے کے کچھ حصے اور اس سے متصل چند دیواریں ہی باقی رہ گئی ہیں۔
تاریخی روایات کے مطابق مخدوم شاہ دراصل شیخ احمد تھے، جو ایک صوفی عالم تھے اور جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ بارہویں صدی میں موجودہ ازبکستان کے شہر سمرقند سے ہندوستان آئے اور بعد میں بھگلپور میں قیام پذیر ہوئے۔ اپنے آبائی شہر کی نسبت سے وہ مقامی طور پرسمرقندی باباکے نام سے معروف ہوئے۔ انسانی خدمت اور صوفی تعلیمات کے فروغ کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے باعث بعد ازاں انہیںخواجہ مخدوم شاہکا خطاب ملا۔ بعض تاریخی ماخذ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مغلیہ دور میں ایک اہم انتظامی عہدہ بھی سنبھالا، جس کے باعث انہیں انتظامی اور سماجی دونوں شعبوں میں اثر و رسوخ حاصل تھا۔
روایت کے مطابق، اپنے روحانی مرشد کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے اپنی پوری زندگی ذات، مذہب، نسل اور برادری کی تفریق سے بالاتر ہو کر انسانیت، محبت، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ مانا جاتا ہے کہ ان کا وصال 1205ء میں ہوا اور انہیں چمپا ندی کے کنارے سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آج ان کا مزار قائم ہے۔
مقامی لوک روایات میں اس مزار سے متعدد کرامات بھی منسوب کی جاتی ہیں، جن میں یہ عقیدہ بھی شامل ہے کہ مزار کے عین اوپر سے گزرنے والے پرندے بحفاظت آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ تاہم مؤرخین ایسی روایات کو خطے کی زبانی روایت (اورل ٹریڈیشن) کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
جہانگیر کا خواب اور مزار کی تعمیرکتابEminent Muslims of Bhagalpur کے مطابق اس مزار کی عمر تقریباً 803 سال بتائی جاتی ہے۔ مقامی روایت کے مطابق، بزرگ کے وصال کے تقریباً چار صدی بعد مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر دریائی راستے سے بنگال جا رہے تھے کہ ان کی شاہی کشتی اس مقام کے قریب دو دن تک رکی رہی۔ انہی دنوں شہنشاہ نے خواب میں بزرگ کو دیکھا، جنہوں نے اپنی قبر پر مزار تعمیر کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد روایت کے مطابق جہانگیر نے اپنے فرزند شہزادہ پرویز، جو اس وقت مونگیر کے گورنر تھے، کو مزار کی تعمیر کی نگرانی کا حکم دیا اور پھر اپنا سفر جاری رکھا۔
مزار سے منسلک وقف جائیداد تقریباً دس بیگھہ پر مشتمل بتائی جاتی ہے، لیکن مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ برسوں کے دوران اس کی بڑی مقدار پر تجاوزات ہو چکی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ نے نہ تو اس تاریخی یادگار کے تحفظ کے لیے اور نہ ہی اس کی اراضی کو محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
وارڈ نمبر 6 کے کونسلر نجاحت انصاری نے بتایا کہ انہوں نے متعدد بار حلقہ افسر (سرکل آفیسر) سے مطالبہ کیا ہے کہ مزار اور اس کی باقی ماندہ زمین کے تحفظ کے لیے چہار دیواری تعمیر کرائی جائے۔ ان کے مطابق اصل وقف جائیداد کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی اب باقی رہ گیا ہے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ بھی ختم ہو سکتا ہے۔

تاریخی عمارت کا بڑا حصہ دریا کے کٹاؤ اور دہائیوں کی بے توجہی کے باعث پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے۔ مزار کے اطراف گھنی جھاڑیاں اور خودرو پودے پھیل چکے ہیں، جبکہ مرمت اور بحالی کے کام نہ ہونے سے اس کی خستہ حالی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

مؤرخین اور مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ مزار نہ صرف ایک اہم مذہبی مقام ہے بلکہ بھگلپور کے قرونِ وسطیٰ کے ثقافتی اور تعمیراتی ورثے کی بھی ایک قیمتی علامت ہے۔ ان کے مطابق اس کی تاریخی اہمیت کے باوجود محکمہ آثارِ قدیمہ، بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ یا مقامی انتظامیہ کی جانب سے اس کے تحفظ یا بحالی کے لیے اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔

تحفظِ آثار کے ماہرین اور مقامی باشندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس تاریخی یادگار کے تحفظ، تجاوزات کے خاتمے اور باقی ماندہ زمین کے گرد چہار دیواری کی تعمیر کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صوفی ورثے کی یہ اہم ترین علامت ہمیشہ کے لیے معدوم ہو سکتی ہے اور صرف تاریخی ریکارڈ کا حصہ بن کر رہ جائے گی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

ایس سی پی کوچنگ سینٹرکے وائرل ویڈیو معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
ارریہ:فاربس گنج واقع ایس سی پی کوچنگ سینٹر میں یومِ اساتذہ کے موقع پر منعقدہ ایک پروگرام کی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ زیرِ بحث ہے۔ وائرل ویڈیو کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
مبینہ طور پر 5 ستمبر کو یومِ اساتذہ کے موقع پر منعقدہ پروگرام کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی، جس میں طالبات کو برقع میں ایک گانے پر رقص کرتے ہوئے دکھائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو کی حقیقت، پروگرام کے اصل حالات اور اس میں شامل افراد کے کردار کے بارے میں مختلف طرح کی باتیں سامنے آنے کے بعد مقامی نوجوانوں اور شہریوں نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی سلسلے میں جوکی ہاٹ کے نوجوانوں اور مقامی شہریوں کی جانب سے متعلقہ افسران کو درخواست پیش کی گئی۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے لیٹر ہیڈ پر جوکی ہاٹ تھانہ صدر اور بلاک ایجوکیشن آفیسر کو درخواست دی گئی، جبکہ ضلع ایجوکیشن آفیسر اور ضلع مجسٹریٹ، ارریہ کو بھی درخواست پیش کرکے معاملے کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا گیا۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور اس سے متعلق تمام حقائق کی غیر جانب دارانہ طور پر جانچ کی جائے۔ ساتھ ہی پروگرام کے انعقاد، ویڈیو کے اصل پس منظر اور ذمہ دار افراد کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اس موقع پر SDPI کے ضلعی صدر محمد مدثر، سکریٹری جمشید عالم، راجد کے نوجوان رہنما تحسین فائز اور محمد صائم، سیمانچل یوا سنگٹھن کے محمود قمر، صادق انور اور راغب راہی، نیز تحفظِ شریعت و ویلفیئر سوسائٹی کے سکریٹری عبدالوارث سمیت مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد موجود تھے۔
نوجوانوں نے کہا کہ ان کا مقصد کسی فرد یا ادارے کو تحقیقات سے قبل قصوروار قرار دینا نہیں ہے، بلکہ وائرل ویڈیو کی حقیقت اور پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے ذریعے اصل حقائق کو سامنے لانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی جانب سے قانون کی خلاف ورزی یا کسی مذہب اور اس کے ماننے والوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی بات تحقیقات میں ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ مستقبل میں ایسے معاملات کی روک تھام ہوسکے۔

Continue Reading

Bihar

سیلاب متاثرین کی امداد میں شریک اساتذہ و طلبہ کے اعزاز میں امیرشریعت کا خصوصی عشائیہ

Published

on

(پی این این)
مونگیر:امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، سرپرست جامعہ رحمانی و سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے آسام اور اڈیشہ کے حالیہ سیلاب کے دوران راحت رسانی اور بازآبادکاری کے کاموں میں شریک جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے اساتذہ و طلبہ کو، امدادی ٹیم کی واپسی پر ان کے اعزاز میں خصوصی عشائیے پر مدعو کیا۔
یہ عشائیہ محض ایک رسمی ضیافت نہیں تھا بلکہ ان اساتذہ و طلبہ کی خدمت، وقت، محنت اور جذبۂ انسانیت کو تسلیم کرنے اور نئی نسل میں خدمتِ خلق کے جذبے کو مزید مضبوط بنانے کا ایک بامعنی موقع تھا، جس میں حضرت امیرِ شریعت نے ان کی عملی شرکت اور قربانی کو سراہا۔
اسلام نے انسانی خدمت کو محض ایک سماجی ذمہ داری کے بجائے دینی قدر کی حیثیت دی ہے، اور جو لوگ مصیبت کی گھڑی میں دوسروں کے کام آتے ہیں، ان کی قدردانی اور حوصلہ افزائی بھی اسی دینی مزاج کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: “لَا يَشْکُرُ اللَہَ مَنْ لَا يَشْکُرُ النَّاسَ” یعنی جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا۔ حضرت امیرِ شریعت کی جانب سے دیا گیا یہ عشائیہ اسی جذبۂ تشکر و قدردانی کا عملی اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حضرت امیرِ شریعت کی خصوصی ہدایت اور سرپرستی میں امارتِ شرعیہ نے آسام اور اڈیشہ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں روانہ کی تھیں۔ آسام میں راحت رسانی اور بازآبادکاری کے کام کی قیادت امارتِ شرعیہ کے معاون ناظم مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے کی، جبکہ اڈیشہ کی ٹیم کی قیادت مفتی عبد اللہ انس قاسمی کے سپرد رہی۔ ان دونوں ٹیموں میں امارتِ شرعیہ کے علماء و کارکنان کے ساتھ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے اساتذہ اور منتخب طلبہ نے بھی عملی طور پر شرکت کی۔
حضرت امیرِ شریعت کی جانب سے جامعہ رحمانی کے اساتذہ و طلبہ کو اس مہم میں شامل کرنے کے پیچھے ایک اہم تعلیمی و تربیتی مقصد بھی کارفرما تھا۔ جامعہ رحمانی میں تعلیم محض کتابوں اور کلاس روم تک محدود نہیں بلکہ طلبہ میں سماجی ذمہ داری، ہمدردی، قیادت اور معاشرتی مسائل سے عملی وابستگی پیدا کرنا بھی تربیتی عمل کا حصہ ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے درمیان خود پہنچ کر ان کے حالات دیکھنا اور اپنی بساط کے مطابق ان کے کام آنا، طلبہ کے لیے ان اقدار کو عملی تجربے میں ڈھالنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔
واضح رہے کہ آسام اور اڈیشہ کے سیلاب زدہ علاقوں میں امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی امدادی ٹیموں نے کئی روز تک منظم راحت رسانی اور بازآبادکاری کا کام انجام دیا۔ آسام کے ضلع شیو ساگر میں متاثرہ خاندانوں کی گھر گھر نشاندہی کے بعد انہیں لوہے کے پلنگ، بستر کے سیٹ، کچن کا سامان اور مکانات کی تعمیرِ نو کے لیے ٹین شیٹ و بانس فراہم کیا گیا؛ “اب تک 600 خاندان اس امدادی مہم سے مستفید ہو چکے ہیں، جن کی بحالی اور مکمل بازآبادکاری کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔”
اڈیشہ میں بھی امدادی ٹیم نے مفتی عبداللہ انس قاسمی کی قیادت میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے راحت رسانی کا کام انجام دیا۔امارتِ شرعیہ کی مجلسِ شوریٰ نے 3 ستمبر کو امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں آسام و اڈیشہ کے اس ریلیف ورک کو ایک تاریخ ساز اور مثالی خدمت قرار دیا۔

Continue Reading

Bihar

دربھنگہ میں جنم اشٹمی کے آرکیسٹرا پروگرام میں چاقوبازی، ایک نوجوان ہلاک

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:سمری تھانہ علاقہ کے بھراٹھی پنچایت کے کنور پٹی گاؤں کے وارڈ نمبر 12 میں ہفتہ کی دیر رات جنم اشٹمی کے موقع پر منعقد آرکیسٹرا پروگرام کے دوران ہوئی چاقوبازی میں ایک نوجوان کی موت ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ واقعہ کے بعد پولیس نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر ایف آئی آر میں نامزد 8 ملزمین کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار تمام ملزمان کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے، جبکہ مزید 6 نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس مسلسل چھاپہ ماری کر رہی ہے۔
پیر کو سمری تھانہ احاطہ میں منعقد پریس کانفرنس میں صدر ایس ڈی پی او-2 کمتول ایس کے سمن نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق آرکیسٹرا پروگرام کے دوران پوجا کمیٹی کے ارکان اور ملزم فریق کے درمیان کسی بات کو لے کر تنازع ہوگیا تھا۔ تنازع کو پُرسکون کرانے کے لیے راما شیش رام کا 19 سالہ بیٹا کملیش رام آگے آیا، اسی دوران ملزمان نے اس پر چاقو سے حملہ کردیا۔ کملیش کو بچانے پہنچے رام کشور رام کے 18 سالہ بیٹے سمن کمار پر بھی چاقو سے وار کیا گیا۔دونوں نوجوانوں کو شدید زخمی حالت میں علاج کے لیے دربھنگہ میڈیکل کالج و اسپتال (ڈی ایم سی ایچ) لے جایا گیا، جہاں دورانِ علاج کملیش رام کی موت ہوگئی۔ سمن کمار کا علاج جاری ہے۔
واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جگوناتھ ریڈی جلا ریڈی کی ہدایت پر خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی اور مختلف مقامات پر چھاپہ ماری کی گئی۔ پولیس نے کارروائی کے دوران واردات میں استعمال کیے گئے 2 چاقو برآمد کیے، جن میں ایک خون آلود چاقو بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ملزمان کے 3 موبائل فون بھی ضبط کیے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں کنسی کے بلٹن سہنی کا بیٹا مراری کمار، ابھے ٹھاکر کا بیٹا وریندر ٹھاکر، ارون سہنی کا بیٹا راکیش کمار، جے نارائن سہنی کے بیٹے چنچل کمار اور چندن کمار، شمبھو سہنی کا بیٹا گنور سہنی، رام ساگر داس کا بیٹا امرجیت کمار اور سمری کے سنتوش پاسوان کا بیٹا روہت کمار شامل ہیں۔ متوفی کملیش رام کے والد راما شیش رام کی تحریری درخواست پر سمری تھانہ میں مقدمہ نمبر 186/26 درج کیا گیا ہے، جس میں 14 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں ابھیشیک سہنی، کرن مہتو، ریتیش کمار، کرش کمار، پنکج سہنی اور روشن سہنی کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ پولیس ان چھ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ان کے ممکنہ ٹھکانوں پر مسلسل چھاپہ ماری کر رہی ہے۔
ایس ڈی پی او ایس کے سمن نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے مجرمانہ ریکارڈ کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں پروگرام کے دوران پوجا کمیٹی کے ارکان اور ملزم فریق کے درمیان تنازع کی بات سامنے آئی ہے۔ پروگرام کے انعقاد کے سلسلے میں پوجا کمیٹی کی جانب سے پولیس کو کسی قسم کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تفتیش کے دوران اگر پوجا کمیٹی کا کردار سامنے آتا ہے تو اس کے خلاف بھی ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس واقعہ سے متعلق دیگر پہلوؤں کی بھی باریک بینی سے تفتیش کر رہی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران سمری تھانہ صدر اروند کمار اور ایڈیشنل تھانہ صدر ششی شنکر کمار بھی موجود تھے۔
فوٹو کیپشن: چاقو زنی کے واقعہ میں گرفتار ملزمین سے متعلق پریس بریف کرتے ایس ڈی پی او 2 ایس کے سمن ،تھانہ انچارج اروند کمار،

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network