تازہ ترین
چراغ پاسوان نے ترقیاتی اسکیموں کارکھاسنگ بنیاد، ویشالی میں پی ایچ ای ڈی کے نئے اور جدید عمارت کا مرکزی وزیرنے کیا افتتاحسیتامڑھی میں پانچ نئی نگر پنچایتوں کے قیام کی راہ ہموار، سُرسنڈ اور بیلسنڈ نگر پنچایت کو نگر پریشد کا درجہ دینے کی تجویز منظور، 20 نکاتی کمیٹی کی میٹنگ میں متفقہ طور پر قرارداد پاسچند ہزار روپے کی رشوت نے پہنچایا جیل، گیاجی میں نگرانی ٹیم کے جال میں پھنسے دو سرکاری امینٹھیکے پرکام کرنے والے ملازمین کیلئے حکومت کا تحفہ، ریاست کی یوگی حکومت نے اعزازیہ میں کیا ڈیڑھ گنا تک کا اضافہبے زمین سماج کو ملنا چاہیےزمین کا حصہ، پتھک جن شکتی پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجا میمورنڈمطالبات کے حق رائے دہی سے متعلق اے ایم یو کی وضاحتدہلی فسادات معاملے کے پانچ ملزمان بریآستانۂ عالیہ حضرت پیر مرتضیٰ شاہ قادریؒ پر روحانیت و عقیدت کا عظیم الشان اجتماع
دیش

بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔