تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
Bihar

طلبہ وطالبات کو نصابی تعلیم کے ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات کے تقاضوں سے آگاہ کیاجانا ضروری:پروفیسر مشتاق احمد

(پی این این)
دربھنگہ:ہمارا عہد انفارمیشن ٹکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے انقلابات کا ہے اور دیگر شعبوں کی طرح تعلیمی شعبے میں بھی روز نئے نئے ایجادات ہو رہے ہیں اس لئے ہم تمام اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ طلبا وطالبات کو نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات کے تقاضوں سے بھی آگاہ کریں تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیروزگار نہیں رہیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی وہ روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر مشتاق احمد، پرنسپل سی۔ایم کالج، دربھنگہ نے کیا ۔
پروفیسر احمد کالج کے صدورِ شعبہ کی میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ذریعہ پوسٹ گریجویٹ سمسٹر اول اور انڈر گریجویٹ سمسٹر اول میں داخلہ چل رہاہے لیکن اکیڈمک سیشن کا آغاز ہو چکا ہے ۔انہوں نے صدورِ شعبہ سے کہا کہ وہ یو جی سی کے اصول وضابطے کے مطابق انڈکشن پروگرام کے اختتام کے بعد یہ یقینی بنائیں کہ داخلہ لینے والے صد فی صد طلبا کالج آئیں اور کلاس میں شامل ہوں پروفیسر احمد نے کہا کہ سی۔ایم کالج، دربھنگہ میں اس سال سے ایک نیا کورس بی اے بی ایڈاور بی کام بی ایڈ کا آغاز ہواہے اور اس نئے کورس میں طلبا کی بہت دلچسپی ہے ۔لیکن صدر شعبۂ ایجوکیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کورس کے نصاب کے ساتھ سی ٹیٹ اور ایس ٹیٹ کی تیاری بھی کرائیں تاکہ وہ ڈگری لینے کے بعد تعلیمی شعبے میں ملازمت حاصل کر سکیں ۔
میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ ماسٹر روٹین کے ساتھ ساتھ شعبہ جاتی روٹین بھی طلبا کے درمیان تقسیم کیا جائے اور بالخصوص سوشل میڈیا گروپ کے ذریعہ انہیں تمام تر معلومات فراہم کرائی جائیں۔اس موقع پر الگ الگ شعبے کے صدر نے بھی اپنے مسائل پیش کئے جس پر سنجیدگی سے غوروخوض کیا گیا اور ان مسائل کو فوری طورپر دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ۔میٹنگ میں یہ بھی طے ہو ا کہ جو طلبا وطالبات مسلسل سات دنوں تک کالج نہیں آئیں گے ان کا داخلہ رد کیا جائے گا۔انٹرنل امتحان وقت پر مکمل کئے جائیں گے اور اس میں غیر حاضر رہنے والے طلبا وطالبات کو یونیورسٹی امتحان کا فارم بھرنے سے روک دیا جائے گا کیوں کہ اب انٹر نل امتحان لازمی ہے ۔
میٹنگ میں ڈاکٹر مینک سریواستو، ڈاکٹر للت شرما، ڈاکٹر سبرت کمار داس، ڈاکٹر آلوک کما ر رائے، ڈاکٹر محمد خالد انجم عثمانی، ڈاکٹر وجے سین پانڈے، ڈاکٹر سدھانشو کمار ، ڈاکٹر سنجیت کمار جھا ، ڈاکٹر راگنی رنجن ، ڈاکٹر انوپم کمار سنگھ ، ڈاکٹر اکھلیش کمار ویبھو، ڈاکٹر ششانک شکلا اور ڈاکٹر محمد ابصار عالم نے شرکت کی اور معیاری تعلیم کو بلند کرنے کے لئے مفید مشورے دئے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔