تازہ ترین
ویشالی میں 16 ماہ کے دوران 444 سڑک حادثات، 464 افراد کی موتایس بی آئی کی خاتون افسر نے 7.96 کروڑ روپے کاکیا غبن، ای ڈی اور سی بی آئی کی تحقیقات میں بڑے انکشافات،سخت سزادینے کامطالبہبہار میں گرین ہائیڈروجن کی پیداوار کو منظوری، 12 ہزار افراد کو ملے گا روزگار، حکومت نے 1040 کروڑ روپے کئے فراہمیوپی میں سابق اگنی ویروں کو امتحان میں دی گئی چھوٹ، وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کی میٹنگ میں بھرتی سے متعلق ضابطوں میں ترمیم کی تجویز کودی گئی منظوریعوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں اپنی ذمہ داری اداکرے حکومتدیوبند فلائی اوور پراندہناک حادثہ،4افراد کی موت، ایک درجن سے زائد افراد شدید زخمیلمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائیجنترمنتر نہیں پہنچ پائے مظاہرین،4ہزار سے زائد افراد حراست میں
انٹر نیشنل

امریکہ کی اسلامک سینٹر آف سانڈیاگو پر حملہ،5ہلاک،بال بال بچے مدرسہ کے طلبا

واشنگٹن:ذہبی نفرت کی آگ امریکہ میں بھی پھیل گئی ہے۔ امریکہ کی اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو میں آج زبردست گولہ باری کی گئی۔ اسلامک سینٹر کی یہ سب سے بڑی مسجد ہے، جہاں بچوں کو عربی تعلیم کے ساتھ دین کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ جس وقت حملہ ہوا بچے مسجد میں موجود تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں قائم بڑے اسلامی مرکز میں ہونے والی خوفناک فائرنگ نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا جہاں حملے کے نتیجے میں سیکیورٹی گارڈ سمیت 3 افراد جان سے گئے جبکہ دو مبینہ حملہ آور بھی ہلاک ہو گئے۔امریکی حکام کے مطابق واقعہ سان ڈیاگو کے معروف اسلامک سینٹر میں پیش آیا، جہاں اچانک فائرنگ کی آوازیں گونج اٹھیں۔
اس دوران مسجد میں موجود نمازیوں اور بچوں میں بھگدڑ مچ گئی، جبکہ سیکیورٹی پر مامور گارڈ نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے جان قربان کر دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔واقعے کے بعد پولیس، ایف بی آئی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا۔سان ڈیاگو پولیس چیف کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واقعہ نفرت انگیزی پر مبنی حملہ ہو سکتا ہے۔
حکام نے بتایا کہ دونوں مشتبہ حملہ آور کم عمر تھے اور ان کی لاشیں مسجد کے قریب ایک گاڑی سے ملی ہیں۔اسلامک سینٹر انتظامیہ کے مطابق یہ مسجد سان ڈیاگو کاؤنٹی کا سب سے بڑا اسلامی مرکز ہے جہاں روزانہ سینکڑوں افراد عبادت کے لیے آتے ہیں جبکہ جمعہ اور مذہبی تقریبات کے دوران ہزاروں افراد یہاں موجود ہوتے ہیں۔اسی مرکز میں دینی و تعلیمی سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں اور الراشد اسکول بھی قائم ہے۔
مسجد کے امام طحہٰ حسنیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے باوجود بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا جس سے بڑا سانحہ ٹل گیا۔ انہوں نے سیکیورٹی گارڈ کی قربانی کو بہادری کی مثال قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔