تازہ ترین
جامعہ رحمانی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ کا روشن مرکز، مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی جامعہ رحمانی مونگیر آمد، طلبہ و اساتذہ سے خطاب،فکر و نظر ٹی وی اسٹوڈیو کا کیامعائنہسیمانچل کے تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کیلئے ہمیں متحدہ طور پرکرنی ہوگی کوشش : منوج وشواشآفات سے ہونے والی اموات پرملے گادوگنا معاوضہ، ایسے معاملات میںاب 8لاکھ روپے دے گی ریاستی حکومت ،وزیراعلیٰ نے فصلوں اور مویشیوں کے نقصان پر امدادی رقم میں بھی کیا اضافہجعلی نوٹ چھاپنے کی فیکٹری کا پردہ فاش، چاول مل میں چھاپے جارہے تھے جعلی نوٹ، چھاپہ ماری میں 100، 200 اور 500 روپے کے نوٹ بڑی مقدار میں برآمداذان اور بھجن کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی اجازت کا مطالبہ، مرزاپور سمیت متعدد دیہی علاقوں کے وفد نے ڈی ایم سے کی ملاقاتایک ادیب، ناقد، افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان ہم سےہوگیا جدا :پروفیسر ارتضیٰ کریم، شعبہ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میرٹھ میں ”صبا اکرام: تعزیتی جلسہ“ پر آن لائن پرو گرام کا انعقادمانو ایوننگ کالج میںنئے یو جی کورسز کے ساتھ پی جی کورس بھی ہوں گےشروع : پروفیسر سید عین الحسنانجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول نے 130ویں ہیرس شیلڈ مسلسل تیسری مرتبہ درج کی جیت
دلی این سی آر

مادری زبان سے سچی محبت وقت کی اہم ضرورت

(پی این این)
نئی دہلی :گزشتہ روز غالب اکیڈمی،نئی دہلی میں ماہانہ نثری نشست کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت خورشید حیات نے کی۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ مادری زبان سے سچی محبت وقت کی اہم ضرورت ہے۔تہذیبی قدروں سے بیگانگی ہمیں اچھا انسان نہیں بنا سکتی۔ انہوں نے ” کشکول“، ”یہ اسی کی آواز ہے“ ایک مختصر اورایک طویل کہانی سنائی۔ اس نشست میں سید وجاہت مظہر نے قرة العین حیدر کے سوانحی ناول ”کار جہاں دراز ہے تاریخ وتخیل کے آمیزہ“ کے عنوان سے ایک مقالہ پڑھا۔
متین امروہوی نے منور رانا کی کتاب ”سفید جنگلی کبوتر“ پر ایک مضمون پڑھا۔ڈاکٹر شہلا احمد نے” ہیرا منڈی“ کے عنوان سے ایک کہانی پیش کی۔ ٹی این بھارتی نے ”میرے بچپن کی چھبیس جنوری“ کے عنوان سے ایک مضمون پڑھا جس میں انہوں نے دہلی میں اپنے بچپن میں 26جنوری کی پریڈ کی منظر کشی کی۔ ہندی کے مشہور افسانہ نگار راجندر کمار نے کہانی” سوچ “سنائی۔ جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سوچ بدلنے سے ستارے بدل جاتے ہیں۔ محمد رضوان نے” ہندوستانی فلموں میں اردو نغمے اور فلسفہ ¿ حیات“ کے عنوان سے ایک عمدہ مضمون پڑھا۔جس میں انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فلموں کو اردو نغموں سے شہرت حاصل ہوئی ہے۔ اردو نے ہندوستانی فلموں کو تقویت بخشی ہے۔ آرزو،جوش،ندا فاضلی،شکیل بدایونی،مجروح ،کیفی،سردار جعفری تما م بڑے شاعر ہندوستانی فلموں کے لیے نغمے لکھتے تھے۔ اس موقع پر ظہیر احمد برنی نے شفیق الرحمن کی تصنیف” مزید حماقتیں “پر دلچسپ گفتگو کی۔
اس نشست میں ڈاکٹر عقیل احمد نے” خواجہ میر درد کی شاعری“ پر ایک مضمون پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ میر درد کی شاعری کا خاص وصف تصوف ہے۔ متصوفانہ شاعری ہی ان کے کلام کی جان ہے۔میر درد نے اپنی شاعری کو انسان دوستی کا ذریعہ بنایا جس میں انسانی حقوق کی اہمیت اور انسان کے بلند مرتبے پر خاص اہمیت دی گئی۔اس موقع پر دہلی یونیورسٹی کی استاد اور غزل سنگر محترمہ انوپما سری واستو، احترام صدیقی، نعیم ہندوستانی،کمال احمد نے خاص طور سے شرکت کی۔
آخر میں سکریٹری نے شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ اگلی نشست8 فروری2025ءکو ہوگی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔