(پی این این)
میرٹھ:دیوالی روشنی کا تیو ہار ہے جو برا ئی یا اندھیرے کو دور کرتا ہے۔ رنگو لی کے ذریعے ہم اپنے مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں۔ مٹھا ئی اور روشنی اس تیوہار کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں۔ پانچ روز تک یہ تیوہار بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ دیوالی کا تیو ہار ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے خوشیاں بانٹیں۔یہ الفاظ تھے پروفیسر کویتا تیاگی کے جو یہاں شعبہئ اردو میں منعقد جشن دیوالی اور رنگولی مقا بلے میں اپنی تقریر کے دوران ادا کررہی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں نے بہت ہی عمدہ آرٹس بنائی ہیں۔رنگوں کا انتخاب بھی کمال کا رہا۔ سبھی طالب علم مبارک باد کے مستحق ہیں۔
اس سے قبل پروگرام کا آغاز مہمانوں نے شمع روشن کر کے کیا۔ پروگرام کی صدارت کے فرائض معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کے بطور ڈین فیکلٹی آف آرٹس سی سی ایس یونیورسٹی، پروفیسر اتویر سنگھ نے شر کت کی اور مہمان اعزا زی کے بطور سابق صدر شعبہئ ہندی میرٹھ کالج پروفیسر کویتا تیا گی نے شرکت کی۔رنگولی مقابلے میں ججز کے فرائض ڈاکٹر دنیش کمار شر ما] سابق صدر شعبہئ فائن آرٹس، میرٹھ کالج، میرٹھ[ اور ڈاکٹر سدھا شرما ] سابق صدر شعبہئ فائن آرٹس، آر جی ڈگری کالج، میرٹھ[نے انجام دیے۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم، نظامت ڈاکٹر الکا وششٹھ اور شکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے انجام دی۔ڈاکٹر شاداب علیم نے پروگرام کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ دیوالی ہمارے ملک ہندوستان کا بہت ہی خوبصورت تیو ہار ہے جو روشنی، خوشی امید، نیکی اور فتح کی علامت ہے۔ یہ تیوہار اندھیرے سے روشنی، برا ئی سے اچھائی اور مایوسی سے امید کی طرف سفر کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ اس کا مقصد دلوں کو دلوں سے جوڑنا، فاصلے ختم کرنا اور محبت و یگانگت کے رشتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ دیوالی کا حقیقی پیغام اور دیوالی ملن کی اصل روح یہ ہے کہ ہم مذہب،ذات اور طبقات کی تفریق سے بالا تر ہو کر ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوں اور ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر کریں۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور دیوالی کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ دیوالی کا تیو ہار ہندو مسلم کی دوریوں کو مٹاتا اور ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ یہ تیو ہار اندھیرے کو دور کرتا ہے اور سب کو متحد کرتا ہے۔ ہما ری کوشش ہوگی کہ ہم پوری تیاری کے ساتھ اس طرح کے پرو گرام کریں۔ڈاکٹر سدھا شرما نے کہا کہ آج میں اس شعبے میں آ کر بڑی خوشی محسوس کررہی ہوں۔ یہاں جشن دیوالی پر رنگولی مقابلے کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شعبوں کے طالب علموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور واقعی اتنے کم وقت میں اتنی خوبصورت آرٹس بنائی، بچوں نے رنگوں کے انتخاب میں بھی کمال کا مظاہرہ کیا۔بہترین آرٹس کے لیے سبھی بچوں کو مبارک باد اور میری دعا ہے کہ اس طرح کے پروگرام یہ شعبہئ کرتا رہے۔ کیو نکہ اس طرح کے پروگراموں سے محبت کا پیغام ملتا ہے۔
پروفیسر اتویر سنگھ نے کہا کہ اس پروگرام میں جن طلبہ و طالبات نے بھی حصہ لیا ہے میں سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آگے بھی اس طرح کے پروگرام منعقد ہوتے رہیں گے۔دیوالی محبت اور خوشی کا پیغام دیتا ہے۔محبت کا ایک چھوٹا سا چراغ نفرت کے بڑے سے بڑے اندھیروں کو مٹا سکتا ہے۔رنگولی مقابلے میں یوگا ڈیپارٹمنٹ کی پونم رانی کو اول،شعبہئ اردو کی ٹیم مہوش، نمرہ اور نایاب کو دوم،شعبہئ ہندی سے محمد انس، شیلی اور پریتی کو سوم انعامات سے نوازا گیا جب کہ کونسولیشن کا انعام شعبہئ اردو کی ہی دوسری ٹیم صائمہ، محمد عیسیٰ رانا، روشنی کو دیا گیا۔
واضح ہو کہ شعبہئ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اپنے قیام ہی سے مختلف تیو ہاروں جیسے ہو لی، دیوالی، عید وغیرہ پر گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے اور آپسی اتحاد و اتفاق اور بھائی چارے کو پروان چڑھانے کی غرض سے کلچرل پروگراموں کا انعقاد کرتا رہا ہے۔اس مو قع پر ڈاکٹر آصف علی،انل شرما،جتیندر، سی راج،ہیمنت گویل، سیدہ مریم الٰہی،راشد یوسف،فرحت اختر،عمائدین شہر اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔
’نفرت کے بڑے سے بڑے اندھیروں کو مٹا سکتا ہےمحبت کا ایک چھوٹا سا چراغ ‘، میرٹھ میںچودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں جشن دیوالی اور رنگو لی کا شاندار انعقاد
