Connect with us

اتر پردیش

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں یوم توانائی تحفظ پر بیداری پروگرام کا انعقاد

Published

on

(پی این این )
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں توانائی کے تحفظ کے دن پر پائیدار توانائی کے طریقوں سے متعلق بیداری بڑھانے اور کیمپس میں ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دینے کے مقصد سے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ یونیورسٹی کے شعبہ بجلی نے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی رہنمائی میں توانائی کے تحفظ سے متعلق آگہی ہفتہ کا آغاز کیا۔ حلف برداری کی تقریب، آگہی ریلی اور ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا، جن کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا، توانائی کے زیاں کو کم کرنا اور ایک سرسبز ملک کے قیام میں تعاون کرنا تھا۔
پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے تقریب کی صدارت کی۔ انہوں نے اس اقدام کی بھرپور تائید کی اور کیمپس کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے جاری کوششوں پر روشنی ڈالی، جن میں شمسی توانائی کی سہولیات میں توسیع اور برقی فیڈرز کا استحکام شامل ہے۔
اپنے خطاب میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کا تحفظ محض ایک تکنیکی تقاضا نہیں بلکہ ایک مشترکہ سماجی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ روزمرہ کی زندگی میں مؤثر طرزِ عمل اپنائیں تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
ڈی وی وی این ایل، علی گڑھ کے چیف انجینئر مسٹر پنکج اگروال نے اس موقع پر جدید برقی نظاموں میں توانائی کی افادیت کے کردار پر اپنے قیمتی خیالات پیش کیے، جس سے شرکاء کو توانائی کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔یہ سرگرمیاں ممبر انچارج الیکٹریسٹی پروفیسر سلمان حمید اور ایسوسی ایٹ ممبر انچارج ڈاکٹر شیرازکرمانی کی رہنمائی اور نگرانی میں منعقد کی گئیں، جن کی مربوط کاوشوں سے پروگرام کی کامیاب تکمیل ممکن ہوئی۔
حلف برداری کی تقریب کے دوران طلبہ، اساتذہ اور عملے نے اجتماعی طور پر توانائی کے مؤثراستعمال کے طریقوں کو اپنانے، زیاں کو کم کرنے اور ایک سرسبز کیمپس کی تعمیر میں تعاون کا عہد کیا۔ اس کے بعد پولی ٹیکنک بوائز سے ڈک پوائنٹ تک ایک بیداری ریلی نکالی گئی، جس میں طلبہ، اساتذہ، انرجی مانیٹرز اور عملے کے اراکین نے شرکت کی اور پائیدار توانائی کے استعمال کے حق میں نعروں اور پلے کارڈز کے ذریعے لوگوں کو بیدار کیا۔ پروگرام میں اے ایم یو کے انرجی مانیٹرز کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جو کلاس رومز، لیبارٹریز، ہاسٹلز اور دفاتر میں بجلی کے ذمہ دارانہ استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔
دریں اثنا، اے ایم یو گرلز اسکول میں بھی قومی توانائی کے تحفظ کا دن پرنسپل محترمہ آمنہ ملک اور وائس پرنسپل محترمہ الکا اگروال کی رہنمائی میں جوش و خروش اور پائیدار ترقی کے مضبوط عزم کے ساتھ منایا گیا۔ شرکاء نے توانائی کے تحفظ کے حلف نامہ پر دستخط کیے اور توانائی بچانے اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔ جماعت دہم (ایف) کی طالبہ مس صفت مرزا نے اپنی تقریر میں گھر اور اسکول میں توانائی بچانے کے عملی طریقوں پر روشنی ڈالی۔طالبات اور اساتذہ نے اجتماعی طور سے توانائی کے تحفظ کا حلف پڑھا، جس سے پائیدار طرزِ زندگی اور ماحولیاتی تحفظ کے تئیں مشترکہ ذمہ داری کا احساس اجاگر ہوا۔ پروگرام کو مسٹر رانا حبیب خان اور مس سندس نورالعین نے مربوط کیا

uttar pradesh

گنگا ایکسپریس وے پرایک اور المناک سڑک حادثہ، باپ- بیٹی کی دردناک موت،ایک ہی خاندان کے متعددافراد زخمی

Published

on

امروہہ:(پی این این) اتر پردیش کے امروہہ میں گنگا ایکسپریس وے پر اتوار کی علی الصبح ایک دل دہلا دینے والا سڑک حادثہ پیش آیا، جس میں پنجاب کے موہالی کے رہنے والے ایک ہی خاندان کے آٹھ زخمیوں میں سے باپ بیٹی سمیت دو افراد کی دردناک موت ہو گئی، جبکہ چار دیگر شدید طور پر زخمی ہو گئے۔
موصولہ معلومات کے مطابق، سید نگلی تھانہ علاقے کے تحت ترارا گاؤں کے قریب بریلی کے ’منونا دھام‘ سے درشن کر کے چنڈی گڑھ لوٹ رہے عقیدت مندوں کی تیز رفتار میجک پک اپ گاڑی اچانک بے قابو ہو کر سڑک پر پلٹ گئی، جس کے بعد ایکسپریس وے پر چیخ و پکار مچ گئی۔ بدقسمتی سے، گاڑیوں کے ٹکرانے کی آواز سن کر مقامی لوگ جب تک بچاؤ اور مدد کے لیے دوڑے، پیچھے سے آنے والی ایک تیز رفتار کار اور ٹیمپو ٹریولر سڑک پر تڑپتے ہوئے زخمیوں کو روندتے ہوئے نکل گئیں۔ اس کے بعد ایک کے بعد ایک کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، جس سے چیخ و پکار کے بیچ ایکسپریس وے پر صورتحال مزید خوفناک ہو گئی۔
پک اپ گاڑی کو پیچھے سے ٹکر مارنے والے ٹیمپو ٹریولر میں مدھیہ پردیش کے ضلع جھابوا کے رانا پور گاؤں کے 18 لوگ سوار تھے، جو ایودھیا سے درشن کر کے ہری دوار جا رہے تھے اور وہ بھی اس حادثے کا شکار ہو گئے۔
اس حادثے میں پنجاب کے موہالی کے رہنے والے لکشمن (30) اور ان کی بیٹی آشا کی ہسپتال لے جاتے وقت راستے میں ہی موت ہو گئی۔ جاں بحق لکشمن کی بیوی سریتا، دیپک، دیپیکا، راہل، پانچ سالہ پری، ساڑھے تین سالہ نیتک اور چار سالہ خوشپریت سمیت کئی دیگر لوگ اس حادثے میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس فورس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور ایمبولینس کی مدد سے تمام زخمیوں کو قریبی کمیونٹی ہیلتھ سنٹر میں داخل کرایا، جہاں سے شدید زخمی سریتا سمیت دیگر کو بہتر علاج کے لیے ہائر سینٹر ریفر کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور حادثے کی اطلاع پنجاب کے موہالی میں ان کے رشتہ داروں کو دے دی ہے۔ ایکسپریس وے پر ٹریفک کو بحال کرنے کے لیے گاڑیوں کو کرین کی مدد سے جے پال سنگھ بابو جی چوک کے پاس منگرولہ ٹول پلازہ پر کھڑا کرا دیا گیا ہے۔ معاملے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

وارانسی کا راج گھاٹ پل بند، گاڑیوں کی آمد و رفت پر مکمل پابندی

Published

on

(پی این این)
وارانسی: اتر پردیش میں وارانسی اور چندولی کو جوڑنے والے تاریخی راج گھاٹ پل پر مرمت کا کام اتوار کی رات 10 بجے سے شروع ہوگا۔ اس کے پیشِ نظر، یہ پل 13 اگست تک گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا۔ مرمت کا کام روزانہ رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک چلے گا۔ اس دوران کسی بھی قسم کی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ٹریفک پولیس کے مطابق، محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کے حکام کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ آس پاس کے متعلقہ تھانوں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ روٹ ڈائیورژن پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ ٹریفک جام کی صورتحال پیدا نہ ہو۔تبدیل شدہ ٹریفک روٹ کے تحت مغل سرائے اور چندولی کی جانب جانے والی گاڑیوں کو سندہا کی طرف سے رنگ روڈ کے راستے چندولی بھیجا جائے گا، جبکہ چندولی کی جانب سے آنے والی گاڑیوں کو رام نگر کے سامنے گھاٹ پل سے ڈافی ہائی وے کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ اسی طرح پڑاؤ کی جانب سے آنے والی گاڑیوں کو بھی رام نگر کے سامنے گھاٹ پل سے ہوتے ہوئے لنکا-رویداس گیٹ روڈ کی طرف روانہ کیا جائے گا۔
ٹریفک پولیس کی ٹیمیں مسلسل نگرانی کریں گی۔ انٹری پوائنٹس (داخلہ راستوں) پر بیریکیڈز لگا کر انہیں بند کیا جائے گا اور مقامی پولیس کے اضافی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

Continue Reading

اتر پردیش

کربلا کی زمین پر چلا انتظامیہ کا بلڈوزر

Published

on

رام پور:تحصیل ملک کے محلہ اسد اللہ پور میں کربلا کے نام پر الاٹ تقریباً دو بیگھہ زمین پر بلڈوزر چلوا کر قبضہ ہٹو دیا گیا۔ تحصیل کے مطابق دو بیگھہ زمین پرانی پرتی کے طور پر کاغذات میں درج تھی۔ سال 2016 میں ملک کے ایس ڈی ایم کے احکامات پر زمین کو کربلہ کے نام پر درج کر دیا گیا تھا۔ بعد میں ڈی جی سی سول نے اس الاٹمنٹ کے خلاف اعتراض کیا۔ اس معاملہ کی سنوائی ایس ڈی ایم ملک کی عدالت میں کی گئی ۔ ایس ڈی ایم ملک نے 9 فروری سے پہلے کئے گئے زمین کے الاٹمنٹ کو خارج کر دیا اور احکامات کے زمین کو پرانی پرتی کے طور پر درج کر دیا جائے ۔ ایس ڈی ایم کے احکامات پر آج تحصیل کی ٹیم موقع پر پہنچی اور زمین پر جے سی بی چلا کر اس پر سے ناجائز قبضہ ہٹوا دیا ۔ اب تک اس زمین کو کر بلا کی زمین کہا جاتا تھا۔ کارروائی کےدوران ایس ڈی ایم انوراگ سنگھ، نائب تحصیلدار انکت او تھی ، لیکھ پال جتیندر اور تحصیل کا عملہ موجود رہا۔ عملہ کا کہنا تھا کہ عدالت کے احکامات پر یہ کام کرایا گیا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network