تازہ ترین
یتیم خانہ اسلامیہ گیا نے پیش کی خدمت، ایثار اور انسان سازی کی روشن مثال، یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کے 109 سال:وزیر ڈاکٹر سنتوش کمار سمن سمیت اہم شخصیات کی شرکت، پانچ زبانوں میں طلبہ کی تقریروں نے حاصل کی توجہجامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں 40 روزہ تفہیم قرآن ورکشاپ کا آغاز14 سال بعد خاتون سپاہی کو 5سال کی قید, بڑی بدعنوانی معاملے میں عدالت نے سنایافیصلہ، 16.25 لاکھ روپے کا جرماعائدکھگڑیا کے ایس پی کیخلاف خواتین کمیشن میں معاملہ درج، آئی پی ایس افسر کو سمن جاری،کمیشن میںجلدحاضرہونے کی دی گئی ہدایت2 سال سے زائد عمر کے بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ نہ بننےسے والدین پریشانلکھنؤ میں اچھانک پلٹ گیا فارملین کیمیکل سے بھرا ٹینکر، رساؤ کے باعث آس پاس کے علاقوں میں کھانسی، خارش اور آنکھوں میں جلن کی شکایاتمدارس اسلامیہ کے تحفظ کیلئے خوف زدہ ہونے کے بجائے اختیار کی جائیں دعا، اصلاح اور ضروری احتیاطی تدابیر : حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانیمنھ میں جوتا ٹھونس دوں گا:ایم ایل اے، تاجرگرپوں کے درمیان تنازع حل کرانے پہنچے بی جے پی کے رکن اسمبلی ہوئے برہم
uttar pradesh

اساتذہ کے لیے جدید طریقہ تدریس وقت کا اہم تقاضہ: پروفیسر گلریز

علی گڑھ:مرکز پیشہ ورانہ فروغ برائےاردو اساتذہ (سی پی ڈی یو ٹی، اردو اکادمی )،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے زیر اہتمام اردو اساتذہ کے لیےہفت روزہ ریفریشر کورس(5 تا13/اگست) کے افتتاحی اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا۔جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے سابق وائس چانسلر،اے ایم یو پروفیسر محمد گلریز نے شرکت کی۔جبکہ مہمان اعزازی کے طور پر ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کی ڈائریکٹر پروفیسرقدسیہ تحسین موجود تھیں۔
مرکز پیشہ وارانہ فروغ برائے اردو اساتذہ کے ڈائریکٹر پروفیسر زبیر شاداب خان نے میزبانی کی۔ “جدید طریقہ تدریس” کے موضوع پر آراستہ ہفت روزہ ریفریشر کورس کے افتتاحی اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے پروفیسر محمد گلریز نے کہا کہ ریفریشر کورسز کے انعقاد سے اساتذہ کو نئی روشنی اور نئی توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اردو اساتذہ کے لیے جدید طریقہ تدریس پر مبنی مختلف تربیتی پروگراموں کا انعقاد وقت کا تقاضا بھی ہے اورہماری ضرورت بھی۔اس طرح کے تربیتی پروگراموں سے اردو کے اساتذہ اردو زبان و ادب کی تدریس کے جدید طریقہ کار سے واقف ہوں گے اوروہ اپنے اسکولی طلباو طالبات کے لیے بہتر تعلیم و تربیت کی فضا ہموار کر سکیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عہد حاضر میں یہ ممکن ہی نہیں کہ جدید تدریسی معلومات حاصل کیے بغیر کوئی بھی استاذ ایک بہتر اور موثر طریقہ تعلیم پیش کر سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس ریفریشر کورس میں مختلف ماہرین کے لیکچرز اور جدید معلومات سے اردو زبان و ادب کے اساتذہ کو ایک نئی راہ ملے گی۔
پروفیسر قدسیہ تحسین نے اس موقع پر اظہار امید کرتے ہوئےکہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ 10 اسکولوں کے اردو اساتذہ کے لیے منعقدہ اس ریفریشر کورس سے ایک مثبت نتیجہ برآمد ہوگا اور اردو جیسی بڑی زبان کے اسباق کی تدریس کے لیے ہمارے اساتذہ ازسرنو تازہ دم ہوں گے۔
پروفیسر زبیر شاداب خان نے اپنے تعارفی کلمات میں ہفت روزہ ریفریشر کورس کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خصوصی دلچسپی کے سبب ہی ہم اردو اکادمی کی اصل کارکردگی کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اردو اساتذہ کے لیے موثر تدریسی طریقہ تعلیم اور نصابات تعلیم کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے آف لائن کے ساتھ ساتھ آن لائن تربیتی پروگراموں کے انعقاد کا بھی ہمارا منصوبہ ہے۔
واضح رہے کہ اس ہفت روزہ پروگرام کے انعقاد میں وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون اور رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر کی خصوصی رہنمائی و حوصلہ افزائی شامل رہی۔اس ریفریشر کورس میں ‘اے ایم یو گرلز اسکول’،’راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اے ایم یو سٹی اسکول’،’عبداللہ اسکول’،’سینیئر سیکنڈری اسکول گرلز’،’سید حامد سینیئر سیکنڈری اسکول(بوائز)’، ‘اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول(گرلز)’،’ایس ٹی ایس اسکول(منٹو سرکل)’، ‘اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول(بوائز)’،’اےایم یو سٹی گرلزہائی اسکول’،’احمدی اسکول فار ویژولی چیلنجڈ’ کے کل بیس اساتذہ شریک ہو رہے ہیں۔افتتاحی اجلاس کا آغاز ڈاکٹر عرفان احمد کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر مشتاق صدف نے بحسن و خوبی انجام دیے۔جبکہ ڈاکٹر رفیع الدین نے مہمان خصوصی،مہمان اعزازی اوراساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔