uttar pradesh
امروہہ: ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر نتن گوڑ نے کلکٹریٹ پرلہرایا قومی پرچم
(پی این این)
امروہہ: ضلع میں یوم آزادی جوش و خروش سے منایا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر نتن گوڑ نے کلکٹریٹ پر قومی پرچم لہرایا اور سلامی دی۔ اس کے بعد وہ گاندھی کے مجسمے پر گئے اور مہاتما گاندھی کو پھول چڑھا کر خراج عقیدت پیش کیا۔ ڈسٹرکٹ جج وویک کمار نے کچہری کے احاطے میں پرچم لہرایا اور وکلاء سمیت سبھی کو نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ملک کی سالمیت اور باہمی ہم آہنگی پر زور دیا۔ پولیس کے سپرنٹنڈنٹ لکھن سنگھ یادو نے پولیس آفس میں پرچم کشائی کی۔
چیف ڈیولپمنٹ آفیسر اشونی کمار مشرا نے وکاس بھون میں پرچم کشائی کی۔ چیرمین ششی جین اور ایگزیکٹیو آفیسر دنیش کمار نے نگر پالیکا پریشد دفتر میں پرچم کشائی کی اور ملک کے لافانی شہیدوں کو یاد کیا۔ نایاب عباسی ڈگری کالج میں پرنسپل ڈاکٹر لبنیٰ حامد نے پرچم کشائی کی۔ اس موقع پر جوائنٹ سیکرٹری قسیم اشرف، ڈاکٹر نسیم اور ڈاکٹر مہتاب علی سمیت تمام اسٹاف ممبران موجود تھے۔ مسلم کمیٹی کے صدر اقبال احمد خان نے میونسپل کارپوریشن کے بالمقابل سماجی کارکن آصف قریشی کی رہائش گاہ پر قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر آصف قریشی، ڈاکٹر نجم النبی رومی شفاعت، اور شہزاد پرویز سمیت تمام ممبران موجود تھے۔
ہاشمی ڈگری کالج میں ڈاکٹر سراج الدین ہاشمی نے پرچم کشائی کی۔ اس موقع پر پرنسپل رضوانہ کلثوم اور تمام شعبہ جات کے ترجمان موجود تھے۔ شہر کے ایم ایل اے اور سابق وزیر محبوب علی نے جی ایم ایس کالج میں پرچم کشائی کی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ڈاکٹرمعراج حسین کی رہائش گاہ پر ہماچل پردیش کے شاہ پور سے ایم ایل اے اور امروہہ ضلع کے لیے تنظیم کے تخلیق پروگرام کے انچارج کیول سنگھ پٹھانیا نے قومی پرچم لہرایا اور ملک کے شہیدوں کو یاد کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر معراج حسین، محمد یاسر انصاری، نریندر راٹھی، اور انتظار نقوی سمیت کانگریس کے ارکان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ سماج وادی پارٹی کے دفتر میں پرچم کشائی کی تقریب میں ضلع صدرمست رام سنگھ یادو، سنت رام سنگھ یادواور کئی پارٹی کارکنوں نےشرکت کی۔پیغام امن کمیٹی نے علی جان منزل پر قومی پرچم کو سلامی دی اور حب الوطنی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر منصور احمد، اویس مصطفیٰ رضوی، خورشید انور، صوفی مشتاق صوفی معین، رہبر رضا سمیت بہت سے لوگ موجود تھے۔علاوہ ازیں ضلع بھر کے سرکاری محکموں، سکولوں، کالجوں اور مدارس میں شہداء کی قربانیوں کی یاد میں پرچم کشائی کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
uttar pradesh
دارالعلوم دیوبند کا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل، ہر طرف پولیس تعینات،سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھنے کے بعد انتظامیہ نے کی مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی
(پی این این)
دیوبند: انتظامیہ کی جانب سے سہارنپور کلکٹریٹ کمپلیکس میں واقع مسجد کو بلڈوز کرنے کے بعد ضلع دن بھر ہائی الرٹ پر رہا۔ مذہبی شہر دیوبند میں خاص طور پر دارالعلوم کا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا۔ دن بھر بحث و مباحثہ جاری رہا، ہر کونے پر پولیس تعینات تھی۔
ہفتہ کی صبح ڈسٹرکٹ جج نے سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھنے کے بعد انتظامیہ نے مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی کی۔ اس کے ساتھ مسجد کیس میں عائد 6 کروڑ 42 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ جس کے بعد انتظامیہ اور پولیس نے پورے ضلع میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ جیسی صورتحال تھی۔
مذہبی شہر دیوبند میں سیکورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا اور خاص طور پر دارالعلوم علاقہ سمیت شہر کے حساس علاقوں میں پولیس کی تعیناتی بڑھا دی گئی۔ اہم سڑکوں، چوراہوں اور حساس مقامات پر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے دن بھر بحث و مباحثہ کا بازار گرم رہا۔
دیوبندکے سابق ایم ایل اے معاویہ علی کو گھر میں نظر بند کرنے کے لیے مقامی اہلکار پولیس کے ساتھ ہفتہ کی صبح تقریباً 5 بجے محلہ دیوان میں واقع ان کی رہائش گاہ پر پہنچے اور گھر کو اطراف سے گھیر لیا۔ گھر کے اندر موجود خواتین نے جب انہیں بتایا کہ معاویہ علی گھر پر نہیں ہیں تو پولیس نے ان کے گھر کے باہر ڈیرے ڈال لیے۔ سابق ایم ایل اے کے گھر کے باہر پولیس دن بھر تعینات رہی۔
uttar pradesh
طلبہ یونین سے اے ایم یو کورٹ تک کے انتخابات کا مطالبہ، اموٹا کا دھرنا
(پی این این)
علی گڑھ:ملک بھر میں یومِ اساتذہ منائے جانے کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن (اموٹا) نے یونیورسٹی میں مختلف جمہوری اداروں کے انتخابات کرانے اور اساتذہ کے دیگر مطالبات کو لے کر ایک روزہ دھرنا دیا۔ اساتذہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل، اے ایم یو کورٹ اور طلبہ یونین کے انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں۔
اموٹا کی جانب سے اسٹاف کلب میں منعقد ایک روزہ دھرنے میں اساتذہ نے یونیورسٹی کے اندر جمہوری عمل کی بحالی پر زور دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے مختلف جمہوری اداروں کے انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ اور طلبہ کی جمہوری شمولیت متاثر ہو رہی ہے۔اموٹا کے صدر پروفیسر طفیل احمد نے کہا کہ یونیورسٹی میں جمہوری عمل کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد یونیورسٹی کے مختلف طبقات کو نمائندگی فراہم کرنے اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔
اموٹا کے سکریٹری ڈاکٹر اشرف متین نے کہا کہ ان کی تمام مانگیں قانون کے دائرے میں ہیں اور وہ کسی غیر قانونی مطالبے کے لیے دھرنا نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی میں جمہوری عمل کمزور ہو رہا ہے اور مختلف اداروں کے انتخابات مسلسل ملتوی کیے جا رہے ہیں۔
اساتذہ نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل اور کورٹ جیسے اہم اداروں کے انتخابات طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔ ان کے مطابق اے ایم یو میں طلبہ یونین کے انتخابات بھی 2018 سے نہیں ہوئے ہیں۔ اسی طرح اکیڈمک کونسل کے انتخابات 2020 سے اور اے ایم یو کورٹ کے انتخابات بھی 2018 سے زیر التوا ہیں، جبکہ کورٹ کی متعدد نشستیں خالی ہیں۔مظاہرین نے کہا کہ جمہوری اداروں کو فعال کیے بغیر یونیورسٹی کے مسائل کا مؤثر حل ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ اور طلبہ کی جائز آواز کو سنا جائے اور تمام زیر التوا انتخابات کا جلد اعلان کیا جائے۔اموٹا کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے ان کی بات سنی ہوتی تو آج دھرنا دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ اور دیگر متعلقہ مسائل کا جلد از جلد حل نکالا جائے۔
دھرنے میں سابق ایگزیکٹو کونسل رکن پروفیسر شمیم احمد، پروفیسر معین الدین، پروفیسر عبید صدیقی، مصور علی اور مراد خان سمیت کئی سینئر اساتذہ موجود رہے۔
اس کے علاوہ سابق اموٹا سکریٹری پروفیسر آفتاب عالم، ڈاکٹر نسیم احمد، ڈاکٹر عسکر حسین، ڈاکٹر محمد طارق، ڈاکٹر عشات محمد خان، ڈاکٹر افتخار احمد، ڈاکٹر دیوان اسرار خان، ڈاکٹر محمد ارشد باری، ڈاکٹر عابد ہادی، ڈاکٹر عبدالرحمن، ڈاکٹر صبیحہ تبسم، ڈاکٹر مدثر علی شاہ، ڈاکٹر طارق عثمانی، ڈاکٹر نفیس احمد، ڈاکٹر محمد شارق، ڈاکٹر شفیق اللہ، ڈاکٹر اسلم خان، ڈاکٹر محمد عاصم اور ڈاکٹر بلال تفسیر سمیت دیگر اساتذہ بھی دھرنے میں شریک ہوئے۔
دھرنے میں شریک اساتذہ نے کہا کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ نے جلد ہی ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا تو اموٹا دوبارہ اجلاس منعقد کرکے آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گی۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل بھی اے ایم یو کے طلبہ نے یونین ہال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے علاوہ ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل اور کورٹ کے انتخابات کرانے کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے۔
uttar pradesh
پبلک گرلز انٹر کالج میں یوم اساتذہ پر شاندار پروگرام منعقد ,’طالب علموں کی شخصیت سازی اور کامیابیوں میں اساتذہ ادا کرتے ہیںاہم کردار‘
(پی این این)
دیوبند:دیوبند کے قدیم عصری تعلیم کے ادارہ پبلک گرلز انٹر کالج میں یوم اساتذہ کے موقع پر ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔اس پروگرام میں کالج کی طالبات نے نہایت جوش وخروش کے ساتھ شرکت کی اوراپنی ٹیچرز کے تئیں عزت واحترام پیش کیا ۔طالبات نے نغمات ،گیتوں نظموں ،غزلوں تقاریر اور دیگر دلچسپ پروگرام پیش کرکے اساتذہ کی خدمت اور ان کی محنت وجدوجہد کی تعریف کی ۔
عیدگاہ روڑ پر واقع انٹر کالج کے احاطہ میں منعقد ہ پروگرام میں طالبات نے ترانہ کے ساتھ کیا ۔بعدازاں رحمت ،زویا ،لائبہ ،سائرہ اور نبیہ نے مختلف دلکش پروگرام پیش کئے ۔پروگرام کے دوران طالبات نے اپنی ٹیچرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی رہنمائی اورتعلیمی خدمات کے لئے شکریہ ادا کیا ۔اس موقع پر کالج پرنسپل صباء حسیب صدیقی نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں ٹیچرز کی بڑی اہمیت اور وقار وعظمت ہے طالب علموں کی شخصیت سازی اور ان کی کامیابیوں میں اساتذہ کا بنیادی کردار ہوتا ہے ،انہوں نے کہا کہ استاذ محض اپنے شاگردوں کو تعلیم ہی سے آراستہ نہیں کرتا بلکہ طالب علموں کو صحیح رہنمائی کے لئے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
انہوں نے طالبات کو شاندار پروگرام پیش کرنے پر مبارکباد دی اور اپنی زندگی میں بہترین کامیابی حاصل کرنے کے لئے ٹپس بھی بتائے ۔کالج کی ایجوکیشن انچارج شبانہ صفوان نے بھی طالبات سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔انہوں نے طالبات سے کہا کہ وہ اپنی ٹیچرز کے عزت واحترام کا ہمیشہ خیال رکھیں ۔اس کے علاوہ انہوں نے یوم اساتذہ کی تاریخ اور اہمیت بھی بیان کی ۔
علاوہ ازیں شبانہ ذکی ،شاکرہ ،روبینہ شہزاد ،روبی ،عرشی ،فیبینا ،ندا ،شاہانہ ،زیبا ناز اور شاہین نے بھی طالبات سے خطاب کیا اور طالبات کو اچھے اخلاق اپنانے کا مشورہ دیا ۔پروگرام کی نظامت زیبا ناہید نے کیا ۔اس دوران ادارہ کی طالبات اور اسٹاف موجود رہا ۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
