Connect with us

uttar pradesh

سماجوادی پارٹی ضلع بجنور دفتر میں فکری نشست کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
بجنور:بجنور سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی ہدایت پر ویرانگنا رانی اونتی بائی لودھی جی کی جینتی کے موقع پر سماجوادی پارٹی ضلع بجنور دفتر میں فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت ضلع صدر ہنی فیصل نے کی جبکہ نظامت ضلع دفتر انچارج اخلاق پپو نے کی۔
ضلع صدر ہنی فیصل نے کہا کہ ویرانگنا رانی اونتی بائی لودھی نے انگریز حکومت کے خلاف ناقابل تسخیر جرات اور بہادری کے ساتھ جدوجہد کرتے ہوئے ملک کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ ان کی قربانی، جرات، خودداری اور وطن پرستی ہم سب کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ویرانگنا رانی اونتی بائی لودھی نے مشکل حالات میں بھی اپنی خودداری اور مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے انگریزوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ان کی زندگی ہمیں ناانصافی اور ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے اور ملک و سماج کے تئیں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ترغیب دیتی ہے۔ضلع صدر نے کہا کہ سماجوادی پارٹی مہا پرشوں اور ویرانگناؤں کی جدوجہد اور افکار کو عوام تک پہنچانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ ویرانگنا رانی اونتی بائی لودھی جی کی قربانی ملک کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں درج رہے گی۔
اس موقع پر موجود رہے: مدن سینی، ست پال سنگھ، پربھا چودھری، محمود قصار، بی کے کشیپ، منوج راجپوت، پنکج بشنوئی ایڈو، سیما، سلیم، نمن پردھان، شیو کمار گوسوامی، رامندر یادو، پرمود پردھان، وقار رائن، دلشاد انصاری، احمد خضر خان سمیت سماجوادی پارٹی کے عہدیدار اور کارکنان۔
پروگرام میں موجود تمام عہدیداروں اور کارکنان نے ویرانگنا رانی اونتی بائی لودھی جی کی تصویر پر پھول چڑھا کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اصولوں اور جدوجہد سے سبق لینے کا عہد کیا۔

uttar pradesh

دارالعلوم دیوبند کا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل، ہر طرف پولیس تعینات،سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھنے کے بعد انتظامیہ نے کی مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی

Published

on

(پی این این)
دیوبند: انتظامیہ کی جانب سے سہارنپور کلکٹریٹ کمپلیکس میں واقع مسجد کو بلڈوز کرنے کے بعد ضلع دن بھر ہائی الرٹ پر رہا۔ مذہبی شہر دیوبند میں خاص طور پر دارالعلوم کا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا۔ دن بھر بحث و مباحثہ جاری رہا، ہر کونے پر پولیس تعینات تھی۔
ہفتہ کی صبح ڈسٹرکٹ جج نے سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھنے کے بعد انتظامیہ نے مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی کی۔ اس کے ساتھ مسجد کیس میں عائد 6 کروڑ 42 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ جس کے بعد انتظامیہ اور پولیس نے پورے ضلع میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ جیسی صورتحال تھی۔
مذہبی شہر دیوبند میں سیکورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا اور خاص طور پر دارالعلوم علاقہ سمیت شہر کے حساس علاقوں میں پولیس کی تعیناتی بڑھا دی گئی۔ اہم سڑکوں، چوراہوں اور حساس مقامات پر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے دن بھر بحث و مباحثہ کا بازار گرم رہا۔
دیوبندکے سابق ایم ایل اے معاویہ علی کو گھر میں نظر بند کرنے کے لیے مقامی اہلکار پولیس کے ساتھ ہفتہ کی صبح تقریباً 5 بجے محلہ دیوان میں واقع ان کی رہائش گاہ پر پہنچے اور گھر کو اطراف سے گھیر لیا۔ گھر کے اندر موجود خواتین نے جب انہیں بتایا کہ معاویہ علی گھر پر نہیں ہیں تو پولیس نے ان کے گھر کے باہر ڈیرے ڈال لیے۔ سابق ایم ایل اے کے گھر کے باہر پولیس دن بھر تعینات رہی۔

Continue Reading

uttar pradesh

طلبہ یونین سے اے ایم یو کورٹ تک کے انتخابات کا مطالبہ، اموٹا کا دھرنا

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:ملک بھر میں یومِ اساتذہ منائے جانے کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن (اموٹا) نے یونیورسٹی میں مختلف جمہوری اداروں کے انتخابات کرانے اور اساتذہ کے دیگر مطالبات کو لے کر ایک روزہ دھرنا دیا۔ اساتذہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل، اے ایم یو کورٹ اور طلبہ یونین کے انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں۔
اموٹا کی جانب سے اسٹاف کلب میں منعقد ایک روزہ دھرنے میں اساتذہ نے یونیورسٹی کے اندر جمہوری عمل کی بحالی پر زور دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے مختلف جمہوری اداروں کے انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ اور طلبہ کی جمہوری شمولیت متاثر ہو رہی ہے۔اموٹا کے صدر پروفیسر طفیل احمد نے کہا کہ یونیورسٹی میں جمہوری عمل کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد یونیورسٹی کے مختلف طبقات کو نمائندگی فراہم کرنے اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔
اموٹا کے سکریٹری ڈاکٹر اشرف متین نے کہا کہ ان کی تمام مانگیں قانون کے دائرے میں ہیں اور وہ کسی غیر قانونی مطالبے کے لیے دھرنا نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی میں جمہوری عمل کمزور ہو رہا ہے اور مختلف اداروں کے انتخابات مسلسل ملتوی کیے جا رہے ہیں۔
اساتذہ نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل اور کورٹ جیسے اہم اداروں کے انتخابات طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔ ان کے مطابق اے ایم یو میں طلبہ یونین کے انتخابات بھی 2018 سے نہیں ہوئے ہیں۔ اسی طرح اکیڈمک کونسل کے انتخابات 2020 سے اور اے ایم یو کورٹ کے انتخابات بھی 2018 سے زیر التوا ہیں، جبکہ کورٹ کی متعدد نشستیں خالی ہیں۔مظاہرین نے کہا کہ جمہوری اداروں کو فعال کیے بغیر یونیورسٹی کے مسائل کا مؤثر حل ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ اور طلبہ کی جائز آواز کو سنا جائے اور تمام زیر التوا انتخابات کا جلد اعلان کیا جائے۔اموٹا کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے ان کی بات سنی ہوتی تو آج دھرنا دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ اور دیگر متعلقہ مسائل کا جلد از جلد حل نکالا جائے۔
دھرنے میں سابق ایگزیکٹو کونسل رکن پروفیسر شمیم احمد، پروفیسر معین الدین، پروفیسر عبید صدیقی، مصور علی اور مراد خان سمیت کئی سینئر اساتذہ موجود رہے۔
اس کے علاوہ سابق اموٹا سکریٹری پروفیسر آفتاب عالم، ڈاکٹر نسیم احمد، ڈاکٹر عسکر حسین، ڈاکٹر محمد طارق، ڈاکٹر عشات محمد خان، ڈاکٹر افتخار احمد، ڈاکٹر دیوان اسرار خان، ڈاکٹر محمد ارشد باری، ڈاکٹر عابد ہادی، ڈاکٹر عبدالرحمن، ڈاکٹر صبیحہ تبسم، ڈاکٹر مدثر علی شاہ، ڈاکٹر طارق عثمانی، ڈاکٹر نفیس احمد، ڈاکٹر محمد شارق، ڈاکٹر شفیق اللہ، ڈاکٹر اسلم خان، ڈاکٹر محمد عاصم اور ڈاکٹر بلال تفسیر سمیت دیگر اساتذہ بھی دھرنے میں شریک ہوئے۔
دھرنے میں شریک اساتذہ نے کہا کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ نے جلد ہی ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا تو اموٹا دوبارہ اجلاس منعقد کرکے آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گی۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل بھی اے ایم یو کے طلبہ نے یونین ہال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے علاوہ ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل اور کورٹ کے انتخابات کرانے کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے۔

 

 

Continue Reading

uttar pradesh

پبلک گرلز انٹر کالج میں یوم اساتذہ پر شاندار پروگرام منعقد ,’طالب علموں کی شخصیت سازی اور کامیابیوں میں اساتذہ ادا کرتے ہیںاہم کردار‘

Published

on

(پی این این)
دیوبند:دیوبند کے قدیم عصری تعلیم کے ادارہ پبلک گرلز انٹر کالج میں یوم اساتذہ کے موقع پر ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔اس پروگرام میں کالج کی طالبات نے نہایت جوش وخروش کے ساتھ شرکت کی اوراپنی ٹیچرز کے تئیں عزت واحترام پیش کیا ۔طالبات نے نغمات ،گیتوں نظموں ،غزلوں تقاریر اور دیگر دلچسپ پروگرام پیش کرکے اساتذہ کی خدمت اور ان کی محنت وجدوجہد کی تعریف کی ۔
عیدگاہ روڑ پر واقع انٹر کالج کے احاطہ میں منعقد ہ پروگرام میں طالبات نے ترانہ کے ساتھ کیا ۔بعدازاں رحمت ،زویا ،لائبہ ،سائرہ اور نبیہ نے مختلف دلکش پروگرام پیش کئے ۔پروگرام کے دوران طالبات نے اپنی ٹیچرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی رہنمائی اورتعلیمی خدمات کے لئے شکریہ ادا کیا ۔اس موقع پر کالج پرنسپل صباء حسیب صدیقی نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں ٹیچرز کی بڑی اہمیت اور وقار وعظمت ہے طالب علموں کی شخصیت سازی اور ان کی کامیابیوں میں اساتذہ کا بنیادی کردار ہوتا ہے ،انہوں نے کہا کہ استاذ محض اپنے شاگردوں کو تعلیم ہی سے آراستہ نہیں کرتا بلکہ طالب علموں کو صحیح رہنمائی کے لئے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
انہوں نے طالبات کو شاندار پروگرام پیش کرنے پر مبارکباد دی اور اپنی زندگی میں بہترین کامیابی حاصل کرنے کے لئے ٹپس بھی بتائے ۔کالج کی ایجوکیشن انچارج شبانہ صفوان نے بھی طالبات سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔انہوں نے طالبات سے کہا کہ وہ اپنی ٹیچرز کے عزت واحترام کا ہمیشہ خیال رکھیں ۔اس کے علاوہ انہوں نے یوم اساتذہ کی تاریخ اور اہمیت بھی بیان کی ۔
علاوہ ازیں شبانہ ذکی ،شاکرہ ،روبینہ شہزاد ،روبی ،عرشی ،فیبینا ،ندا ،شاہانہ ،زیبا ناز اور شاہین نے بھی طالبات سے خطاب کیا اور طالبات کو اچھے اخلاق اپنانے کا مشورہ دیا ۔پروگرام کی نظامت زیبا ناہید نے کیا ۔اس دوران ادارہ کی طالبات اور اسٹاف موجود رہا ۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network