uttar pradesh
جانی فوسٹر وسیع تخلیقی کینوس کے ایک معتبرشاعر : پروفیسر گلریز،اے ایم یو میں’’در ودیوار سے پہلے‘‘کی تقریب رسم اجرا کا انعقاد
(پی این این)
علی گڑھ: آج یہاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں معروف شاعر جانی فوسٹر کے شعری مجموعہ” در و دیوار سے پہلے” کی رسم اجرا پروفیسر محمد گلریز، سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور پروفیسر محمد رضوان خان ،ڈین فیکلٹی آف آرٹس، اے ایم یوکے ہاتھوں عمل میں آئی۔ پروگرام کاآغاز جناب ساجد حسن رحمانی کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تقریب رسم رونمائی کی صدارت ڈین فیکلٹی آف آرٹس نے کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر محمد گلریز نے شرکت فرمائی۔ جبکہ پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری اور ڈاکٹر مشتاق صدف نے شعری مجموعے پر سیر حاصل گفتگو کی۔
پروفیسر محمد گلریز نے کتاب کے مصنف جانی فوسٹر کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں جانی فوسٹر کو دشینت کمار جیسے شعرا کے زمرے میں شمار کرتا ہوں۔ ان کی شاعری ہمارے دلوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔وہ سوشلسٹ شاعر ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ وہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے یہاں آسان لب و لہجے میں گہری شاعری دیکھنے کو ملتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جانی فوسٹر وسیع تخلیقی کینوس کے ایک معتبر شاعر ہیں۔ان کی شاعری میں متانت، سنجیدگی اور سادگی ہمیں سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔نیزانہوں نے ہندوستانی تہذیب اور اخلاقی قدروں کی پاسداری بڑی خوش اسلوبی سے کی ہے۔اور یہ ان کی بڑی شناخت ہے۔پروفیسر محمد رضوان خان نے کہا کہ جانی فوسٹر کے یہاں موضوعات کی رنگارنگی دیکھنے کو ملتی ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے یہاں نئے شعری وجدان کی تشکیل بڑی خوبصورتی سے کی گئی ہے۔پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری نے کہا کہ سماج کے بدلتے رویوں اور تیور پر ان کی شاعری طنز کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ان کی نظموں میں صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی بھی دکھائی دیتی ہے۔
ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ جانی فوسٹر کی غزلیں ہمیں ایک نئی شعری دنیا سے متعارف کراتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حسن و عشق کے پاکیزہ خیالات، حقائق میں تیکھاپن، جذبات میں شدت ،زندگی کے اسرار و رموز کی عقدہ کشائی اور لہجے کی بے باکی سے ان کی غزلیہ شاعری روشن ہے۔واضح رہے کہ اس مجموعہ کا مقدمہ ڈاکٹر مشتاق صدف نے تحریر فرمایا ہے۔صاحب کتاب جانی فوسٹر نے اس موقع پر موجود اے ایم یو کے اساتذہ،طلبا و طالبات اور شہر علی گڑھ کی سرکردہ شخصیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علیگ برادری نے جس طرح میری حوصلہ افزائی کی ہے اس کا میں زندگی بھر قرضدار رہوں گا۔ انہوں نے سامعین کواپنے کلام سے بھی نوازا۔
uttar pradesh
سہارنپورمیں مسجد کا انہدامی معاملہ تشویشناک،آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ’گاندھی-امبیڈکر سماد یاترا‘ چوتھے دن پہنچی بجنور
(پی این این)
بجنور: ’’گاندھی-امبیڈکر سماد یاترا‘‘ کا پہلا مرحلہ جس کا علی گڑھ سے چل کر سہارنپور جانا ہے آج بجنور پہنچی۔بجنور کے ضلع کانگریس دفتر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے معزز شاہنواز عالم قومی سیکریٹری/ شریک انچارج بہار نے سچر کمیٹی پر تفصیل سے چرچہ کی۔ سابق وزیر اعظم مرحوم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑی پہل رہی کہ مسلمانوں کی سماجی، سیاسی اور تعلیمی حالت کا جائزہ لیا گیا لیکن اس پر مکمل عمل نہ ہو پانے پر تشویش ظاہر کی۔
جلسے میں موجود جے این یو طالب علم ہاشم علی نے آسام میں حد بندی کر کے مسلمانوں کی نمائندگی کو کم کرنے کی سازش کی مذمت کی اور ملک بھر میں بھی آسام ماڈل پر حد بندی کرنے کی مودی حکومت کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے اپوزیشن پارٹی کے رہنماؤں کو ہوشیاری سے کام لینے کی اپیل کی۔جلسے میں موجود بجنور شہر کانگریس کمیٹی کے صدر ہمایوں بیگ نے ’گاندھی- امبیڈکر سماد یاترا‘ جیسی کوشش کے لیے’ہم بھارت کے لوگ‘ تنظیم کی تعریف کی۔ انہوں نے مکالمے کے تمام مسائل پر اتفاق کیا اور حد بندی جیسے اہم مسئلے پر کھل کر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جلسے کی صدارت بجنور شہر کانگریس کمیٹی کے صدر ہمایوں بیگ جی نے کی اور نظامت پی سی سی ممبر نزاکت علوی نے کی۔ اتر پردیش صوبائی ترجمان تمجید احمد جی نے حکومت کی آئین مخالف پالیسیوں کی اسٹیج سے مخالفت کی۔ حال ہی میں سہارنپور کی مسجد کے انہدام پر گہری تشویش ظاہر کی اور اپوزیشن پارٹیوں سے اس مسئلے کو پرزور طریقے سے اٹھانے کی مانگ کی، یاترا میں معزز شاہنواز عالم قومی سیکریٹری/ شریک انچارج بہار، صوبائی ترجمان جناب تمجید احمد، محمد کیف، محمد جشم، محمد عاصم وغیرہ اہم طور پر شامل رہے۔ضلع کانگریس دفتر پر ہوئی میٹنگ میں محترم ہمایوں بیگ بجنور شہر صدر، پی سی سی ممبر نزاکت علوی، ضلع نائب صدر ونود تومر ایڈووکیٹ، ضلع نائب صدر وکرم سنگھ، حاجی ناصر چودھری، رفاقت چودھری، محمد حنیف، سید حسنین زیدی، مینو گوئل، وسیم اکرم، عبدالصمد آزاد، محمد رفعت، یوسف انصاری، قمر النساء، چودھری شورویر سنگھ، چتون شرما، انوپ سنگھ، انل تیواری، قاضی عاطف علی، حاجی نسیم انصاری، تارا، ابراہیم، رقیب عالم وغیرہ کانگریسی موجود رہے۔
uttar pradesh
دارالعلوم فاروقیہ میں موطا امام مالک کے پہلے سبق کی مجلس، مولانا مجیب اللہ گونڈوی نے درس کاکرایاباوقار آغاز
(پی این این)
دیوبند:معروف دینی ادارہ دارالعلوم فاروقیہ دیوبند میں مدرسہ کے بانی و مہتمم مولانا نور الہدیٰ قاسمی بستوی کی خواہش پر موطا امام مالک کے پہلے سبق کی مناسبت سے ایک علمی مجلس کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس کی صدارت دارالعلوم دیوبند کے معروف استاذ حدیث مولانا مجیب اللہ گونڈوی نے کی، جنہوں نے موطا امام مالک کا پہلا درس دے کر کتاب کی تدریس کا باقاعدہ آغاز کرایا۔ درس کے دوران مولانا مجیب اللہ نے حدیث پاک کی اہمیت، طلبہ کے لیے حصول علم کے آداب اور امام مالک ؒکی علمی عظمت و عشق رسولؐ پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے موطا امام مالک کی وجہ تسمیہ کے حوالے سے محدثین کے مختلف اقوال بیان کرتے ہوئے اس موضوع پر مفید علمی گفتگو کی۔ انہوں نے طلبہ کو ادارے، اس کے ذمہ داران اور اساتذہ کے ادب و احترام کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ علم کا سلسلہ واسطہ در واسطہ آگے منتقل ہوتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح بجلی کا بلب کھمبوں اور تاروں کے ذریعے روشن ہوتا ہے، اسی طرح طلبہ بھی اپنے اساتذہ کے ذریعے اپنے مستقبل کو روشن کرتے ہیں۔ اس موقع پر ادارہ کے شیخ الحدیث مولانا ابو شبلی، مفتی افتخار کیرانوی، حذیفہ نور، مفتی رشید احمد، مفتی محمد احمد، مفتی اطہر، مفتی ایوب، مولوی عبدالرحمن، قاری احباب سمیت ادارہ کے اساتذہ اور جملہ طلبہ موجود رہے۔ مجلس کے اختتام پر مولانا مجیب اللہ نے دعا کرائی، جس میں ادارہ کی ترقی، اساتذہ و طلبہ کے بہتر مستقبل اور پوری امت کی بھلائی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
uttar pradesh
اعظم خان کیساتھ غلط سلوک کررہی ہے یوپی حکومت،خودبی جے پی رہنماؤں کی ہیں لکھنؤ میں سب سے زیادہ غیر قانونی عمارتیں :اکھلیش یادو
(پی این این)
لکھنؤ:سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے جمعرات کو لکھنؤ میں پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی جے پی حکومت پر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ہمارے پروگرام منعقد نہیں ہونے دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلند شہر میں سماج وادی پارٹی کا ساون کے دوران ایک پروگرام ہونا تھا۔ حکام نے پروگرام کے لیے میدان کی اجازت دینے کی کئی بار یقین دہانی کرائی، بعد میں ساون کا مہینہ ہونے کی وجہ سے پروگرام کی تاریخ آگے بڑھانے کا مشورہ دیا۔ سماج وادی پارٹی نے پروگرام آگے بڑھا دیا، لیکن اس کے باوجود اجازت نہیں دی گئی۔ کہا گیا کہ پولیس لائن میں پانی بھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہیلی پیڈ پر ہیلی کاپٹر نہیں اتر سکے گا۔اکھلیش یادو نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سوچا شاید کالی ندی میں سیلاب تو نہیں آگیا ہے۔ اس کے بعد اکھلیش نے پولیس لائن کی ایک ویڈیو دکھائی، جس میں کہیں بھی پانی نظر نہیں آ رہا تھا۔ اکھلیش نے کہا کہ آخر حکومت ہمارے پروگرام سے پریشان کیوں ہے؟ ہم نے اس سے خراب حکومت پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
دراصل بلند شہر میں 11 ستمبر(آج) کو سماج وادی پارٹی کا پروگرام مقرر تھا۔ ایس پی صدر نے کہا کہ جہاں ہیلی کاپٹر اترنا تھا، وہاں ہیلی پیڈ پر دور دور تک پانی جمع نہیں ہے۔ صرف زبردستی سیمنٹ، گارا اور پیور بلاکس دکھا کر، حکومت کی خفیہ ہدایت پر انتظامیہ ہمارے 11 ستمبر کے پروگرام کو منسوخ کرنے کا بہانہ تلاش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے عہدیداران کی موجودگی میں غیر جانب دار ماہرین سے جانچ کراکر حقیقت سامنے لائی جائے۔ اگر ہم سڑک کے راستے آئیں گے تو کیا ایکسپریس وے، ہائی وے یا سڑکوں کی خراب حالت کا بہانہ بھی بنایا جائے گا؟ کیونکہ یہ تمام سڑکیں واقعی آمدورفت کے قابل نہیں ہیں۔عوام پوچھ رہی ہے کہ ہیلی پیڈ اور موسم صرف اپوزیشن کے لیے ہی کیوں خراب ہوتا ہے؟
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ ہم ضلع وار انتخابی منشور تیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریاست کے لیے تو انتخابی منشور تیار کریں گے ہی، ساتھ ہی ضلع وار منشور بھی بنائیں گے، جس میں ہر ضلع کے مسائل کو ترجیح دی جائے گی۔بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درست خبریں چلانے پر صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور انہیں اسکولوں میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جانے والی ہے اور سماج وادی پارٹی اسے اقتدار سے ہٹانے کا عزم کر رہی ہے۔
اکھلیش نے اعظم خان کے خلاف کارروائی کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے ساتھ غلط سلوک کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لکھنؤ میں سب سے زیادہ غیر قانونی عمارتیں بی جے پی رہنماؤں کی ہیں۔ انہوں نے ریزرویشن اور مدارس کے معاملے پر بھی بی جے پی کو گھیرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے معاملے پر حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، اسی لیے وہ دوسرے مسائل کو سامنے لا رہی ہے۔
جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے اکھلیش نے جھانسی کے واقعے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص کے پاس اپنی اہلیہ کی لاش لے جانے اور آخری رسومات ادا کرنے تک کے پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی جی ڈی پی ہے؟ اکھلیش نے الزام لگایا کہ اپنے خاص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں اضافہ دکھایا جا رہا ہے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
