Connect with us

Bihar

مرکزی دفتر امارت شرعیہ میں یوم آزادی کے موقع سے ناظم امارت شرعیہ نے کی پرچم کشائی

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف، پٹنہ: ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر امارتِ شرعیہ، بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگا ل کے مرکزی دفترپھلواری شریف پٹنہ میں 15 اگست کوہر سال کی طرح امسال بھی ِ پرچم کشائی کی تقریب ہوئی۔
امارتِ شرعیہ بہار ، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی نے اپنے ہاتھوںسے قومی پرچم لہرایا ، انہوں نے پرچم کشائی تقریب کے موقع پر مجاہدِ آزادی کی سرفروشانہ قربانیوں کا تذکرہ کیا کہ ملک کو انگریزوں کے غلبہ و تسلط سے آزاد کرانے میں مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دیں، علماء کرام نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، ان بزرگوں کی مجاہدانہ کوششوں کے نتیجے میں ہمارا ملک 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔اس موقع پر قاضی محمد انظار عالم قاسمی ، قاضیِ شریعت مرکزی دارلقضاء امارت شرعیہ نے ملک کے امن و سلامتی، اتحاد و یکجہتی اور وطن عزیز کی ترقی کے لیے دعائیں کی۔
اس تقریب کے موقع پر امارتِ شرعیہ کےمعاون قاضی، مولانا مجیب الرحمٰن بھاگل پوری نے قومی ترانہ پیش کیا،تقریب میں مولانا قاضی وصی احمد قاسمی نائب قاضیِ شریعت امارت شرعیہ ، مفتی احتکام الحق صاحب نائب مفتی امارت شرعیہ ، مولانا رضوان احمدندوی معاون ناظم امارتِ شرعیہ ،عرفان الحق انچارج بیت المال ، مولانا ارشد رحمانی آفس سیکریٹری، حاجی احسان الحق صاحب پروجیکٹ مینیجر امارتِ شرعیہ ، ہارون رشید صاحب ایڈوکیٹ امارتِ شرعیہ،خبیب صاحب بیت المال ، امتیاز احمد صاحب نائب انچارج، بیت المال، مولانا مطیع الرحمن صاحب، مولانا عبداللہ جاوید صاحب ، مولانا محمد منہاج عالم ندوی صاحب، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب، حامد حسین صاحب، مولانا طارق رحمانی صاحب، سیدجمال ( ننھو) سمیت امارتِ شرعیہ کے دیگر ذمہ داران و کارکنان، تربیت قضاء وافتاء کے طلبہ بڑی تعداد میںموجود تھے،آخرمیں تقریب نہایت سادگی، وقار اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

دربھنگہ:وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا کیا دورہ

Published

on

بھاگلپور:بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ہفتہ کے روز نوگچھیا علاقے کے راگھوپور میں واقع کوجی کورئیا بانڈھ کا دورہ کر کے سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے جاری راحت اور بچاؤ کے کاموں کا زمینی معائنہ بھی کیا۔
وزیر اعلیٰ کے بھاگلپور ہوائی اڈے پہنچنے پر جنتا دل (یونائیٹڈ) کے ضلعی صدر وویکانند گپتا کی قیادت میں پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر ریاست کے توانائی وزیر شیلیش کمار عرف بولو منڈل، رکن پارلیمنٹ اجے منڈل اور رکن اسمبلی پروفیسر للت نارائن منڈل بھی موجود تھے۔ جے ڈی یو کارکنان کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو انگ وسترا اور گلدستہ پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔
اس موقع پر جے ڈی یو ضلعی صدر وویکانند گپتا نے کہا کہ ریاستی حکومت سیلاب متاثرین کی حفاظت، راحت اور بچاؤ کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں تک بروقت ضروری امداد اور سہولیات پہنچائی جائیں۔
جے ڈی یو کے سینئر لیڈر سڈو سائیں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں تک ترجیحی بنیاد پر راحت پہنچانے کا کام جاری ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت اور انتظامیہ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
وزیر اعلیٰ کے استقبال کے موقع پر کہکشاں پروین، سینئر لیڈر سڈو سائیں، سینئر لیڈر اشوک کمار آلوک، شبانہ داؤد، سنجیو چندرونشی، وبھوتی گوسوامی، شیکھر پانڈے، پردیپ کشواہا، شیلیندر تومر، انوج سنگھ، شعبان خان اور اوچت لال سنگھ سمیت جے ڈی یو کے بڑی تعداد میں عہدیداران، کارکنان اور حامی موجود رہے۔

Continue Reading

Bihar

بہار میںتیزی سے پاؤں پھیلا رہا ہے ٹائیفائڈ ،ریاست بھر میں ایک ماہ کے دوران 4 ہزارسے زائد مریض سامنے آنے سے محکمۂ صحت میں ہلچل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں ٹائیفائڈ کا قہر بڑھتا جا رہا ہے۔ اگست کے مہینے میں سرکاری اسپتالوں میں جانچ کے دوران 4,102 مریضوں میں اس بیماری کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہیں ستمبر کے ابتدائی چار دنوں کے دوران مزید 250 افراد میں ٹائیفائڈ کی تشخیص ہوئی ہے۔
مظفرپور میں اگست کے دوران ٹائیفائڈ کے 161 مریض سامنے آئے، جبکہ یکم سے 3 ستمبر کے درمیان مزید 36 افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہوئی۔ ٹائیفائڈ کے شبہے کے پیش نظر اگست میں ریاست کے سرکاری اسپتالوں میں تقریباً 15 ہزار مریضوں کی جانچ کرائی گئی تھی۔ اس دوران صرف مظفرپور میں بھی 353 افراد کا ٹائیفائڈ ٹیسٹ کیا گیا۔
مظفرپور واقع ایس کے ایم سی ایچ کے شعبۂ طب کے سربراہ ڈاکٹر امت کمار نے بتایا کہ ٹائیفائڈ کے مریض مسلسل اسپتال پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر روز ٹائیفائڈ کی علامات کے حامل 20 سے 30 مریض ایس کے ایم سی ایچ آ رہے ہیں، جن کا جانچ رپورٹ کی بنیاد پر علاج کیا جا رہا ہے۔سرکاری اسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی اسپتالوں کی او پی ڈی میں بھی ٹائیفائڈ کی علامات والے مریض بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔
سرکاری اسپتالوں کے علاوہ نجی لیبارٹریوں میں بھی روزانہ اوسطاً تقریباً 100 مریضوں میں ٹائیفائڈ کی تصدیق ہو رہی ہے۔ بیماری کے علاج کے اخراجات کے باعث غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے مریضوں کی مالی حالت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
جورن چھپرا واقع ایک نجی لیبارٹری کے منتظم نے بتایا کہ ہر روز بڑی تعداد میں مریض وائیڈل ٹیسٹ کرانے کے لیے پہنچ رہے ہیں اور ان میں سے بیشتر میں ٹائیفائڈ کی تصدیق ہو رہی ہے۔ شہر کے ہر علاقے سے مریض وائیڈل جانچ کے لیے نمونے دینے آ رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹائیفائڈ کس تیزی کے ساتھ اپنے پاؤں پھیلا رہا ہے۔
ٹائیفائڈ کے علاج کے لیے مریضوں کو ہائی ڈوز اینٹی بایوٹک اور دیگر ادویات دینی پڑ رہی ہیں۔ ہائی ڈوز ادویات دینے کے باوجود ٹائیفائڈ کو ٹھیک ہونے میں 20 دن تک کا وقت لگ رہا ہے۔ اس کے بعد بھی مریضوں میں کافی کمزوری برقرار رہ رہی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وائرل بخار اور ٹائیفائڈ میں مبتلا ہونے کے بعد کئی مریضوں میں پلیٹ لیٹس کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔
بہار میں صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ وزیرِ صحت نشانت کمار نے دو روز قبل مظفرپور کے ایس کے ایم سی ایچ کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے 30 بستروں پر مشتمل آئی سی یو کا افتتاح کیا۔
انہوں نے ایس کے ایم سی ایچ احاطے میں واقع ہومی بھابھا کینسر ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر میں علاج کے انتظامات اور دستیاب سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ریاست میں گھر گھر جا کر لوگوں کی صحت کی جانچ کے لیے مہم بھی چلائی گئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے دو روز قبل بیداری رتھ کو روانہ کیا۔

 

Continue Reading

Bihar

مولانا امین احمد خان چترویدی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، امیرشریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے مولانا امین احمد خان کے انتقال پرکیادلی صدمے کا اظہار

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:بہار کے مشہور و معروف عالمِ دین اور مایہ ناز شیریں خطیب و مقرر حضرت مولانا امین احمد خان چترویدی طویل علالت کے بعد3/ستمبر 2026ءکو اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے، إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَيْہِ رَاجِعُونَ۔
ان کے وصال پر امارتِ شرعیہ ،بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مد ظلہ نے دلی صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا کہ مولانا اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، ان کا دینی اداروں، ملی جماعتوں اور خانقاہوں سے بڑا گہرا قلبی تعلق تھا، وہ ایک بلند پایہ خطیب بھی تھے، ان کی تقریریں شگفتگی اور چاشنی سے لبریز ہوتیں، اس کے ذریعے وہ اصلاحِ باطن بھی فرمایا کرتے تھے، آپ کا امارتِ شرعیہ اور خانقاہ رحمانی مونگیر سے عقیدت مندانہ تعلق بھی تھا، جس کو انہوں نے زندگی بھر سنبھال کر رکھا،ان کی وفات سے ایک بڑا خلا پیدا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ مولانا کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے۔
مولانا کے سانحۂ ارتحال پر نائب امیرشریعت امارتِ شرعیہ ،بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا محمدشمشاد رحمانی قاسمی نے کہا کہ مولانا کی زندگی تکلف و تصنع اور ظاہرداری سے پاک تھی، سادگی، زہدداری اور قناعت ان کی زندگی کا امتیازی وصف تھا، ان سے میری متعدد ملاقاتیں رہی ہیں، ان کے لہجے میں شائستگی اور مسکراہٹ میں دلکشی اور معنویت تھی، جس سے اپنائیت کا احساس ابھرتا تھا، اللہ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔
ناظم اعلی امارتِ شرعیہ ،بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی نے کہا کہ مولانا کا امارتِ شرعیہ اور یہاں کے اکابر سے بڑا گہرا تعلق تھا،یہی وجہ ہے کہ دورۂ وفد امارتِ شرعیہ میںآپ شریک ہوکر امارت شرعیہ کےپیغام کو لوگوں تک پہونچاتے ،یہ ان کے اخلاص و للہیت کا ثمرہ تھا، امارتِ شرعیہ کے سبھی اصحاب اس سانحے پر سوگوار ہیں اور اس غمناک حادثے پر اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں،حضرت مولانا کی پیدائش 1938ءمیں بیگوسرائے میں ہوئی، ابتدائی تعلیم مدرسہ بدر الاسلام میں پائی اور مظاہر العلوم سہارنپور سے فضیلت حاصل کی، پھر اصلاحی تحریکات سے وابستہ ہو گئے، عرصہ تک حاجی پور میں دعوتی کام انجام دیتے رہے اور اصلاح وتنظیم سے جڑے رہے، ایسی شخصیت کا اٹھ جاناایک علمی خسارہ ہے۔
قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ جناب مولانا محمدانظار عالم قاسمی نےکہاکہ مولانا مرحوم علاقہ اور بہار کے اکثر اصلاحِ معاشرہ کے جلسوں میں شرکت فرماتے، مدرسوں کی تعلیمی کانفرنسوں کو زینت بخشتے اور اردو میں تقریریں کرتے، سنسکرت زبان میں بھی اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کے دلائل پیش کرتے، جس سے لوگ بے حد متاثر ہوتے،ایسی جامع شخصیت کا اٹھ جانا ایک علمی خسارہ ہے،اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو شرفِ قبولیت بخشے۔
، قارئینِ کرام سے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network