تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
uttar pradesh

اے ایم یو کے شعبہ پلاسٹک سرجری کے زیر اہتمام منایا گیاعالمی پلاسٹک سرجری ویک

علی گڑھ:جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پلاسٹک سرجری نے عالمی یوم پلاسٹک سرجری کے موقع پر پلاسٹک سرجری ہفتہ منایا اور متعدد علمی و بیداری سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ اس کا مقصد پلاسٹک سرجری کے وسیع دائرہ کار کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور اس شعبہ میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کو نمایاں کرنا تھا۔
افتتاحی سیشن میں فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد اور جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال کے پرنسپل وسی ایم ایس پروفیسر انجم پرویز نے شرکت کی۔
شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے شعبہ پلاسٹک سرجری کے چیئرپرسن پروفیسر ایم ایف خرم نے کہا کہ پلاسٹک سرجری محض حسن افزائی تک محدود نہیں ہے بلکہ حادثاتی زخموں کی بحالی، برن کیئر، پیدائشی نقائص، سرطان کے بعد بحالی، ہاتھوں کی سرجری، مائیکرو سرجری اور دیرینہ زخموں کے علاج میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اکیڈمک پروگرام میں دہلی کے میٹرو ہاسپٹلس کی ڈاکٹر رچا کمار نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی اور پلاسٹک سرجری میں حالیہ پیش رفت پر ایک لیکچر دیا۔ انھوں نے فریکشنل سی او ٹو لیزر ٹکنالوجی پر عملی تربیتی ورکشاپ بھی منعقد کی، جس کے ذریعہ ریزیڈنٹس کو داغوں کے علاج اور حسن افزا بحالی کے سلسلے میں عملی تربیت فراہم کی گئی۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر سدرشن تومر نے پلاسٹک سرجری کی تاریخ پر خطبہ دیا اور ریکانسٹرکشن سرجری کے میدان میں آچاریہ سشروت کی خدمات کو اجاگر کیا۔ شعبہ کی ڈاکٹر آکانشا نے دیرینہ زخموں کے علاج پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ ڈاکٹر کنن نے داغوں کے علاج کے عصری طریقوں پر گفتگو کی۔
پروفیسر محمد خالد نے شعبہ کے علمی اقدامات کو سراہا اور فیکلٹی اراکین اور ریزیڈنٹس کو تحقیق اور جدید سرجری تکنیکوں میں اعلیٰ معیار کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے کی ترغیب دی۔ پروفیسر انجم پرویز نے علمی برتری، جدت طرازی اور مختلف شعبوں کے باہمی تعاون پر مبنی مریضوں کی نگہداشت کو فروغ دینے کے لیے شعبہ کی کاوشوں کی تعریف کی۔
سینئر پلاسٹک سرجن پروفیسر عمران احمد نے پلاسٹک سرجری کو ”تمام سُپر اسپیشلٹیزکی ماں“ قرار دیتے ہوئے اعضاء کو بچانے اور پیچیدہ بافتوں کی بحالی میں مائیکروویسکیولر سرجری کے انقلابی کردار کو اجاگر کیا۔
پروگرام کا اختتام ڈاکٹر سرفراز کے کلمات تشکر کے ساتھ ہوا، جبکہ ڈاکٹر کریتی شیکھر نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔