Connect with us

uttar pradesh

اے ایم یو کے شعبہ پلاسٹک سرجری کے زیر اہتمام منایا گیاعالمی پلاسٹک سرجری ویک

Published

on

علی گڑھ:جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پلاسٹک سرجری نے عالمی یوم پلاسٹک سرجری کے موقع پر پلاسٹک سرجری ہفتہ منایا اور متعدد علمی و بیداری سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ اس کا مقصد پلاسٹک سرجری کے وسیع دائرہ کار کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور اس شعبہ میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کو نمایاں کرنا تھا۔
افتتاحی سیشن میں فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد اور جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال کے پرنسپل وسی ایم ایس پروفیسر انجم پرویز نے شرکت کی۔
شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے شعبہ پلاسٹک سرجری کے چیئرپرسن پروفیسر ایم ایف خرم نے کہا کہ پلاسٹک سرجری محض حسن افزائی تک محدود نہیں ہے بلکہ حادثاتی زخموں کی بحالی، برن کیئر، پیدائشی نقائص، سرطان کے بعد بحالی، ہاتھوں کی سرجری، مائیکرو سرجری اور دیرینہ زخموں کے علاج میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اکیڈمک پروگرام میں دہلی کے میٹرو ہاسپٹلس کی ڈاکٹر رچا کمار نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی اور پلاسٹک سرجری میں حالیہ پیش رفت پر ایک لیکچر دیا۔ انھوں نے فریکشنل سی او ٹو لیزر ٹکنالوجی پر عملی تربیتی ورکشاپ بھی منعقد کی، جس کے ذریعہ ریزیڈنٹس کو داغوں کے علاج اور حسن افزا بحالی کے سلسلے میں عملی تربیت فراہم کی گئی۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر سدرشن تومر نے پلاسٹک سرجری کی تاریخ پر خطبہ دیا اور ریکانسٹرکشن سرجری کے میدان میں آچاریہ سشروت کی خدمات کو اجاگر کیا۔ شعبہ کی ڈاکٹر آکانشا نے دیرینہ زخموں کے علاج پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ ڈاکٹر کنن نے داغوں کے علاج کے عصری طریقوں پر گفتگو کی۔
پروفیسر محمد خالد نے شعبہ کے علمی اقدامات کو سراہا اور فیکلٹی اراکین اور ریزیڈنٹس کو تحقیق اور جدید سرجری تکنیکوں میں اعلیٰ معیار کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے کی ترغیب دی۔ پروفیسر انجم پرویز نے علمی برتری، جدت طرازی اور مختلف شعبوں کے باہمی تعاون پر مبنی مریضوں کی نگہداشت کو فروغ دینے کے لیے شعبہ کی کاوشوں کی تعریف کی۔
سینئر پلاسٹک سرجن پروفیسر عمران احمد نے پلاسٹک سرجری کو ”تمام سُپر اسپیشلٹیزکی ماں“ قرار دیتے ہوئے اعضاء کو بچانے اور پیچیدہ بافتوں کی بحالی میں مائیکروویسکیولر سرجری کے انقلابی کردار کو اجاگر کیا۔
پروگرام کا اختتام ڈاکٹر سرفراز کے کلمات تشکر کے ساتھ ہوا، جبکہ ڈاکٹر کریتی شیکھر نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

مسجد کی زمین پر مرغاگینگ کی جانب سے قبضہ کئے جانے پر لوگوں میں شدید ناراضگی

Published

on

دیوبند: دیوبند کے قریبی گائوں ہاشم پورہ میں مذہبی مقامات اور عوامی جائیدادوں واراضی پر غیر قانونی طریقوں سے قبضہ کرنے والے گروہ کے حوصلے اب اتنے بلند ہوچکے ہیں کہ انہوںنے مسجد کی زمین کو بھی نہیں بخشا ہے ۔ہاشم پورہ گائوں میں نام نہاد مرغاگینگ کے سرغنہ اور اس کے زمین مافیاء ساتھیوں کی جانب سے مسجد کی زمین کا فرضی اور غیر قانونی طریقہ سے بیع نامہ اپنے قریبی لوگوں کے نام کرانے کا سنگین اور چونکانے والا معاملہ سامنے آیا ہے ۔اس خلاصہ کے بعد پورے علاقہ میں کشیدگی اور زبردست ناراضگی دیکھی جارہی ہے ۔سرکاری دستاویزات ،نقل اور شجرہ کے مطابق جس زمین کا پرانا خسرہ نمبر 1885تھا جو اب چک بندی کے سروے کے بعد 3130/3930نمبر کے ساتھ درج ہے ؛لیکن اب اس زمین کو فرضی دستاویزات تیار کرکے قبضانہ کی کوشش کی جارہی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ گائوں کے باشندے حمید ولد بخش نے مسجد کی زمین کو اپنے بیٹے پرویز کے نام بیع کردیا ہے ۔جب کہ یوسف ولد بخش نے اسی زمین کے فرضی دستاویزات تیارکرکے اسے اپنے پوتے افسر کے نام کردیا ہے ۔گرام پردھان عبدالستار نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مسجد کی ایک انچ زمین پر بھی زمین مافیائوں کا ناجائز قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ گائوں اور مسجد کی اس امانت کی حفاظت کے لئے وہ تمام قانونی کارروائی کریں گے اور ان فرضی بیعناموں کو خارج کرائیں گے ۔انہوں نے بتایا کہ یہ مرغا گینگ اس سے قبل بھی زمینوں کی ہیرا پھیری اور فریب دہی میں ملوث رہ چکا ہے ۔اس سلسلہ میں ان کے خلاف دیوبند کوتوالی میں آئی پی سی 420کا مقدمہ پہلے سے درج ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ہاشم پورہ کے ایک تالاب پر قبضہ کرکے پانچ دکانیں غیر قانونی طریقہ سے تعمیر کرائی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ اس پورے نیٹ ورک میں عثمان عرف مرغا ،زاہد ،ارشاد ،وکیل ،فیضل ،یعقوب ،ساجد ،پرویز ،افسر ،حامد ،یوسف ،قیوم اور ایوب جیسے لوگ شامل ہیں جو پری پلان کے تحت دیوبند دیہات علاقہ میں ناجائز طریقہ سے زمینوں پر قبضہ کی وارداتوں کو انجام دے رہے ہیں ۔

Continue Reading

uttar pradesh

میں اہم تھا، یہی میرا وہم تھا، تدفین کے بعد سامنے آ جائے گی حقیقت

Published

on

آگرہ: مسجد نہر والی کے خطیب محمد اقبال نے خطبۂ جمعہ میں نمازیوں کو آخرت کی یاد دلاتے ہوئے دنیا کی حقیقت اور انسانی غفلت پر مؤثر گفتگو کی۔انہوں نے ایک جنازے میں شریک شخص کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ تدفین کے موقع پر قبرستان میں ایک قبر پر یہ جملہ لکھا دیکھا: میں اہم تھا، یہی میرا وہم تھا۔ یہ جملہ دیکھ کر میرے قدم چند لمحوں کے لیے رک گئے۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ انسان دنیا میں عہدے، دولت، شہرت اور فالوورز کی وجہ سے خود کو بہت اہم سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ موت کے بعد انسان کو اپنی اصل حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم دنیا کی زندگی کو کھیل، تماشا، زینت اور باہمی فخر قرار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سورۃ التکاثر میں انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ مال و جاہ کی کثرت کی طلب اسے غفلت میں ڈال دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ قبر تک پہنچ جاتا ہے۔ قبر میں انسان کا عہدہ، دولت اور شہرت کام نہیں آئے گی، بلکہ تقویٰ اور نیک اعمال کام آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بغیر دفتر، دکان، فیکٹری یا ادارہ نہیں چل سکتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی دنیا اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ اہم وہ نہیں جو لوگوں میں مشہور ہو، بلکہ اہم وہ ہے جو اللہ کے نزدیک مقبول ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی صورتوں اور مال کو نہیں بلکہ اس کے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔انہوں نے نمازیوں سے اپیل کی کہ دنیا کی خوش فہمی اور غفلت میں زندگی گزارنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا، تقویٰ اور نیک اعمال کے حصول کی کوشش کی جائے، کیونکہ حقیقی کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

گورنمنٹ ماڈل ڈگری کالج کپوری گووند پور میں اے آئی ورکشاپ کا انعقاد

Published

on

دیوبند:اے آئی کے ذریعہ سے صنعت کاری اور کاروبار کو ترقی دینے اور اسے موثر بنانے کی معلومات دینے کے مقصد سے گورنمنٹ ماڈل ڈگری کالج کپوری گووند پور میں گزشتہ روز ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ۔اس ورکشاپ کے دوران پیسہ کو جمع کرنا اور سرمایہ کاری کرنے کی تیاری میں آرٹی فیشیل انٹلی جینس کا استعمال کرنے کے موضوع پر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر راکیش کمار نے کہا کہ اے آئی کے استعمال اور اس کے ذریعہ سے تمام معاملات ،زبان اور اس کے استعمال کو پراثر بنانے کے لئے اقدامات کئے جاسکتے ہیں ۔یعنی اے آئی کے ذریعہ ہم صنعت کاری اور روزگار وسرمایہ کاری کو مزید مؤثر بناسکتے ہیں ۔ورکشاپ میں شریک اے آئی کے ماہرین نے طلبہ وطالبات کو نئے اقدامات اور سائنٹیفکٹ طریقوں سے ہرمیدان میں آگے بڑھنے اور نئے ایجاد کردہ طریقوں سے اپنے کاروبار کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔اے آئی کے ماہرین نے طلبہ کو اس بات کے لئے بھی تیار کیا کہ وہ اس جدید دور میں اے آئی کے ذریعہ سے اپنے مسائل کو حل کرنا سیکھیں ۔ڈاکٹر پورنیما سنگھ نے کہا کہ موجود ہ وقت میں اے آئی کی تعلیم اور تکنیکی میدان کے ساتھ ساتھ صنعت کاری ،سرمایہ کو جمع کرنا اور کاروبار وتجارتی منصوبہ کاری کرنا اور سرمایہ کاری کرنے کے لئے نہایت اہم رول ادا کئے جاسکتے ہیں ۔اس ورکشاپ میں ڈگری کالج کے اسٹاف ،مہمانوں واساتذہ کے علاوہ طلبہ وطالبات بڑی تعداد میں موجود رہے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network