تازہ ترین
ریاستی محکمۂ تعلیم میں بڑی بدعنوانی، کلرک نے ڈیجیٹل ریکارڈ میں جعل سازی کے ذریعہ کیا 76 لاکھ کا غبن،انتظامیہ نے کیا معطلامارت شرعیہ میں مولانا ابو نصر فاروق و شہاب الدین سمیت دیگر کئی شخصیات کے لئے تعزیتی نشست کا انعقادڈاکٹر شعیب راہی کی ادبی خدمات پر کامیاب سیمینارمنعقد،پروفیسر احمد بدر سند اعزاز سے سرفرازسیوان:جیویکا گتھنی نے کامیابی سے’یوتھ موبلائزیشن مہم‘ کاکیا انعقاد،روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے تحت 10 نوجوانوں کو سیکیورٹی گارڈ کے عہدوں کے لیے کیاگیا منتخبسر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کے موقع پر سینٹ جانس کالج میں مضمون نویسی کا مقابلہ’تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی ضروری‘،شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں جشن سر سید تقریبات کا آغاز’گنے کی قیمت 700 روپے نہیں تو بی جے پی کو ووٹ نہیں‘ ،کسانوں کی میٹنگ میں بھارتیہ کسان یونین کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما کا اعلانسپریم کورٹ مارچ پر راہل گاندھی کو سمن،ہمیں کوئی دھمکا نہیں سکتا،ہم جانتے ہیں کہ عدالت کے اندر اور باہر کون کیا کہہ رہا ہے،چیف جسٹس کا تبصرہ
بہار

جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر سے 2فضلاء اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ ازہر مصر روانہ

(پی این این)
مونگیر: آج جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے دو فضلاء، مولانا محمد آصف رحمانی (مونگیر) اور مولانا مشکور عثمانی رحمانی (ارریہ)، کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ رحمانی سے جامعہ ازہر مصر رخصت کیا گیا۔
یہ مبارک سفر دراصل جامعہ رحمانی کے سابق سرپرست امیر شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی دوراندیشی اور موجودہ سرپرست امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی خصوصی توجہ اور کوششوں کا ثمرہ ہے۔ 2018ء میں جامعہ رحمانی اور جامعۃ الازہر کے درمیان ہونے والے تاریخی تعلیمی معاہدے کے بعد جامعۃ الازہر نے جامعہ رحمانی کے نصاب کو با ضابطہ تسلیم کیا۔ اس کے نتیجے میں جامعہ رحمانی کے فضلاء کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ کا موقع فراہم ہوا۔
اس سلسلے کا آغاز جامعہ رحمانی کے دو فضلاء مولانا عبد الاحد رحمانی اور مولانا عبد العلیم رحمانی سے ہوا، جو اپنی جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد سے ہی جامعہ رحمانی میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے بعد مولانا فاخر صبا رحمانی اور مولانا سالم رحمانی نے یہ سفر جاری رکھا۔ آج اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا آصف رحمانی اور مولانا مشکور عثمانی رحمانی کو جامعہ رحمانی سے جامعۃ الازہر مصر رخصت کیا گیا۔
اس موقع پر جامعہ رحمانی کے سرپرست امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے سفر پر جانے والے دونوں فضلاء کو خصوصی نصیحت کی کہ وہ لغویات اور فضولیات سے بچتے ہوئے اپنی زندگی کا مقصد صرف اور صرف علم کو بنائیں اور بھرپور محنت سے مہارت حاصل کریں۔ جامعہ رحمانی کے ناظم، مولانا محمد عارف رحمانی نے کہاکہ “ان شاءاللہ آئندہ بڑی تعداد میں جامعہ رحمانی کے فارغین کو اعلی تعلیم کیلئے جامعہ ازہر بھیجنے کا منصوبہ ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ یہاں کے فارغین اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔”
جامعہ رحمانی کے ناظمِ تعلیمات، استاذ حدیث مولانا جمیل احمد مظاہری نے کہاکہ “جامعہ رحمانی کی تعلیم و تربیت کا معیاربہت بلند ہے، خصوصاً عربی زبان کی خصوصی محنت کی وجہ سے یہاں کا نصاب جامعہ ازہر مصر میں مقبول ہے لہذا یہاں کے فارغین کا بآسانی جامعہ ازہر میں داخلہ ہوجاتا ہے۔ یہ جامعہ رحمانی اور اس کے مخلصین کے لیے باعثِ افتخار ہے کہ ہمارے طلبہ دنیا کی عظیم اسلامی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔”نائب ناظم تعلیمات مولانا مفتی محمد صالحین ندوی نے کہا کہ دنیا کی کئی بڑی جامعات کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور مستقبل قریب میں جامعہ رحمانی کے فضلاء کے لیے عالمی سطح پر تعلیمی سفر کے مزید دروازے کھلنے والے ہیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔