تازہ ترین
ریاستی محکمۂ تعلیم میں بڑی بدعنوانی، کلرک نے ڈیجیٹل ریکارڈ میں جعل سازی کے ذریعہ کیا 76 لاکھ کا غبن،انتظامیہ نے کیا معطلامارت شرعیہ میں مولانا ابو نصر فاروق و شہاب الدین سمیت دیگر کئی شخصیات کے لئے تعزیتی نشست کا انعقادڈاکٹر شعیب راہی کی ادبی خدمات پر کامیاب سیمینارمنعقد،پروفیسر احمد بدر سند اعزاز سے سرفرازسیوان:جیویکا گتھنی نے کامیابی سے’یوتھ موبلائزیشن مہم‘ کاکیا انعقاد،روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے تحت 10 نوجوانوں کو سیکیورٹی گارڈ کے عہدوں کے لیے کیاگیا منتخبسر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کے موقع پر سینٹ جانس کالج میں مضمون نویسی کا مقابلہ’تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی ضروری‘،شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں جشن سر سید تقریبات کا آغاز’گنے کی قیمت 700 روپے نہیں تو بی جے پی کو ووٹ نہیں‘ ،کسانوں کی میٹنگ میں بھارتیہ کسان یونین کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما کا اعلانسپریم کورٹ مارچ پر راہل گاندھی کو سمن،ہمیں کوئی دھمکا نہیں سکتا،ہم جانتے ہیں کہ عدالت کے اندر اور باہر کون کیا کہہ رہا ہے،چیف جسٹس کا تبصرہ
uttar pradesh

’تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی ضروری‘،شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں جشن سر سید تقریبات کا آغاز

(پی این این)
میرٹھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تعلیم گاہ ہی نہیں تربیت کا بھی ادارہ ہے۔ یہ یونیورسٹی ہمیں اپنے بڑوں کا بھی ادب کرنا سکھاتی ہے۔ اب جتنا لو گ شاہ رخ خان کو جانتے ہیں اتنا ہی سر سید کو بھی جانتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جتنا تحقیقی کام سر سید پر ہوا ہے شاید ہی ہندوستان کی کسی دیگر اہم شخصیت پر ہوا ہو۔ اب تک597پی ایچ ڈی سر سید پر ہو چکی ہیں اور یہ صرف اردو زبان میں ہی نہیں بلکہ ہندی، تیلگو، ملیا لم سمیت دیگر موضوعات میں بھی سر سید پر تحقیق ہوچکی ہے۔
ساتھ ہی دنیا بھر کے تقریبا97 مختلف رسائل و جرائد میں ریسرچ پیپر شائع ہوچکے ہیں۔یہ الفاظ تھے صدر شعبہئ لائبریری سائنس چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ پروفیسر جمال احمد صدیقی کے جو یہاں شعبہئ اردو اور سر سید ایجو کیشنل سوسائٹی کے مشترکہ اہتمام میں منعقد سہ روزہ جشن سر سید کے افتتاحی پروگرام میں مہمان خصوصی کے حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر اتویر سنگھ نے کہا کہ سر سید جیسی شخصیات پر اس طرح کے پروگرام بہت ضروری ہیں۔ایسے پروگراموں سے طالب علموں کی بہتر رہنمائی ہوتی ہے۔ صرف تعلیم کا رجحان ہی ضروری نہیں ہوتابلکہ اس کا مقصد بھی بہت لازمی ہے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی ضروری ہیں۔ تعلیم کسی خاص طبقے یا فرقے کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے ضروری ہے۔ ہمیں صرف اپنی بات ہی نہ کہنی چاہئے بلکہ کسی کو سننا بھی سیکھنا چاہئے اور جس نے سننا سیکھ لیا سمجھ لو اس نے بہت بڑا کام انجام دے لیا۔فیض محمود نے کہا کہ سر سید نے علی گڑھ جیسا تعلیمی ادارہ قائم کرکے بہت بڑا کار نا مہ انجام دیا۔
آج وہاں کے فارغین نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں اپنا بلکہ اپنے ادارے اور ملک کا نام روشن کررہے ہیں۔ میں اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اتنی بڑی اور عظیم شخصیت کے پروگرام میں شر کت کر رہا ہوں۔ اس طرح کے پروگرام منعقد ہوتے رہنے چاہئیں۔ آفاق احمد خاں نے کہا کہ سر سید احمد خاں نے انگریزوں کے ساتھ بھی صلہ رحمی سے کام لیا اور ان سے بھی کافی کام لیے۔انگلستان جا کر وہاں کے تعلیمی نظام کو سمجھا اور یہاں پر اس کو قائم کیا۔ سر سید نے قوم کو جدید تعلیم سے آشنا کیا۔ سائنٹفک سوسائٹی کا قیام بھی اسی مقصد سے کیا گیا۔ آپ نے چھوٹا سا مدرسہ قائم کر کے اسے جامعہ میں تبدیل کردیا۔ اور پوری دنیا میں تعلیم کو عام کرنے کا کام کیا۔انہوں نے تعلیم نسواں پر بھی خاص زور دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان ہندو ستان کی دو خوبصورت آنکھیں ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم ابھی تک دوسرا سر سید پیدا نہ کر سکے۔
مولانا سید نایاب الدین نایاب نے کہاکہ سر سید اور ہمارے علما کے درمیان کچھ اختلاف تھا۔مولانا قاسم نانوتوی اور سر سید دو نوں کی تصنیفات شائع ہورہی تھیں۔ اس وقت نانوتوی جنگ آزادی کی مہم آگے بڑھا رہے تھے اور سر سید کے کارناموں کو بھی سراہتے تھے۔ دونوں کے نظریات میں اختلاف تھا۔ کاموں میں اختلاف نہیں تھا۔خورشید حیات نے کہا کہ جب ہم سر سید کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں عزیز النساء کو بھی یاد کرناضروری ہے۔ کیو نکہ وہ ان کی ماں تھیں۔ سر سید کی پرورش میں عزیزالنساء کی تربیت کا بڑا کردار تھا۔ جب مائیں اپنی تہذیب اور معاشرہ سے جڑتی ہیں تو پورے معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی نظر آتی ہے۔ڈاکٹر ذکی طارق نے کہا کہ سر سید نے جو خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر آج نو نہالوں میں نظر آ تی ہے۔ کسی بھی یونیورسٹی میں اس طرح کے پروگرام کم ہی نظر آ تے ہیں۔ آج لوگ چندہ تو خوب کرتے ہیں۔ سر سید بھی تعلیم کے لیے چندہ کرتے تھے اور آج بھی لوگ چندہ کرتے ہیں لیکن سر سید کے چندہ سے یونیورسٹی کا قیام عمل میں آ یا۔ آج کے دور میں چندہ جمع کرنے والے حضرات کو سوچنے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ سر سید کے بہت سے پہلو ہیں کسی ایک پہلو پر بھی بات کریں تو کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں مگر سب سے ضروری بات یہ ہے کہ سر سید کے پیغام کو آگے کیسے بڑھائیں۔ہمیں سر سید کو گھر گھر، اسکول،اسکول پہنچاناہے۔ سر سید کے کئی پہلو ایسے ہیں جن پر ریسرچ ہونا چاہئے۔ دیگر زبانوں میں بھی سر سید پر جوکام ہوا ہے ان پر بھی کام کی ضرورت ہے۔ سر سید کا تعلیم کا فروغ ہی اصل مقصد تھا۔اپنے صدارتی خطبے میں ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی نے کہا کہ سر سید پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ جو لوگ دنیا میں آکر اس کی تصویر بدلتے ہیں دنیا انہیں کو یاد کرتی ہے۔ سر سید نے پوری قوم اور پورے ملک کی قسمت بدل ڈالی۔ وہ لکھتے بہت تھے۔ ان کے اصل کاموں میں دینی اور علمی کے علاوہ صحافت بھی شامل تھا۔ سر سید نے تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس پر بھی کافی زور دیا۔ وہ جہاں گئے وہاں ادارہ قائم کیا۔ سر سید کو رفقاء بھی خوب اچھے ملے۔پروگرام میں ڈاکٹر آصف علی، انجینئر رفعت جمالی،محمد عابد علی قاسمی، سیدہ مریم الٰہی،شاہویز عالم، محمد امجد، محمد عمران، محمد شمشاد، سعید احمد سہارنپوری و دیگر موجود رہے۔

متعلقہ خبریں