تازہ ترین
مالیگاؤں میں ابوبکر علی حسن چودھری کا شاندار عوامی استقبال، دیولالی اسمبلی حلقے کی اہم ذمہ داری ملنے پر رابطہ آفس میں جشن کا سماںجامعہ ملیہ اسلامیہ کے ملازمین نے بیس سالہ تعطل کے تاریخی اور خوش اسلوب حل کے لیے انتظامیہ کو سراہابڑی تعداد میں رام لیلا میدان ریلی میں شرکت کی اپیلسیتامڑھی کےنانپور میں شراب مافیا پر پولیس کا بڑا وار، وِنود ٹریڈرس کے گودام سے 4,447.8 لیٹر غیر ملکی شراب ضبط،8 شاطرگرفتارارریہ:اسکولوں میں ’’محفوظ بچپن مہم‘‘ کے تحت بیداری پروگرام منعقدگیاجی: ایس آئی کے گھر سے 2 لاکھ نقد اور 12 لاکھ کے زیورات کی چوریتعلیمی بیداری اور معیار سے ہی ترقی کرے گامعاشرہ : منوری بیگم، دیوبند یونانی میڈیکل کالج میں ہونہار طلباکے اعزاز ی پروگرام کا انعقادمدارس کی خدمات کو منظر عام پر لانے کی ضرورت: پروفیسر خواجہ اکرام الدین, شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں ادب نما کے تحت ”اردو کے فروغ میں مدارس کا کردار“ پرآن لائن پروگرام کا انعقاد
دلی این سی آر

بڑی تعداد میں رام لیلا میدان ریلی میں شرکت کی اپیل

نئی دہلی:ویلفیئر پارٹی آف انڈیا دہلی اور قریبی ریاستوں کے عوام سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ انڈیا الائنس کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور متنازعہ اسپیشل انیشیٹیو ریویژن ( SIR) کے رد کے جانے کے مطالبہ کو لے کر یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں کی جانے والی ریلی میں بڑی تعداد میں شریک ہوکر اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیں۔
ویلفیئر پارٹی کے نیشنل جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ اس وقت ہمارا ملک شدید سیاسی اور دستوری بحران سے گزرہا ہے۔ نہ صرف یہ کہ متنازعہ ایس آئی آر کے ذریعہ13کروڑ سے زائد ووٹرس کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کردئے گئے بلکہ ان کی شہریت پر بھی سوال کھڑا کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ووٹر لسٹ سے بہت سوچ سمجھ کر ان ناموں کو حذف کیا گیا جو حکمران پارٹی کے ووٹرس نہیں ہوسکتے ہیں، جس میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف ایس آئی آر کے دوران ہی ووٹر لسٹ سے نام نہیں نکالے گئے بلکہ ایس آئی آر سے پہلے اور ایس آئی آر کے بعد بھی ناموں کو حذف کیا گیا۔ کسی بھی جمہوری ملک میں انتخابات کے موقع پر ووٹ کے اپنے جمہوری و دستوری حق کا استعمال ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اسی طرح کسی بھی جمہوریت میں الیکشن کمیشن ایک غیر جانبدار اور خود مختار ادارہ ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت نے سب سے پہلے الیکشن کمیشن کے انتخابی عمل میں ردوبدل کرکے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہاں اس کی اپنی پسند کے لوگ ہی مامور ہوتے رہیں اور پھر پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کی بنیاد پر ایک ایسا قانون وضع کردیا کہ الیکشن کمشنرس کا کبھی بھی احتساب نہ کیا جاسکے۔ نتیجتا موجود چیف الیکشن کمشنر نے اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے وہ سب کرڈالا جس کی کسی بھی جمہوریت میں توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا اس وقت مسئلہ صرف سیاسی پارٹیوں کا ہی نہیں ہے بلکہ اس ملک میں آزادانہ انتخابات کی عمل آوری، عوام کے حق خودارادیت کی بقاء اور شہری و دستوری حقوق کے باقی رہنے کا بھی ہے۔ اگر ہم اب بھی نہ اٹھے تو ہمارے بزرگوں نے عظیم الشان قربانیاں دے کر جو دستوری و شہری حقوق ہمیں دلائے تھے، اپنی پسند اور مرضی کی حکومت لانے کا جو اختیار ہمیں ملا تھا اور سب سے بڑ کر یہ کہ اس ملک کے آزاد شہری ہونے کا ہمارا جو دستوری حق ہے۔
،ا وہ بھی ہم سے چھن جائے گا۔

متعلقہ خبریں