تازہ ترین
مالیگاؤں میں ابوبکر علی حسن چودھری کا شاندار عوامی استقبال، دیولالی اسمبلی حلقے کی اہم ذمہ داری ملنے پر رابطہ آفس میں جشن کا سماںجامعہ ملیہ اسلامیہ کے ملازمین نے بیس سالہ تعطل کے تاریخی اور خوش اسلوب حل کے لیے انتظامیہ کو سراہابڑی تعداد میں رام لیلا میدان ریلی میں شرکت کی اپیلسیتامڑھی کےنانپور میں شراب مافیا پر پولیس کا بڑا وار، وِنود ٹریڈرس کے گودام سے 4,447.8 لیٹر غیر ملکی شراب ضبط،8 شاطرگرفتارارریہ:اسکولوں میں ’’محفوظ بچپن مہم‘‘ کے تحت بیداری پروگرام منعقدگیاجی: ایس آئی کے گھر سے 2 لاکھ نقد اور 12 لاکھ کے زیورات کی چوریتعلیمی بیداری اور معیار سے ہی ترقی کرے گامعاشرہ : منوری بیگم، دیوبند یونانی میڈیکل کالج میں ہونہار طلباکے اعزاز ی پروگرام کا انعقادمدارس کی خدمات کو منظر عام پر لانے کی ضرورت: پروفیسر خواجہ اکرام الدین, شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں ادب نما کے تحت ”اردو کے فروغ میں مدارس کا کردار“ پرآن لائن پروگرام کا انعقاد
دلی این سی آر

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ملازمین نے بیس سالہ تعطل کے تاریخی اور خوش اسلوب حل کے لیے انتظامیہ کو سراہا

نئی دہلی:سہ پہر ساڑھے تین بجے انصاری آڈیٹوریم کے احاطے میں منعقدہ ’تشکر‘پروگرام جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دوہزار سے زائد تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کے ارکان نے شرکت کی، یونیورسٹی کے اساتذہ اور عملہ نے طلبہ یونین انتخابات کے مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے پر جامعہ انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے طلبہ کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے اور تدریسی و امتحان کے عمل کو ہر قیمت پر بلا تعطل جاری رکھنے میں انتظامیہ کی انتہائی دیانت داری اور دانشمندی کو سراہا۔
جامعہ کے ملازمین نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران حکومتِ ہند، بالخصوص وزارتِ تعلیم اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ غیر متزلزل حمایت، مشوروں اور رہنمائی کا بھی دل سے شکریہ ادا کیا۔یہ بات سامنے آئی ہے کہ یونین انتخابات کے دیرینہ مسئلے کو بات چیت اور غور و خوض کے ذریعے حل کرنے کے لیے جامعہ انتظامیہ کی جانب سے احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ یہ تقریباً آٹھواں اجلاس تھا۔ اس اجلاس کے نتیجے میں دو دہائیوں سے جاری تعطل کا ایک خوشگوار اور جمہوری حل نکلا جو طلبہ تک پہنچنے اور ان سے رابطہ قائم کرنے کے لیے انتظامیہ کی مسلسل کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اساتذہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی موجودہ انتظامیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بیس سالہ تعطل کو ختم کیا ہے،ایک ایسا عرصہ جس میں سابقہ انتظامیہ یا تو اس معاملے کو ٹالتی رہیں یا اسے یوں ہی چھوڑ دیا۔ اساتذہ کے مطابق، جامعہ انتظامیہ نے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی مخلصانہ آمادگی اور مستقل سنجیدگی کے ذریعے جمہوریت، مکالمے اور طلبہ دوست نقطہ نظر کے تئیں ایک مثالی عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
اگرچہ اساتذہ نے اٹھارہ اکتوبر سے جامعہ انتظامیہ کے سب کو ساتھ لے کر چلنے والے، مشاورتی اور مستقبل پر نظر رکھنے والے طرزِ عمل کی تعریف کی، تاہم انھوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ ان افراد یا گروہوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے جو یونیورسٹی کی دیواروں پر ملک مخالف تحریریں اور نعرے لکھنے، نیز یونیورسٹی کے دروازوں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔مزید برآں، اساتذہ نے گزشتہ دو ہفتوں کے واقعات کو سوشل میڈیا پرمتعدد ٹویٹس، انسٹاگرام ریلز اور فیس بک پوسٹس کے ذریعے فاتحین اور ناکام ہونے والوں کے درمیان ایک مقابلے کے طور پر پیش کیے جانے کی شدید مذمت اور مخالفت کی۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ اس کا مقصد جامعہ برادری میں تفریق پیدا کرنا اور اسے گروہوں میں تقسیم کرنا تھا۔ اساتذہ نے اس بات پر بھی گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ انتظامیہ، اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اراکین، پراکٹوریل ٹیموں، اور ہاسٹل کے پرووسٹس اور عملہ کو طلبہ کے تئیں غیر حساس یہاں کہ مخالفانہ رویہ رکھنے والے کے طور پر پیش کر کے انھیں بدنام کرنے کی کوششیں کی گئیں۔
جامعہ کے تدریسی اور غیر تدریسی عملہ نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ رات جاری حکم نامے نے ان بیانیوں کا حتمی طور پر خاتمہ کر دیا ہے اور ان کے اصل مقاصد اور منصوبوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس منفی رویے کے برعکس، کل کے واقعات نے انتظامیہ کے اس عزم کو ظاہر کیا کہ وہ طلبہ کے ساتھ بات چیت کرنے، ان کی بات سننے، اور ان کے بہترین مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے مسئلے کا ایک جمہوری حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ طلبہ کے تعلیمی شیڈول پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسٹاف نے نشاندہی کی کہ گزشتہ رات کا نتیجہ کسی ایک فریق کی دوسرے پر فتح نہیں تھا، بلکہ یہ جامعہ کی ان اقدار اور روایات کی شاندار فتح تھی جن کی بنیاد مکالمے، وقار اور برادری کے ہر فرد کے لیے باہمی احترام پر رکھی گئی ہے۔
بات چیت کا راستہ کھلا رکھنے اور اپنے طلبہ کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم رکھ کر جامعہ انتظامیہ نے ان بہترین روایات کی پاسداری کی ہے جنھیں یونیورسٹی کے وطن دوست اور حق پسند بانیوں اور سرپرستوں نے پروان چڑھایا تھا۔ اپنے ایک سو چھ ویں یومِ تاسیس پر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امن، عدم تشدد اور اخوت اس کے ادارہ جاتی کردار اور تعلیمی کلچر کی ایسی بنیادی اقدار ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

اساتذہ اور عملہ نے ’تشکر‘کی تقریب کے دوران کہاکہ ”یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، اس کی جمہوری روایات اور ادارے کی ان صدی قدیم اقدار کی فتح ہے، جنھیں آج تک انتہائی احتیاط کے ساتھ پروان چڑھایا اور محفوظ رکھا گیا ہے “ ۔

 

متعلقہ خبریں