Connect with us

Bihar

بانکی پور ضمنی انتخاب میں آر جے ڈی کاجیت کا دعویٰ، اتحادی جماعتوں سے ساتھ دینے کی اپیل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:پٹنہ کی بانکی پور اسمبلی نشست پر ہونے والا ضمنی انتخاب نہایت دلچسپ ہونے کی توقع ہے۔ اس نشست پر مہاگٹھ بندھن کا مشترکہ امیدوار کون ہوگا، اس پر اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اسی دوران اس سیٹ پر امیدوار کے انتخاب کو لے کر آر جے ڈی اور کانگریس کے درمیان رسہ کشی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔دریں اثنا راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس بار بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرے گی۔
آر جے ڈی کے چیف ریاستی ترجمان شکتی سنگھ یادو نے پیر کے روز کہا کہ پارٹی کو پورا یقین ہے کہ بانکی پور اسمبلی کی یہ نشست اس مرتبہ آر جے ڈی کے حق میں جائے گی۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ مہاگٹھ بندھن کی تمام اتحادی جماعتیں اتحاد کے جذبے کے تحت پارٹی کا بھرپور ساتھ دیں گی۔
شکتی سنگھ یادو نے پیر کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی ان کی پارٹی نے انتخابی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں آر جے ڈی کے امیدوار کو تقریباً 50 ہزار ووٹ حاصل ہوئے تھے، جو اس حلقے میں پارٹی کے بڑھتے ہوئے عوامی اثر و رسوخ کی واضح علامت ہیں۔آر جے ڈی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بانکی پور اسمبلی حلقے میں پارٹی کے کارکن مسلسل زمینی سطح پر سرگرم رہے ہیں اور ایسی مضبوط بنیاد تیار کر لی گئی ہے جس کے بل بوتے پر حکمراں اتحاد کے امیدوار کو شکست دی جا سکتی ہے۔شکتی سنگھ یادو نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ مہاگٹھ بندھن کی تمام اتحادی جماعتیں اس ضمنی انتخاب میں آر جے ڈی کے امیدوار کی بھرپور حمایت کریں گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آر جے ڈی اس بار بانکی پور اسمبلی کا انتخاب پوری قوت اور تیاری کے ساتھ لڑے گی اور کامیابی حاصل کر کے دکھائے گی۔قابلِ ذکر ہے کہ بانکی پور بی جے پی کی روایتی اسمبلی نشست رہی ہے، جہاں سے پارٹی کے سینئر رہنما نتن نوین مسلسل کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔ نتن نوین کے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہونے کے بعد یہ نشست خالی ہوئی ہے۔

Bihar

بہار میں پنچایت انتخابات میں تاخیر کا امکان، نہ ہی ریزرویشن کا عمل ہوا ہے شروع اور نہ ہی ووٹر لسٹ ہوئی جاری

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں پنچایت عام انتخابات کے مقررہ وقت، یعنی دسمبر 2026 تک مکمل ہونے پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ انتخابات کے لیے عہدوں کے اعتبار سے ریزرویشن کے تیسرے مرحلے کا عمل اب تک شروع نہیں ہو سکا ہے۔ ادھر موجودہ ریاستی الیکشن کمشنر کی مدتِ کار ختم ہونے میں بھی صرف تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔اب تک پنچایت انتخابات کے سلسلے میں صرف 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر مختلف عہدوں کے لحاظ سے آبادی کا تعین کرکے اس کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ دوسری جانب رواں سال کے چھ ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ووٹر لسٹ کی اشاعت، پولنگ مراکز کے تعین اور ریزرویشن جیسے اہم انتخابی مراحل کے آغاز کے لیے بھی ابھی تک کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
ادھر ریاستی الیکشن کمیشن کے موجودہ الیکشن کمشنر ڈاکٹر دیپک پرساد کی مدتِ ملازمت ختم ہونے میں بھی تقریباً تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔ ان کی میعاد 27 جولائی 2026 کو مکمل ہو جائے گی۔بھارتی انتظامی خدمت (آئی اے ایس) کے افسر ڈاکٹر دیپک پرساد کو 2020 میں ریاستی الیکشن کمیشن کا کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 2025 میں ان کی مدتِ کار میں ایک سال کی توسیع کی گئی تھی۔
اب اگر ریاستی حکومت نئے ریاستی الیکشن کمشنر کا تقرر کرتی ہے تو کمیشن کی سرگرمیوں کو دوبارہ پوری رفتار سے بحال کرنے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔ اور اگر نئے کمشنر کی تقرری میں تاخیر ہوئی تو محدود وقت میں پنچایت انتخابات کی تیاریوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔نئے الیکشن کمشنر کو سب سے پہلے نو تشکیل شدہ شہری بلدیاتی اداروں (اربن لوکل باڈیز) سمیت دیگر بلدیاتی اداروں میں انتخابات کے عمل کا آغاز بھی کرنا ہوگا۔
بہار پنچایتی راج ایکٹ، 2006 کے مطابق پنچایت انتخابات کے لیے ریاستی الیکشن کمیشن کی ہدایت، نگرانی اور کنٹرول میں ضلع سطح پر مختلف عہدوں کے لیے ریزرویشن کا تعین کیا جانا لازمی ہے۔پہلی بار ریزرویشن کا تعین 2006 میں کیا گیا تھا، جبکہ اس کے بعد مسلسل دو انتخابی ادوار مکمل ہونے پر 2016 میں دوسری مرتبہ ریزرویشن مقرر کیا گیا۔ اب تیسرے مرحلے میں تمام عہدوں کے لیے نئے سرے سے ریزرویشن کا تعین کرنا قانونی طور پر ضروری ہے۔اس عمل کے تحت تقریباً ڈھائی لاکھ عہدوں کے لیے ریزرویشن مقرر کیا جانا ہے۔ تاہم اس معاملے پر نہ ریاستی الیکشن کمیشن اور نہ ہی ریاستی حکومت نے اب تک کوئی باضابطہ پیش رفت یا اعلان کیا ہے۔

Continue Reading

Bihar

بہار کے نیاز خالد نور لندن کے ہاؤس آف لارڈز میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے سرفراز

Published

on

(پی این این)
پٹنہ: بہار کے نوجوان صنعت کار اور سماجی کارکن نیاز خالد نور کو برطانیہ کے باوقار ہاؤس آف لارڈز میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران سماجی کاروبار (سوشل انٹرپرینیورشپ) اور پائیدار کاروبار (سسٹین ایبل بزنس) کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں لندن اسکول آف بزنس اینڈ سائنس کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز کیا گیا۔
بہار کے ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والے نیاز خالد نور نے سال 2009 میں پٹنہ سے اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا تھا۔ آج ان کی کمپنی لوحیف گلوبلز پرائیویٹ لمیٹڈ ملک و بیرونِ ملک مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔
نیاز خالد نور سماجی خدمات کے میدان میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سال 2013 میں سیو دی کویسٹ ٹرسٹ کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے وہ نابینا اور بصارت سے محروم طلبہ کی تعلیم، فلاح و بہبود اور بااختیار بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
اعزاز حاصل کرنے کے بعد نیاز خالد نور نے کہا کہ یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے بہار، ان کی ٹیم اور ان تمام لوگوں کی ہے جن کے تعاون، اعتماد اور حوصلہ افزائی نے انہیں اس مقام تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز انہیں کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت کے میدان میں بھی مزید جذبے اور عزم کے ساتھ کام کرنے کی تحریک دے گا۔

Continue Reading

Bihar

چندونہ کالج کے نام کے بورڈ سے اردو ہٹائے جانے پر ہنگامہ، طلبہ اور مقامی لوگوں میں شدید غصہ

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:چندونہ کالج کے مرکزی دروازے پر نصب نام کی تختی (سائن بورڈ) کو لے کر بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ کالج انتظامیہ کی جانب سے برسوں پرانی روایت کو بدلتے ہوئے سائن بورڈ سے اردو زبان کو ہٹا دیا گیا ہے، جس کے بعد طلبہ، مقامی باشندوں اور دانشور طبقے میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، کالج کے مرکزی دروازے پر ہمیشہ سے کالج کا نام ہندی اور اردو، دونوں زبانوں میں درج رہتا تھا۔ تاہم حال ہی میں دروازے کی تزئین و آرائش یا نئے سائن بورڈ کی تنصیب کے دوران اردو کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا۔ نئے بورڈ پر ہندی کے ساتھ میتھلی زبان میں کالج کا نام تحریر کیا گیا ہے، جبکہ اردو کو شامل نہیں کیا گیا۔
اس تبدیلی پر مقامی لوگوں نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میتھلی ہماری تہذیب اور ثقافت کا حصہ ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں، لیکن اردو کو ہٹا دینا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں زبانوں کو مساوی احترام ملنا چاہیے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ اور طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے، اس لیے کسی سرکاری یا منظور شدہ تعلیمی ادارے کے سائن بورڈ سے اردو کو ہٹانا ریاست کی لسانی پالیسی اور آئینی جذبے کے خلاف ہے۔ طلبہ نے کہا، “ہم میتھلی زبان کا مکمل احترام کرتے ہیں، لیکن اردو کو ہٹانا سراسر غلط فیصلہ ہے۔ اردو ہماری شناخت ہے اور بہار کی دوسری سرکاری زبان بھی، اس لیے اسے پہلے کی طرح سائن بورڈ پر دوبارہ درج کیا جائے۔”اس معاملے پر کالج انتظامیہ کے خلاف طلبہ اور مقامی شہریوں میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی دروازے پر فوری طور پر اردو میں بھی کالج کا نام دوبارہ تحریر کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے جلد اس مسئلے کا حل نہ نکالا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس سلسلے میں کالج انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر لکھے جانے تک ان کی جانب سے کوئی بیان یا وضاحت سامنے نہیں آئی تھی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network